• صارفین کی تعداد :
  • 4441
  • 8/30/2008
  • تاريخ :

مستحب روزے

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ

بجز حرام اور مکروہ روزوں کے جن کا ذکر کیا گیا ہے سال کے تمام دنوں کے روزے مستحب ہیں اور بعض دنوں کے روزے رکھنے کی بہت تاکید کی گئی ہے جن میں چند یہ ہیں:

(۱) ہر مہینے کی پہلی اور آخری جمعرات اور پہلا بدھ جو مہینے کی دسویں تاریخ کے بعد آئے۔ اگر کوئی شخص یہ روزہ نہ رکھے تو مستحب ہے کہ ان کی قضا کرے اور اگر روزہ بالکل نہ رکھ سکتا ہوتو مستحب ہے کہ ہر دن کے بدلے ایک مد طعام۱۲ نخود سکہ دار چاندی فقیر کو دے۔

(۲) ہر مہینے کی تیرہویں،چودھویں اور پندرہویں تاریخ۔

(۳) رجب اور شعبان کے پورے مہینے کے روزے یا ان دو مہینوں میں جتنے روزے رکھ سکیں خواہ وہ ایک دن ہی کیوں نہ ہو۔

(۴)  عید نو روز کے دن

(۵) شوال کی چوتھی سے نویں تاریخ تک۔

(۶)ذی قعدہ کی پچیسویں اور انتیسویں تاریخ۔

(۷) ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے نویں تاریخ(یوم عرفہ)تک لیکن اگر انسان روزے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوری کی بنا پر یوم عرفہ کی دعائیں نہ پڑھ سکے تو اس دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔

(۸) ۱۸ذی الحجہ یعنی عید غدیر کے دن۔

(۹) ۴۲ ذی الحجہ یعنی عید مباہلہ کے دن۔

(۱۰)محرم الحرام کی پہلی،تیسری اور ساتویں تاریخ۔

(۱۱) ۱۷ربیع الاول یعنی رسول اکرم صلی اللہ و آلہ وسلم کی ولادت کے دن ۔

(۱۲)۱۵جمادی الاول۔

(۱۳)۲۷ رجب یعنی عید بعثت حضرت رسول اکرم صلی اللہ و آلہ و سلم کے دن جو شخص مستحب روزہ رکھے اس کے لئے واجب نہیں ہے کہ اسے اختتام تک پہنچائے بلکہ اگراس کا کوئی مومن بھائی اسے کھانے کی دعوت دے تو مستحب ہے کہ اس کی دعوت قبول کرلے اور دن میں ہی روزہ کھول لے خواہ ظہر کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔

وہ صورتیں جن میں مبطلات روزہ سے پرہیز مستحب ہے

پانچ اشخاص کے لئے مستحب ہے کہ اگرچہ روزے سے نہ ہوں،رمضان میں ان افعال سے پرہیز کریں جو روزے کو باطل کرتے ہیں:

(۱)وہ مسافر جس نے سفر میں کوئی ایسا کام کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور وہ ظہر سے پہلے اپنے وطن یا ایسی جگہ پہنج جائے جہاں وہ دس دن رہنا چاہتا ہو۔

(۲)وہ مسافر جو ظہر کے بعد وطن یا ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں وہ دس دن رہنا چاہتا ہو۔

(۳)وہ مریض جو ظہر کے بعد تندرست ہو جائے اور یہی حکم ہے اگر ظہر سے پہلے تندرست ہو جائے جبکہ وہ کوئی ایسا کام کر چکا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور اگر ایسا کام نہ کیا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ روزہ رکھے۔

(۴) وہ عورت جو دن میں حیض یا نفاس کے خون سے پاک ہو جائے۔

(۵)وہ کافرجو مسلمان ہو جائے اور اس نے روزہ باطل کرنے والا کوئی کام انجام نہ دیا ہو۔

روزے دار کے لئے مستحب ہے کہ روزہ افطار کرنے سے پہلے مغرب اور عشاء کی نماز پڑھے لیکن اگر کوئی دوسرا شخص اس کا انتظار کر رہا ہو یا اسے اتنی بھوک لگی ہو کہ حضور قلب کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکتا ہوتو بہتر ہے کہ پہلے روزہ افطار کرے لیکن جہاں تک ممکن ہو نماز فضیلت کے وقت میں ہی ادا کرے۔

                                              

  تحریر: (آقائے سیستانی) 

                                                   اسلام ان اردو ڈاٹ کام