• صارفین کی تعداد :
  • 3442
  • 8/30/2008
  • تاريخ :

تطھیر وتزکیہ

صاف پانی

تطھیر اگر چہ تمام عبادتوں  کا فلسفہ ھے اور خدا انسان کو زندگی کے تمام مراحل میں  پاک و پاکیزہ دیکھنا چاھتا ھے ”

وَ اللّٰہ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْن “ لیکن ماہ رمضان میں  یہ معنی زیادہ وسیع اور قابل لمس شکل میں  ظاھر ھوتا ھے

 ۔ اس با برکت مھینہ میں  انسان ایک خاص آمادگی کے ساتھ اپنی تطھیر کے لئے کوشش کرتا ھے ۔تطھیر روزہ کے ان اھم ترین اسرار میں  سے ھے جسکے ذریعے نہ صرف روزہ میں  بلکہ روزہ دار اور اس کے تمام اعمال میں  وزن پیدا ھو جاتا ھے ۔

ماہ رمضان میں  کرم الٰھی کے دسترخوان سے انسان کو بھت سے صفات وکمالات کسب کرنے ھیں  ،لیکن کسی بھی صفت اور کمال کا حصول اس بات پر متوقف ھوتاھے کہ انسان نے اپنے اندر کتنی طھارت پیدا کی ھے کیونکہ کمالات کا مسکن پاک انسان اور اسکی پاکیزہ روح ھے ، آلودہ مقامات پر یا تو کمالات پیدا ھی نھیں  ھوتے یا اگر پیدا ھوتے ھیں  تو وہ بھی آلودہ ھو جاتے ھیں  ۔ ماہ رمضان میں  انسان کو جو ایک سب سے بڑا کام کرنا ھے وہ یہ ھے کہ اس مبارک مھینے میں  اسے اپنی تطھیر کرنی ھے کیونکہ تطھیر کے بغیر انسان کو نہ تو روزوں  سے کچھ حاصل ھو گا ،سوائے بھوک اور پیاس کے ، نہ تلاوت قرآن سے اسکے اندر کوئی کمال پیدا ھو گا سوائے تھوڑے سے ثواب کے ، اور نہ ھی شب قدر سے کچھ کسب کر سکے گا سوائے بوریت اور تھکاوٹ کے ۔

مراحل تطھیر و طریقہ تطھیر

 تطھیر کوئی ذھنی اور مفھومی شئی نھیں  ھے کہ انسان ذھن میں  یہ تصور کر لے کہ میں  پاک ھونا چاھتا ھوں  اور وہ پاک ھو جائے بلکہ تطھیر کے لئے انسان کو چند مراحل سے گزرنا ھوتا ھے ۔

لباس و بدن کی تطھیر

 تطھیر کا سب سے ابتدائی اور آسان مرحلہ یہ ھے کہ انسان اپنے ظاھر یعنی اپنے لباس اور بدن کو پاک وصاف کرے۔ اتفاقاً اسلام نے اسی پھلے مرحلے کے لئے بھت تاکید کی ھے حتی کہ نظافت کو نصف ایمان قرار دیا ھے کیونکہ یہ بعد کے مراحل کو طے کرنے کے لئے ایک آغاز ھے۔ انسان جس طرح لباس و بدن کے ظاھرکی تطھیر کو اھمیت دیتا ھے اسی طرح اسے باطنِ بدن کی بھی تطھیر کرنی چاھئے اور باطن بدن کی تطھیر کا بھترین وسیلہ روزہ ھے۔اسی لیے روایات میں  روزہ کو زکات بدن سے تعبیر کیا گیا ھے۔

رسول اللہ(ص) نے فرمایاھے:”لِکُلِّ شَیٴٍ زَکَاةٌ وَ زَکَاةُ الْاَبْدَانِ الصِّیَامُ“ھر شی کی ایک زکات ھے اور بدن کی زکات روزہ ھے۔

 یعنی جس طرح زکاة مال کو پاک کرتی ھے اسی طرح روزہ بدن کو پاک وسالم کرتا ھے ۔

 حواس کی تطھیر

 دوسرے مرحلہ میں  انسان کو اپنے حواس کی تطھیر کرنی ھے ، حواس سے مراد انسان کی سماعت، بصارت، زبان اور دیگر حواس کی تطھیر ھے ۔ انسان اپنی آنکہ یعنی بصارت کی تطھیر کرے تاکہ” خائنة الاعین“ یعنی خیانتکار آنکھوں کا مصداق نہ بن جائے ، انسان اپنی سماعت کی تطھیر کرے تاکہ آلودہ سماعت سے خدا کا کلام نہ سنے ، ماہ رمضان میں  خدا کی طرف انسانوں  کو دعوت دی جاتی ھے لیکن گناھوں  سے آلودہ سماعتیں  اس دعوت کو نھیں  سن سکتیں  ۔انسان اپنی زبان اور قوت گویائی کی تطھیر کرے تاکہ غیبت ،فحش ، چاپلوسی ، اور غیر منطقی باتوں  سے آلودہ زبان پر نام خدا نہ آئے کیوں  کہ انسان کبھی اس بات پر راضی نھیں  ھوتا کہ وہ ایک نھایت پاک و پاکیزہ چیز کو کسی گندے اور نجس ھاتہ میں  پکڑا دے ۔

ماہ رمضان میں  حواس کی تطھیر کے لئے کثرت سے روایات وارد ھوئی ھیں ۔

حضرت زھرا سلام اللہ علیھا فرماتی ھیں :”مَا یَصْنَعُ الصَّائِمُ بِصِیَامِہ اِذَا لَمْ یُصِنْ لِسَانَہ وَسَمْعَہ وَبَصَرَہ وَ جَوَارِحَھ“روزہ دار اپنے اس روزے کا کیا کرے گاجس میں  وہ اپنی زبان، سماعت،بصارت اوراعضاء کو محفوظ نہ رکھے۔

خیال کی تطھیر

انسان کی ایک بھت بڑی اورباطنی آلودگی تخیّل کی آلودگی ھے ۔ آلودہ تخیّلات راہ علم و کمال میں  ایک سنگین رکاوٹ ھوتے ھیں  لھذا انسان کے لئے اھم ھے کہ وہ اپنے تخیلات کو پاک کرے اور اگر انسان کو اپنے خیالات کی پاکیزگی کا اندازہ لگانا ھے تو یہ دیکھے کہ وہ حالت خواب میں  کیا دیکھتا ھے کیوں  کہ حالت خواب میں  حواس کے سو جانے کے بعد تخیل زیادہ فعّال ھو جاتا ھے اور حالت بیداری کے تخیلات کو مجسم شکل میں  پیش کرتا ھے ۔

فکر کی تطھیر

یہ ایک بالاتر مرحلہ ھے لھذا سابقہ مراحل سے سخت تر بھی ھے۔ انسان خدا کی مدد کے بغیران مراحل تطھیر کو طے نھیں  کر سکتا اور مرحلہ جتنا سخت تر ھو اسی مقدار میں  خدا سے استمداد کی ضرورت بھی زیادہ ھے ۔ شیطان مسلسل فکر انسانی میں  وسواس ڈالتا رھتا ھے ”یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ “  اور انسان پر شیطانی وحی کا سلسلہ جاری رھتا ھے ” اِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لَیُوحُونَ اِلی اَوْلْیَائِھِمْ “ تاکہ انسان کے اندر فکری انحراف پیدا کر دے اور فکری انحراف انسان کے دین ،مذھب اور اعتقادات سب کو منحرف کر دیتا ھے یھاں  تک کہ یھی فکری انحراف لشکر امام علی علیہ السلام کے مقدس سپاھیوں  کو خوارج کی شکل میں  تبدیل کر کے خود امیر الموئمنین علیہ السلام کے مقابلے میں لا کر کھڑا کر دیتا ھے ۔ لھذا اس شیطانی شر سے بچنے کے لئے خدا نے جو طریقہ بتایاھے وہ یہ ھے کہ اپنے پروردگار کے ذریعے شیطانی وسواس سے پناہ طلب کرو:

”قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِکِ النَّاسِ اِلٰہ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الخَنَّاسِ “ یعنی خدا سے مدد طلب کرو ۔

جب انسان کی فکر پاک ھوجاتی ھے تو اسکے تعقّل، ادراک اور طرز فکر میں  بھی طھارت پیدا ھو جاتی ھے اور انسان افواھوں  و تخیلات کے بجائے عقل و وحی کو اپنے ادراک کا منبع قرار دیتا ھے ۔

تطھیر قلب

یھاں  قلب سے مراد دھڑکتا ھو ا دل نھیں  بلکہ اس سے مرادحقیقت انسان اور روح انسان ھے ۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد انسان کا دل عرش خدا اور حرم خدا بن جاتا ھے:”

اَلْقَلْبُ عَرْشُ الرَّحْمٰن “ قلب انسان عرش خدا ھے۔

” اَلْقَلْبُ حَرَمُ اللّہ وَ لَا تُسْکِنْ فِی حَرَمِ اللّٰہ غَیْرَہ “

”تمھارا دل حرم خدا ھے ۔اس میں  غیر خدا کوسکونت نہ دو۔“