• صارفین کی تعداد :
  • 4348
  • 8/16/2008
  • تاريخ :

مساجد کا کردار

مسجد سلطان احمد، استنبول، ترکی

مذہبی کردار

مساجد مسلمانوں کا مذہبی مرکز ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر نمازِ جماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں پنجگانہ نمازیں، نمازِ جمعہ اور عید کی نمازیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان کے اعمال بھی ہوتے ہیں۔ کسی زمانے میں مساجد کو خیرات اور زکوٰۃ کی تقسیم کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا جس کا رواج اب کم ہے۔ مسجدیں اکثر قرآن کی تدریس کے لیے بھی ایک مرکز کا کام دیتی ہیں۔ کئی مساجد میں مدارس بھی قائم ہیں جن سے مذہبی تعلیم کا فریضہ سرانجام دیا جاتا ہے۔

معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی کردار

مساجد مسلمانوں کا مرکز ہیں جس کا مقصد صرف مذہبی نہیں رہا بلکہ مسلمانوں کا معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی مرکز بھی مسجدیں رہی ہیں۔ باجماعت نمازیں مسلمانوں کے آپس کے تعلقات، میل جول اور حالات سے آگاہی کے لیے بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مساجد جنگوں اور دیگر ہنگامی حالات میں ایک پناہ گاہ کا کام بھی کرتی رہی ہیں۔ یہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ غیر مسلمین کو پناہ دینے کے لیے بھی استعمال ہوتی رہی ہیں مثلاً مسجدِ پیرس دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کے لیے پناہ گاہ رہی ہے۔

مساجد وہ جگہ ہیں جہاں سے اولین جامعات (یونیورسٹیوں) نے جنم لیا مثلاً جامعہ الازہر، جامعہ قرویین، جامعہ زیتونیہ وغیرہ۔ بیشتر مساجد میں مدارس قائم ہیں جن میں قرآن اور مذہب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مروجہ ابتدائی تعلیم بھی دی جاتی رہی ہے۔ مشرقی ممالک کے دیہات میں کئی مساجد میں عمومی مدارس بھی قائم ہیں۔ بعض مساجد کے ساتھ اسلامی مراکز موجود ہیں جہاں دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیقی مراکز قائم ہیں۔

مساجد کا سیاسی کردار بھی تاریخی طور پر شروع سے جاری رہا ہے۔ مسجد نبوی صرف نماز کے لیے استعمال نہیں ہوتی رہی بلکہ اس میں غیر ممالک سے آنے والے وفود سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور میں ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ مختلف غزوات اور سرایہ کے منصوبے زیرِ بحث لائے گئے۔ صدیوں تک مساجد میں انقلابی تحریکوں نے جنم لیا کیونکہ وہ مسلمانوں کے رابطہ کا ایک اہم ذریعہ رہی ہیں۔ جدید دور میں بھی مساجد کا سیاسی کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس کی واضح مثال لال مسجد اسلام آباد کی ہے۔ حکومتیں بھی مساجد اور مساجد کے ذمہ داران کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔