• صارفین کی تعداد :
  • 7417
  • 7/8/2008
  • تاريخ :

خربوزہ

بے شمار امراض کا شافی پھل

خربوزہ

خربوزہ برصغیر پاک و ہند، افغانستان اور ایران میں پایا جاتا ہے۔ مختلف علاقوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس کی اقسام مختلف ہیں لیکن اس کی افادیت کم و بیش ہر قسم میں ایک جیسی ہیں۔ تربوز کی طرح یہ بھی پانی کا وافر جزو رکھنے والا پھل ہے۔ جس کا چھلکا، گودا اور بیج غذائی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ خربوزہ ریتیلے علاقے اور خصوصاً دریا کے کناروں پہ خوب پھلتا پھولتا ہے۔ خربوزے کا ذائقہ، رنگ، شکل و صورت، وزن، گودا، چھلکا، بیج اور پانی کا جزو مختلف اور اس علاقے پر منحضر ہوتا ہے جہاں خربوزہ پیدا ہوتا ہے۔ خربوزے کی سب سے اچھی، مقبول اور خوش ذائقہ قسم میں چھلکا نرم، باہر سے زرد اور اندر سے سفید یا زعفران کے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کے بیج بھی نرم ہوتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں لمبوترے خربوزے پائے جاتے ہیں۔ ان میں پانی اور گودا خوب اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔

 

عمدہ خربوزہ ذائقہ میں میٹھا، تاثیر میں سرد، بلغم، صفرا اور ہوا کو قابو میں رکھنے والا، پیشاب آوَر، مصفی بدن، قبض کھولنے والا، خون بنانے والا اور جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھنے والا پھل ہے۔ اس کا استعمال ریاح کو دور کرتا ہے۔ اجابت باقاعدہ بناتا ہے اور پیٹ کے کیڑے خارج کرتا ہے۔ خربوزے کا چھلکا سائے میں خشک کرکے اسے ابال کر جوشاندہ پئیں تو پتھریاں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ پیشاب کی تکلیف دور ہوجاتی ہے اور آنتیں صاف ہوجاتی ہیں۔ اس کا بیج خشک کر کے مغز حاصل کرتے ہےں جو متعدد پکوانوں اور مقویات میں استعمال ہوتا ہے۔ خربوزے کا مغز دل و دماغ کے لیے تقویت کا باعث اور یاد داشت تیز کرنے کا سبب بنتا ہے۔ خربوزہ ہمیشہ کھانا کھانے کے ایک گھنٹہ بعد استعمال کرنا چاہیے۔ اس کی معتدل مقدار ہی سود مند ہوتی ہے۔ اضافی مقدار کا استعمال صفرا کی زیادتی کا سبب بنتی ہے۔ بھوک ختم یا بے قاعدہ کردیتی ہے۔ زیادہ مقدار میں خربوزہ کھانے سے پیٹ میں گیس، صفرا اور بخار کی شکایت لاحق ہوجاتی ہے۔ خربوزہ کھانے کے بعد دودھ نہیں پینا چاہیے۔ دودھ کی بجائے چینی کا شربت استعمال کرنا اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ جس طرح آم کھانے کے بعد دودھ کی لسی پینا مفید ہوتا ہے، اسی طرح خربوزے کے بعد شربت پینا نافع ہوتا ہے۔ اعتدال کے ساتھ خربوزے کا استعمال جگر اور اس کی کارکردگی پر اچھا اثر ڈالتا ہے لیکن زیادہ مقدار جگر کو ہی نقصان پہنچاتی ہے۔ مناسب مقدار میں خربوزہ کھانے والے افراد جگر کی خرابی اور یرقان سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کی قوت ہاضمہ بڑھتی ہے، بھوک چمک اٹھتی ہے اور کمزوری کا تدارک ہوتا ہے۔

 

خوب پکے ہوئے خربوزے کی طرح اس کا جوس بھی موثر اور مفید ہوتا ہے۔ اس کا گودا اتنا رس بھرا ہوتا ہے کہ زیادہ چبانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ خربوزہ ہر عمر کے فرد کے لیے مفید اور مناسب ہے لیکن شرط یہی ہے کہ معتدل مقدار میں کھایا جائے اور کبھی خالی پیٹ نہ استعمال کیا جائے۔