• صارفین کی تعداد :
  • 2322
  • 6/17/2008
  • تاريخ :

کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی

احمد فراز

 

کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی

وگرنہ زندگی ہم نے بھی کیا سے کیا نہیں کی

 

ہر اک سے کون محبت نباہ سکتا ہے

سو ہم نے دوستی یاری تو کی ، وفا نہیں کی

 

شکستگی میں بھی پندارِ دل سلامت ہے

کہ اس کے در پہ تو پہنچے مگر صدا نہیں کی

 

شکایت اس کی نہیں ہے کہ اس نے ظلم کیا

گلہ تو یہ ہے کہ ظالم نے انتہا نہیں کی

 

وہ نادہند اگر تھا تو پھر تقاضا کیا

کہ دل تو لے گیا قیمت مگر ادا نہیں کی

 

عجیب آگ ہے چاہت کی آگ بھی کہ فراز

کہیں جلا نہیں کی اور کہیں بجھا نہیں کی

 

شاعر کا نام   :      احمد ‌فراز                

پیشکش  :  شعبہ تحریرو پیشکش تبیان