• صارفین کی تعداد :
  • 2290
  • 6/17/2008
  • تاريخ :

نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں

احمد فراز کے دستخط کی تصویر

 

نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
عجب سفر ہے کہ بس ہمسفر کو دیکھتے ہیں

 

نہ پوچھ جب وہ گزرتا ہے بے نیازی سے

تو کس ملال سے ہم نامہ بر کو دیکھتے ہیں

 

ترے جمال سے ہٹ کر بھی ایک دنیا ہے

یہ سیر چشم مگر کب ادھر کو دیکھتے ہیں

 

عجب فسونِ خریدار کا اثر ہے کہ ہم

اسی کی آنکھ سے اپنے ہنر کو دیکھتے ہیں

 

کوئی مکاں کوئی زنداں سمجھ کے رہتا ہے

طلسم خانۂ دیوار و در کو دیکھتے ہیں

 

فراز در خورِ سجدہ ہر آستانہ نہیں

ہم اپنے دل کے حوالے سے در کو دیکھتے ہیں

 

وہ بے خبر مری آنکھوں کا صبر بھی دیکھیں

جو طنز سے مرے دامانِ تر کو دیکھتے ہیں

 

یہ جاں کنی کی گھڑی کیا ٹھہر گئی ہے کہ ہم

کبھی قضا کو کبھی چارہ گر کو دیکھتے ہیں

 

ہماری در بدری کا یہ ماجرا ہے کہ ہم

مسافروں کی طرح اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

 

فراز ہم سے سخن دوست ، فال کیلئے بھی

کلامِ غالب آشفتہ سر کو دیکھتے ہیں

 

شاعر کا نام   :      احمد ‌فراز                

پیشکش  :  شعبہ تحریر و پیشکش تبیان