• صارفین کی تعداد :
  • 6200
  • 6/15/2008
  • تاريخ :

’نیند یا کم خوابی کی وجہ جینز‘

’نیند یا کم خوابی کی وجہ جینز‘

بی بی سی کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہونےوالی ایک  سائنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آپ کے سونے یا جاگنے کی صلاحیت کی وجہ آپ کے جینز ہو سکتے ہیں۔ نئی تحقیق سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا آپ کے سویرے اٹھنے یا رات تک جاگنے کی کیفیت کا پتہ آپ کے جینیاتی ورثے سے لگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

نئی تحقیق میں یہ جاننے کے عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے اور اس جینیاتی رحجان کی تشخیص اب خون کے ٹیسٹ سے نہیں بلکہ محض ’ماؤتھ سواب‘ یعنی تھوک کے نمونے سے ممکن ہو سکے گا۔

جسم میں سونے اور جاگنے کے اوقات ’سرکیڈئین رِدھم‘ کہلاتے ہیں۔ اس ٹیسٹ میں ان جینز کی تشخیص ہو جاتی ہے جو ’سرکیڈئن رِدھم‘ کو متاثر کرتے ہیں۔

سِرکیڈئین رِدھم پر کئی مختلف جینز اثر انداز ہوتی ہیں اور ان سے پیدا ہونے والے’ رِبو نُکلئیک ایسِڈ‘ یعنی ’آر این اے‘ کے مقدار سے انفرادی سرکیڈئین ردھم بنتے ہیں۔ آر این اے کی پیداوار کی وجہ سے سے انسان کے مختلف اوقات پر سستی یا عدم سستی محسوس ہوتی ہے۔

مثلاً ’پیر ٹو‘ نامی ایک جین صبح کے چار بجے سب سے زیادہ آر این اے پیدا کرتی ہے اور اس جین کا نیند سے گہرا تعلق ہے۔

’آر ای وی ای آر بی‘ (REV-ERB) نامی ایک اور جین سہ پہر کے چار بجے سب سے زیادہ آر این اے پیدا کرتی ہے اور خیال ہے کہ اس کا تعلق جاگنے سے ہے۔

برطانیہ کے شہر چیلٹنھم میں پچھلے ہفتے ہونے والے ایک سائنسی میلے میں اس جین پر تحقیق کی گئی۔ میلے پر ہونے والے ایک خطاب سے پہلے اور بعد میں کئی افراد کے تھوک کے نمونے لیے گئے اور ان میں ان جینز کا پتہ لگا کر دیکھا جائے گا کہ ان افراد میں سستی کی کیفیت کیا رہی۔

سوانزی یونیورسٹی کی محقق سارا فوربز رابرٹسن نے بتایا ہے کہ اگر کسی شخص میں سہ پہر چار بجے سے پہلے REV-ERB کی مقدار زیادہ ہو تو ان کے سویرے اٹھنے والے شخص ہونے کے امکانات کافی ہیں۔ لیکن اگر کسی میں سہ پہر چار بجے کے بعد اس کی مقدار زیادہ ہو تو یہ عین ممکن ہے کہ وہ ایسے شخص ہونگے جو رات دیر تک آسانی سے جاگتے ہوں۔

لوگوں میں سونے جاگنے کے مختلف اوقات کے رحجان سے اکثر شادی شدہ جوڑوں میں اختلافات پیدا ہو تے ہیں کیونکہ ایک شخص صبح سویرے اٹھ سکتا ہے جبکہ دوسرا رات دیر تک جاگنا پسند کرتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس نئے ٹیسٹ سے اب نہ صرف لوگوں کے اس رحجان کا پتہ چل سکے گا بلکہ اس سے جینز مختلف اشیا کے اثرات کے پتہ چلانے میں بھی مدد ملے گی۔

مثلاً ’جیٹ لیگ‘ یعنی جہاز کے لمبے سفر کے بعد تھکن کے لیے دی جانے والی ادویات کا ان جینز پر اثر کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ محقق سارا فاربز رابرٹسن کہتی ہیں کہ جیٹ لیگ جینز کے رویے پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، اور ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کھانے سے بھی اس پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘

                       بی بی سی اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

تھکاوٹ دور کرنے کی دوا تیار