• صارفین کی تعداد :
  • 4210
  • 5/29/2008
  • تاريخ :

اردو ہے جس کا نام

اردو کے حروف تهجی اور اعداد

UNI نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آج دنیا بھر میں بولی جانے والی تقریباً سات ہزار زبانوں میں سے نصف زبانوں کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

Living Tongues institute of endangered languages. نامی ادارہ جو زبانوں کے متروک ہونے کے خطرات پر کام کر رہا ہے، اس ادارے نے دنیا میں پانچ ایسے علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں اقلیتی زبانیں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ اس ادارے کا تجزیہ ہے کہ اقلیتی زبانوں کے ختم ہو جانے سے نہ صرف ایک زبان ختم ہوتی ہے بلکہ اس زبان سے منسلک صدیوں پر محیط تہذیب و ثقافت، انسانی علوم اور تاریخ بھی صفحہٴ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ مذکورہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو زبانیں خطرے سے دوچار ہیں ان میں سے بعض ایسی ہیں جو محض چند افراد ہی بول سکتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر ہر دو ہفتوں میں ایک زبان متروک ہو رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق نوجوانوں کے شہری علاقوں میں نقل مکانی کر جانے اور وہاں جا کر انگریزی یا دوسری عالمی زبانیں سیکھنے سے زبانوں کے متروک ہونے کے رجحان میں تیزی آ گئی ہے۔

 

تحقیقی ٹیم نے زبانوں کو درپیش خطرے کے پیش نظر ایک نقشہ بنایا ہے جس پر ان خطوں کو نمایاں کیا گیا ہے، جہاں علاقائی و مقامی زبانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس تحقیق میں شامل ایک امریکی ماہر لسانیات ڈیوڈ ہیرسن کا کہنا ہے کہ ایسے پانچ نمایاں ترین خطوں میں شمالی آسٹریلیا، مشرقی سائبیریا اور شمالی امریکہ کے علاقے شامل ہیں۔ شکر خدا کا کہ ایشیا ان علاقوں کی فہرست سے بچ گیا جب کہ یہاں بھی کئی مقامی زبانیں ہلاکت کے عمل سے دوچار ہیں۔ اس رپورٹ میں دم توڑتی زبانوں کو ریکارڈ کرکے محفوظ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زبانوں کے مرنے سے سب سے بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے مقامی سطح پر پائی جانے والی معلومات کا خزانہ بھی جاتا رہتا ہے مثلاً پودوں، جانوروں، جگہوں کے نام اور ان کے بارے میں معلومات وغیرہ۔

 

ایک زبان میں جمع کی ہوئی معلومات اور حکمت کا اظہار کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ہر زبان کا معلومات جمع کرنے کا ایک اپنا طریقہ ہوتا ہے، جب لوگ کوئی دوسری عالمی زبان شروع کر دیتے ہیں تو اپنی مادری زبان کی معلومات کا خاصا حصہ چھوڑ جاتے ہیں۔ ماہرین لسانیات کا خیال ہے کہ ہر زبان دنیا کو دیکھنے کا الگ ڈھنگ دیتی ہے۔ آج کل دم توڑتی زبانوں کو بچانے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے لیکن ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ اس عمل میں کامیابی صرف اس وقت ممکن ہے جب نئی نسل کو اپنے والدین، دادا، دادی یا نانا، نانی کی زبانیں بولنے کی طرف راغب کیا جائے۔ ماہرین اور سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زبانوں کے خاتمے سے بائیو ڈرائیورسٹی کے بچاؤ کو بھی خطرہ درپیش ہے۔ امریکی سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ ہیریسن کے مطابق ایکوسسٹم کے بارے میں زیادہ معلومات تاحال زبانی روایات تک محدود ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ اگر زبانوں کو خاتمے سے بچانے کی کوشش کی جائے تو اس سے معلومات کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے ۔ یعنی بات وہی ہے کہ زندہ قومیں اپنی زبان کے حوالے سے ہی اپنی شناخت اور وجود رکھتی ہیں، جس زبان میں کسی قوم کا مذہبی، اخلاقی، سماجی، ثقافتی، علمی، تاریخی ورثہ محفوظ ہو اگر وہی زبان آنے والی نسلوں کو بھلا دی جائے تو یقیناً اس قوم کے ذہن و قلب پر فتح یاب ہونا کسی بیرونی قوم کے لیے مشکل نہ ہو گا۔ اسی لیے فاتحین جب کسی شہر کو روندتے ہوئے داخل ہوتے ہیں تو سب سے پہلے وہاں کے تہذیبی، ثقافتی، تاریخی، علمی، ادبی سرمائے کی لوٹ مار کا اذن عام دیتے ہیں کہ مفتوح قوم کے پاس ایسی کوئی بنیاد اور انفرادی شناخت باقی نہ بچ رہے کہ وہ پھر سے اپنی جداگانہ حیثیت یا آزادی کے لیے برسرپیکار ہو سکیں۔

اردو

اردو انتہائی ثروت مند زبان ہے کیونکہ اس میں انتہا درجہ کی لچک یعنی دیگر زبانوں کے الفاظ سمونے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کی تشکیل ہی نظریہٴ ضرورت کے تحت عمل میں آئی۔ شاہی لشکروں میں عربی، فارسی، ترکی اور مختلف مقامی بولیاں بولنے والے سپاہی موجود ہوتے تھے۔ باہمی رابطہ کے لیے انہوں نے ایک ایسی بول چال کی زبان اختیار کی جو مختلف زبانوں کا آمیزہ تھی۔ محمد حسین آزاد نے اپنی تاریخ ادب آب حیات میں اردو کے آغاز کے متعلق نتیجہ اخذ کرتے ہوئے یہ مثل تحریر کی ہے۔

 

کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا

بھان متی نے کنبہ جوڑا

 

کے مصداق یہ زبان مختلف بولیوں اور زبانوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہ ضرورت یا رابطے کی زبان جو ہندی، ہندوی، ریختہ اردو معلیٰ کے ناموں اور اک گنگا جمنی ثقافتی اور علمی و ادبی عمل سے گزرتے ہوئے بالآخر اردو کے نام سے معروف ہوئی جو آج ہماری زبان ہے۔

برصغیر پر قبضے کے بعد انگریزوں نے جلد ہی بھانپ لیا تھا کہ اس ملک میں آئندہ اگر کوئی زبان مشترکہ زبان بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ اردو ہے اسی لیے فورٹ ولیم کالج میں نووارد انگریزوں کو اردو کی ابتدائی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا اور یوں اردو کی بالواسطہ طور پر ترویج بھی ہونے لگی لیکن ہندووانہ تعصب کی بنا پر سنسکرت کے بھاری بھرکم الفاظ اور دیوناگری رسم الخط کو سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا اور اردو کو بتدریج مسلمانوں کی زبان قرار دینے کی سازش رچائی گئی۔ سر سید احمد خان نے ابتداً جو دو قومی نظریہ کا تصور دیا تو اس کی بنیادی وجہ یہی اردو ہندی جھگڑا ہی تھا۔

 

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اگرچہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا لیکن عملاً یہ زبان اپنے ہی ملک میں کسمپرسی اور زوال کا شکار رہی۔

ہندوستان میں تو اسے مسلمانوں کی شناخت کی وجہ سے انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی لیے معروف محقق اور ماہر لسانیات ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے لکھا کہ تقسیم ہند کا بدلہ کسی سے لیا جاتا ہو یا نہ لیا جاتا ہو مگر اردو سے ضرور لیا جاتا ہے۔

 

اسی تقسیم کا بدلہ لینے کے لیے اک بین الاقوامی سازش کے ذریعے بنگال میں اردو سے نفرت کو اس حد تک بڑھا دیا گیا کہ بالآخر یہ معاملہ علیحدگی کی شکل میں اختتام پذیر ہوا۔ اگرچہ آج بھی وہاں ہندوستانی فلموں اور ڈراموں کی وجہ سے اردو سمجھی جاتی ہے اور انڈین گانے خوب مقبول عام بھی ہیں لیکن انتقاماً اردو کی بیخ کنی کا عمل جاری ہے، وہاں اردو اخبار یا پرچہ نکالنا اردو بولنا کسی جرم سے کم نہیں ہے۔ اسی لیے اردو بولنے والے بھی اردو سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں لیکن پاکستان میں بھی تو اپنی قومی زبان اردو کے ساتھ ایسا ہی انتقامی، سنگدلانہ اور سوتیلا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

 

اس وقت انتہائی دکھ اور ندامت کا احساس ہوا جب ہماری صوبائی اسمبلیوں نے مقامی زبان کے علاوہ انگریزی زبان میں حلف اٹھائے۔ کیا قومی زبان کی نسبت انگریزی زبان سے ہماری نسبت کچھ زیادہ ہے یا محض نفرت برائے نفرت کا برملا اظہار تھا۔ معروف شاعر جوش ملیح آبادی نے اپنی خودنوشت ” یادوں کی بارات “ میں لکھا ہے کہ انہوں نے ایک سرکاری افسر کو اردو میں خط لکھا جواب انگریزی میں آیا تو انہوں نے انگریزی زدہ افسر کو جواباً لکھا ” میں نے تو اپنی مادری زبان میں آپ کو خط لکھا تھا لیکن آپ نے اپنی پدری زبان میں مجھے جواب دیا “۔

 

انگریزی کی ترویج ہماری ضرورت اور مجبوری سہی لیکن اس کی آڑ میں اپنی قومی زبان کی بیخ کنی زندہ قوموں کا شعار نہیں ہے۔ بنگلہ دیش میں کمزور پڑتی مذہبی و اخلاقی اقدار کی وجہ جب میں نے دریافت کی تھی تو جواب ملا اس کی وجہ یہاں اردو زبان کا خاتمہ ہے کیونکہ اردو میں ہی مذہبی و اخلاقی سرمایہ احادیث و تفاسیر محفوظ تھیں جب اردو کو یہاں بین کیا گیا تو اردو حروف تہجی سے ناواقفیت کی بنا پر بچوں کو قرآن پاک پڑھنا بھی دشوار ہو گیا، مجھے خیال آ رہا تھا کہ آج جب ہمارے بچے گلط اور کھراب بول رہے ہیں تو ان کا قرآن پاک کا تلفظ کیسے درست ہو گا۔

 

انگریزی بولنا اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ اردو عوام الناس اور ملازموں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے جس طرح کبھی پنجابی بولنا باعث شرم سمجھا جاتا تھا، آج بچوں کے ساتھ، ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر انگریزی بول کر رعب گانٹھا جاتا ہے۔ انگریزی اسکولوں میں اردو میں بات کرنے پر بچوں کو جرمانہ کیا جاتا ہے۔ اس احساس زیاں سے قطع نظر کہ ہم اپنے بچوں کو ماڈرن یا برتر نہیں بنا رہے بلکہ ان کے قدموں تلے سے ان کی اپنی زمین کھسکا رہے ہیں۔ ان کی شناخت اور حقیقت ختم کر رہے ہیں۔ میڈیا اور خصوصاً ایف ایم ریڈیو پر جو شترگرگی بولی جا رہی ہے، عوام اس کی نقل کر رہے ہیں۔ اردو کے خوبصورت الفاظ جملے اور شعر تفنن طبع کے لیے بولے اور قہقہے لگائے جاتے ہیں۔

اردو کے ساتھ روا رکھی جانے والی صریحاً زیادتی پر عملی و ادبی ادارے خاموش ہیں کہ ان اداروں کے کرتا دھرتا تو خود اپنے بچوں کو امریکہ یورپ منتقل کرنے کی فکر سے دوچار ہیں، زبانوں کی سرپرستی حکومتیں اور زندہ قومیں کیا کرتی ہیں، ہماری ڈنگ ٹپاؤ حکومتیں اپنے ہی وجود کی بقا کے لیے ہاتھ پیر مارتے ختم ہو جاتی ہیں۔ عوام ملکی عدم استقامت کے خوف سے کہیں باہر پرواز بھرنے کو منقار انگریزی سیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، تو آخر اس زبان کا پرسان حال کون ہے۔ خدا نہ کرے کہ کبھی اس زبان پر بھی ایسا برا وقت آ جائے کہ اسے بھی ان زبانوں کے زمرے میں داخل ہونا پڑے جو اپنے وجود کی بقا کے خطرات سے دوچار ہیں۔

 

ہرگز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدہ عالم دوام مـــــــــا

 

 

                                                                                    روز نامہ جنگ  طاہرہ اقبال


متعلقہ تحریریں:

 اردو زبان کے مختلف نام اور مراحل

اردو زبان کا نام اور مجمل تاریخ

 فارسی ادب کا اجمالی جائزہ

 اخبار میں ضرورت ہے

بھارت