• صارفین کی تعداد :
  • 9281
  • 3/18/2008
  • تاريخ :

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام

آپ کی ولادت با سعادت علمی فیوض رسانی کا موقع
اسم گرامی، کنیت، القاب کتب اصول اربعمایة
بادشاہان وقت صادق آل محمد کے اصحاب کی تعداد اوران کی تصانیف

عبدالملک بن مروان کے عہدمیں آپ کا ایک مناظرہ

حضرت صادق آل محمد اور علم طب
ابوشاکر دیصانی کاجواب حضرت صادق آل محمد کا علم القرآن

امام جعفر صادق علیہ السلام اور حکیم  ابن عیاش کلبی

علم النجوم
۱۱۳ ھ میں امام جعفر صادق کاحج علم منطق الطیر
امام ابوحنیفہ کی شاگردی کامسئلہ حضرت امام صادق علیہ السلام اور علم الاجسام

امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعض

نصائح و ارشادات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی انجام بینی اور دوراندیشی
آپ کے اخلاق اور عادات و اوصاف امام جعفر صادق علیہ السلام کا دربار منصور میں ایک طبیب ہندی سے تبادلہ خیالات
کتاب اہلیلچیہ امام جعفر صادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت جلادینے کامنصوبہ
حضرت صادق آل محمد کے فلک وقار شاگرد ۱۴۷ ھ میں منصور کا حج اور امام جعفر صادق کے قتل کاعزم بالجزم
امام الکیمیا جناب جابرابن حیان طرسوسی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت
صادق آل محمد کے علمی فیوض و برکات آپ کی اولاد

 

امام جعفر صادق علیہ السلام

آپ کی ولادت با سعادت

          آپ بتاریخ ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ ھ مطابق ۲۰۷ ءیوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے (ارشاد مفید فارسی ص ۴۱۳، اعلام الوری ص ۱۵۹، جامع عباسی ص ۶۰ وغیرہ)۔

          آپ کی ولادت کی تاریخ کو خداوند عالم نے بڑی عزت دے رکھی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چند مخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا(جنات الخلوج ص ۲۷) ۔

          علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں (جلاء العیون ص ۲۶۵) ۔ آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔

 

اسم گرامی، کنیت، القاب

          آپ کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ، ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق، صابر و فاضل، طاہر وغیرہ ہیں علامہ مجلسی رقمطراز ہیں کہ آنحضرت نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت جعفربن محمدکولقب صادق سے موسوم وملقب فرمایاتھا اوراس کی وجہ بظاہریہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپ کالقب پہلے ہی سے صادق تھا (جلاء العیون ص ۲۶۴) ۔

          علامہ ابن خلکان کاکہناہے کہ صدق مقال کی وجہ سے آپ کے نام نامی کاجزو”صادق“ قرارپایاہے  (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۰۵) ۔

          جعفرکے متعلق علماء کابیان ہے کہ جنت میں جعفرنامی ایک شیرین نہرہے اسی کی مناسبت سے آپ کایہ لقب رکھاگیاہے چونکہ آپ کافیض عام   نہرجاری کی طرح تھا اسی لیے اس لقب سے ملقب ہوئے (ارجح المطالب ص ۳۶۱ ،بحوالہ تذکرة الخواص الامة)۔

          امام اہل سنت علامہ وحیدالزمان حیدرآبادی تحریرفرماتے ہیں، جعفر، چھوٹی نہریابڑی واسع (کشادہ ) امام جعفر صادق، مشہورامام ہیںبارہ اماموں میں سے اوربڑے ثقہ اورفقیہ اورحافظ تھے امام مالک اورامام ابوحنیفہ کے شیخ (حدیث)ہیں اورامام بخاری کونہیں معلوم کیاشبہ ہوگیاکہ وہ اپنی صحیح میں ان سے روایتیں نہیں کرتے اوریحی بن سعیدقطان نے بڑی بے ادبی کی ہے جوکہتے ہیں کہ میں ”فی منہ شئی ومجالداحب الی منہ“ میرے دل میں امام جعفر صادق کی طرف سے خلش ہے، میں ان سے بہترمجالدکوسمجھتاہوں، حالانکہ مجالدکوامام صاحب کے سامنے کیارتبہ ہے؟ ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اہل سنت بدنام ہوتے ہین کہ ان کوآئمہ اہل بیت سے کچھ محبت اوراعتقادنہیں ہے۔

          اللہ تعالی امام بخاری پررحم کرے کہ مروان اورعمران بن خطان اورکئی خوارج سے توانہوں نے روایت کی اورامام جعفر صادق سے جوابن رسول اللہ ہیں ان کی روایت میں شبہ کرتے ہیں (انواراللغتہ پارہ ۵ ص ۴۷ طبع حیدرآباددکن)۔

          علامہ ابن حجر مکی اور علامہ شبلنجی رقمطراز ہیں کہ اعیان آئمہ میں سے ایک جماعت مثل یحی بن سعیدبن جریح، امام مالک، امام سفیان ثوری بن عینیہ، امام ابوحنیفہ، ایوب سجستانی نے آپ سے حدیث اخذکی ہے، ابوحاتم کاقول ہے کہ امام جعفر صادق  ایسے ثقہ میں لایسئل عنہ مثلہ کہ آپ ایسے شخصوں کی نسبت کچھ تحقیق اور استفساروتفحص کی ضرورت ہی نہیں ،آپ ریاست کی طلب سے بے نیازتھے اورہمیشہ عبادت گزاری میں بسرکرتے رہے، عمرابن مقدام کاکہناہے کہ جب میں امام جعفر صادق علیہ السلام کودیکھتاہوں تومجھے معاخیال ہوتاہے کہ یہ جوہررسالت کی اصل و بنیادہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۰، نورالابصار، ص ۱۳۱، حلیة الابرار تاریخ آئمہ ص ۴۳۳) ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

بادشاہان وقت

          آپ کی ولادت ۸۳ ھ میں ہوئی ہے اس وقت عبدالملک بن مروان بادشاہ وقت تھا پھرولید، سلیمان، عمربن عبدالعزیز، یزیدبن عبدالملک، ہشام بن عبدالملک، ولیدبن یزیدبن عبدالملک، یزیدالناقص، ابراہیم ابن ولید، اور مروان الحمار، علی الترتیب خلیفہ مقرر ہوئے مروان الحمارکے بعد سلطنت بنی امیہ کاچراغ گل ہوگیا اوربن عباس نے حکومت پرقبضہ کرلیا، بنی عباس کا پہلا بادشاہ ابوالعباس، سفاح اوردوسرا منصور دوانقی ہواہے ۔ملاحظہ ہو(اعلام الوری) تاریخ ابن الوردی، تاریخ ائمہ ص ۴۳۶) ۔

          اسی منصورنے ابنی حکومت کے دوسال گزرنے کے بعدامام جعفر صادق علیہ السلام کوزہرسے شہیدکردیا(انوارالحسینہ جلد ۱ ص ۵۰) ۔

 

عبدالملک بن مروان کے عہدمیں آپ کا ایک مناظرہ

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بے شمارعلمی مناظرے فرمائے ہیں آپ نے دہریوں، قدریوں، کافروں اور یہودیوں و نصاری کو ہمیشہ شکست فاش دی ہے کسی ایک مناظرہ میں بھی آپ پرکوئی غلبہ حاصل نہیں کرسکا، عہدعبدالملک بن مروان کاذکرہے کہ ایک قدریہ مذہب کامناظراس کے دربارمیں آکرعلماء سے مناظرہ کاخو ہشمندہوا، بادشاہ نے حسب عادت اپنے علماء کوطلب کیااوران سے کہاکہ اس قدریہ مناظرسے مناظرہ کروعلماء نے اس سے کافی زورآزمائی کی مگروہ میدان مناظرہ کاکھلاڑی ان سے نہ ہارسکا، اورتمام علماء عاجزآگئے اسلام کی شکست ہوتے ہوئے دیکھ کر عبدالملک بن مروان نے فوراایک خط حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کی خدمت میں مدینہ روانہ کیااوراس میں تاکید کی کہ آپ ضرور تشریف لائیں حضرت امام محمد باقرکی خدمت میں جب اس کاخط پہنچاتوآپ نے اپنے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے فرمایاکہ بیٹامیں ضعیف ہوچکاہوں تم مناظرہ کے لیے شام چلے جاؤ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے پدربزرگوارکے حسب الحکم مدینہ سے روانہ ہوکرشام پہنچ گئے۔

          عبدالملک بن مروان نے جب امام محمدباقرعلیہ السلام کے بجائے امام جعفر صادق علیہ السلام کودیکھاتوکہنے لگاکہ آپ ابھی کم سن ہیں اوروہ بڑاپرانامناظر ہے، ہوسکتاہے کہ آپ بھی اورعلماء کی طرح شکست کھاجائیں، اس لیے مناسب نہیں کہ مجلس مناظرہ منعقدکی جائے حضرت نے ارشادفرمایا، بادشاہ توگھبرا نہیں، اگرخدانے چاہاتومیں صرف چندمنٹ میں مناظرہ ختم کردوں گاآپ کے ارشادکی تائیددرباریوں نے بھی کی اورموقعہ مناظرہ پرفریقین آگیے۔

          چونکہ قدریوں کااعتقادہے کہ بندہ ہی سب کچھ ہے، خداکوبندوں کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں، اورنہ خداکچھ کرسکتاہے یعنی خداکے حکم اورقضاوقدروارادہ کوبندوں کے کسی امرمیں دخل نہیں لہذا حضرت نے اس کی پہلی کرنے کی خواہش پرفرمایاکہ میں تم سے صرف ایک بات کہنی چاہتاہوں اوروہ یہ ہے کہ تم ”سورہ حمد“پڑھو،اس نے پڑھناشروع کیا جب وہ ”ایاک نعبدوایاک نستعین“ پرپہنچاجس کاترجمہ یہ ہے کہ میں صرف تیری عبادت کرتاہوں اوربس تھجی سے مدد چاہتاہوں توآپ نے فرمایا،ٹہرجاؤاورمجھے اس کاجواب دوکہ جب خدا کوتمہارے اعتقاد کے مطابق تمہارے کسی معاملہ میں دخل دینے کاحق نہیں توپھرتم اس سے مدد کیوں مانگتے ہو، یہ سن کروہ خاموش ہوگیا اورکوئی جواب نہ دے سکا، بالآخر مجلس مناظرہ برخواست ہوگئی اوربادشاہ نے بے حدخوش ہوا(تفسیر برہان جلد ۱ ص ۳۳) ۔

 

ابوشاکردیصانی کاجواب

          ابوشاکردیصانی جو لامذہب تھا حضرت سے کہنے لگاکہ کیاآپ خدا کا تعارف کراسکتے ہیں اوراس کی طرف میری رہبری فرماسکتے ہیں آپ نے ایک طاؤس کا انڈا ہاتھ میں لے کرفرمایادیکھواس کی بالائی ساخت پرغورکرو، اوراندرکی بہتی ہوئی زردی اورسفیدی کابنظرغائردیکھواوراس پرتوجہ دوکہ اس میں رنگ برنگ کے طائرکیوں کرپیداہوجاتے ہیں کیاتمہاری عقل سلیم اس کوتسلیم نہیں کرتی کہ اس انڈے کااچھوتے انداز میںبنانے والا اوراس سے پیدا کرنے والاکوئی ہے، یہ سن کروہ خاموش ہوگیااوردہریت سے بازآیا۔

          اسی دیصانی کاواقعہ ہے کہ اس نے ایک دفعہ آپ کے صحابی ہشام بن حکم کے ذریعہ سے سوال کیاکہ کیایہ ممکن ہے؟ کہ خداساری دنیا کو ایک انڈے میں سمودے اورنہ انڈابڑھے اورنہ دنیا گھٹے آپ نے فرمایابے شک وہ ہرچیز پر قادرہے اس نے کہاکوئی مثال؟ فرمایا مثال کے لیے مردمک چشم آنکھ کی چھوٹی پتلی کافی ہے اس میں ساری دنیاسماجاتی ہے، نہ پتلی بڑھتی ہے نہ دنیاگھٹتی ہے (اصول کافی ص ۴۳۳،جامع الاخبار)۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

امام جعفر صادق علیہ السلام اور حکیم ابن عیاش کلبی

          ہشام بن عبدالملک بن مروان کے عہدحیات کاایک واقعہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہوکرعرض کیاکہ حکیم بن عیاش کلبی آپ لوگوں کی ہجوکرتاہے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہا گرتجھ کواس کاکچھ کلام یادہوتوبیان کر اس نے دوشعرسنائے جس کاحاصل یہ ہے کہ ہم نے زیدکوشاخ درخت خرمہ پرسولی دیدی، حالانکہ ہم نے نہیں دیکھا، کوئی مہدی دارپرچڑھایاگیاہو اورتم نے اپنی بیوقوفی سے علی کوعثمان کے ساتھ قیاس کرلیاحالانکہ علی سے عثمان بہتراورپاکیزہ تھا یہ سن کرامام جعفر صادق علیہ السلام نے دعاکی بارالہا اگریہ حکیم کلبی جھوٹاہے تواس پراپنی مخلوق میں کسی درندے کومسلط فرماچنانچہ ان کی دعاقبول ہوئی اورحکیم کلبی کوراہ میں شیرنے ہلاک کردیا(اصابہ ابن حجرعسقلانی جلد ۲ ص ۸۰) ۔

          ملاجامی تحریرکرتے ہیں کہ جب حکیم کلبی کے ہلاک ہونے کی خبرامام جعفر صادق علیہ السلام کوپہنچی توانہوں نے سجدہ میں جاکرکہاکہاس خدائے برترکاشکرہے کہ جس نے ہم سے جووعدہ فرمایااسے پوراکیا(شواہدالنبوت ،صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،نورالابصار ص ۱۴۷) ۔

 

۱۱۳ ھ میں امام جعفر صادق کاحج

          علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ آپ نے ۱۱۳ ھئمیں حج کیااوروہاں خداسے دعاکی،خدانے بلافصل انگوراوردوبہترین ردائیں بھیجیں آپ نے انگورخودبھی کھایااور لوگوں کوبھی کھلایا اورردائیں ایک سائل کودیدیں۔

          اس وقعہ کی مختصرتفصیل یہ ہے کہ بعث بن سعدسنہ مذکورہ میں حج کے لیے گئے وہ نمازعصرپڑھ کرایک دن کوہ ابوقبیس پرگئے وہاں پہنچ کردیکھاکہ ایک نہایت مقدس شخص مشغول نمازہے، پھرنمازکے بعدوہ سجدہ میں گیا اور یارب یارب کہہ کرخاموش ہوگیا،پھریاحی یاحی کہااورچپ ہوگیا،پھریارحیم یارحیم کہااورخاموش ہوگیا پھریاارحم الراحمین کہہ کرچپ ہوگیا پھربولاخدایامجھے انگورچاہئے اورمیری ردابوسیدہ ہوگئی ہے دوردائیں درکارہیں ۔

          راوی حدیث بعث کہتاہے کہ یہ الفاظ ابھی تمام نہ ہوئے تھے کہایک تازہ انگوروں سے بھری ہوئی زنبیل آموجوہوئی دراس پردوبہترین چادریں رکھی ہوئی تھیں اس عابدنے جب انگورکھاناچاہاتومیں نے عرض کی حضورمیں امین کہہ رہاتھا مجھے بھی کھلائیے ،انہوں نے حکم دیامیں نے کھاناشروع کیا،خداکی قسم ایسے انگور ساری عمرخواب میں بھی نہ نظرآئے تھے پھرآپ نے ایک چادرمجھے دی میں نے کہامجھے ضرورت نہیں ہے اس کے بعدآپ نے ایک چادرپہن لی اورایک اوڑھ لی پھرپہاڑسے اترکرمقام سعی کی طرف گئے میں ان کے ہمراہ تھاراستے میں ایک سائل نے کہا،مولامجھے چادردیجئے خداآپ کوجنت لباس سے آراستہ کرے گاآپ نے فورادونوں چادریں اس کے حوالے کردیں میں نے اس سائل سے پوچھایہ کون ہیں؟ اس نے کہاامام زمانہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام یہ سن کرمیں ان کے پیچھے دوڑاکہ ان سے مل کرکچھ استفادہ کروں لیکن پھروہ مجھے نہ مل سکے (صواعق محرقہ ص ۱۲۱ ،کشف الغمہ ص ۶۶ ، مطالب السؤل ص ۲۷۷) ۔

 

امام ابوحنیفہ کی شاگردی کامسئلہ

          یہ تاریخی مسلمات سے ہے کہ جناب امام ابوحنیفہ حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اورحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردتھے لیکن علامہ تقی الدین ابن تیمیہ نے ہمعصر ہونے کی وجہ سے اس میں منکرانہ شبہ ظاہرکیاہے ان کے شبہ کوشمس العلماء علامہ شبلی نعمانی نے ردکرتے ہوئے تحریرفرمایاہے ”ابوحنیفہ ایک مدت تک استفادہ کی غرض سے امام محمدباقر کی خدمت میں حاضررہے اورفقہ وحدیث کے متعلق بہت بڑاذخیرہ حضرت ممدوح کافیض صحبت تھا امام صاحب نے ان کے فرزندرشیدحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی فیض صحبت سے بھی بہت کچھ فائدہ اٹھایا،جس کاذکرعموما تاریخوں میں پایاجاتاہے ابن تیمیہ نے اس سے انکارکیاہے اوراس کی وجہ یہ خیال کی ہے کہ امام ابوحنیفہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے معاصراورہمعصرتھے اس لیے ان کی شاگردی کیونکر اختیارکرتے لیکن یہ ابن تیمیہ کی گستاخی اورخیرہ چشمی ہے امام ابوحنیفہ لاکھ مجتہد اورفقیہہ ہوں لیکن فضل وکمال میں ان کوحضرت جعفر صادق سے کیانسبت ، حدیث وفقہ بلکہ تمام مذہبی علوم اہل بیت کے گھرسے نکلے ہیں ”وصاحب البیت ادری بمافیہا“ گھروالے ہی گھرکی تمام چیزوں سے واقف ہوتے ہیں (سیرة النعمان ص ۴۵ ، طبع آگرہ)۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعض نصائح و ارشادات

علامہ شبلنجی تحریرفرماتے ہیں :

          ۱ ۔  سعید وہ ہے جوتنہائی میں اپنے کولوگوں سے بے نیازاورخداکی طرف جھکاہواپائے ۔

          ۲ ۔  جوشخص کسی برادرمومن کادل خوش کرتاہے خداوندعالم اس کے لیے ایک فرشتہ پیداکرتاہے جواس کی طرف سے عبادت کرتاہے اورقبرمیں مونس تنہائی، قیامت میں ثابت قدمی کا باعث، منزل شفاعت میں شفیع اور جنت میں پہنچانے مین رہبرہوگا۔

          ۳ ۔  نیکی کا تکملہ یعنی کمال یہ ہے کہ اس میں جلدی کرو،اوراسے کم سمجھو،اورچھپاکے کرو۔

          ۴ ۔  عمل خیر نیک نیتی سے کرنے کوسعادت کہتے ہیں۔

          ۵ ۔  توبہ میں تاخیرنفس کادھوکہ ہے۔

         ۶ ۔  چارچیزیں ایسی ہیں جن کی قلت کوکثرت سمجھناچاہئے ۱ ۔آگ، ۲ ۔ دشمنی ، ۳ ۔ فقیر، ۴ ۔مرض

          ۷ ۔  کسی کے ساتھ بیس دن رہناعزیزداری کے مترادف ہے ۔   ۸ ۔ شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لیے لوگوں پراحسان کرو۔

          ۹ ۔  جب اپنے کسی بھائی کے وہاں جاؤتوصدرمجلس میں بیٹھنے کے علاوہ اس کی ہرنیک خواہش کومان لو۔  

          ۱۰ ۔ لڑکی (رحمت) نیکی ہے اورلڑکانعمت ہے خداہر نیکی پرثواب دیتاہے اورہرنعمت پرسوال کرے گا۔

          ۱۱ ۔ جوتمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تم بھی اس کی عزت کرو،اورجوذلیل سمجھے اس سے خودداری رتو۔ ۱۲ ۔ بخشش سے روکناخداسے بدظنی ہے۔

۱۳ ۔ دنیامیں لوگ باپ داداکے ذریعہ سے متعارف ہوتے ہیں اورآخرت میں اعمال کے ذریعہ سے پہچانے جائیں گے۔

۱۴ ۔ انسان کے بال بچے اس کے اسیراورقیدی ہیں نعمت کی وسعت پرانہیں وسعت دینی چاہئے ورنہ زوال نعمت کااندیشہ ہے۔

۱۵ ۔ جن چیزوں سے عزت بڑھتی ہے ان میں تین یہ ہیں: ظالم سے بدلہ نہ لے، اس پرکرم گستری جومخالف ہو،جواس کاہمدردنہ ہواس کے ساتھ ہمدردی کرے۔

 ۱۶ ۔ مومن وہ ہے جوغصہ میں جادہ حق سے نہ ہٹے اورخوشی سے باطل کی پیروی نہ کرے ۔

 ۱۷ ۔جوخداکی دی ہوئی نعمت پرقناعت کرے گا،مستغنی رہے گا۔

 ۱۸ ۔ جودوسروں کی دولت مندی پرللچائی نظریں ڈالے گا وہ ہمیشہ فقیررہے گا۔

 ۱۹ ۔  جوراضی برضائے خدانہیں وہ خدا پراتہام تقدیرلگارہاہے۔

۲۰ ۔ جواپنی لغزش کونظراندازکرے گاوہ دوسروں کی لغزش کوبھی نظرمیں نہ لائے گا ۔

 ۲۱ ۔ جوکسی پرناحق تلوارکھینچے گاتونتیجہ میں خودمقتول ہوگا

 ۲۲ ۔ جوکسی کوبے پردہ کرنے کی سعی کرے گاخودبرہنہ ہوگا

 ۲۳ ۔ جوکسی کے لیے کنواں کھودے گا خود اس میں گرجائے گا”چاہ کن راچاہ درپیش“

۲۴ ۔ جوشخص بے وقوفوں سے راہ ورسم رکھے گا،ذلیل ہوگا،جوعلماء کی صحبت حاصل کرے گا عزت پائے گا،جوبری جگہ دیکھے گا،بدنام ہوگا۔

۲۵ ۔ حق گوئی کرنی چاہئے خواہ وہ اپنے لیے مفیدہویامضر،۔

 ۲۶ ۔ چغل خوری سے بچوکیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں دشمنی اورعدوات کابیج بوتی ہے۔

۲۷ ۔اچھوں سے ملو،بروں کے قریب نہ جاو،کیونکہ وہ ایسے پتھرہیں جن میں جونک نہیں لگتی ،یعنی ان سے فائدہ نہیں ہوسکتا(نورالابصارص ۱۳۴) ۔

۲۸ ۔ جب کوئی نعمت ملے توبہت زیادہ شکر کروتاکہ اضافہ ہو۔

 ۲۹ ۔ جب روزی تنگ ہوتواستغفارزیادہ کیاکروکہ ابواب رزق کھل جائیں۔

۳۰ ۔ جب حکومت یاغیرحکومت کی طرف سے کوئی رنج پہنچے تو لاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم زیادہ کہوتاکہ رنج دورہو،غم کافورہو،اورخوشی کاوفورہو(مطالب السول ص ۲۷۴،۲۵۷) ۔

 

امام جعفر صادق علیہ السلام

آپ کے اخلاق اور عادات و اوصاف

          علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک غلام کوکسی کام سے بازاربھیجاجب اس کی واپسی میں بہت دیرہوئی توآپ اس کوتلاش کرنے کے لیے نکل پڑے،دیکھاایک جگہ لیٹاہواسورہاہے آپ اسے جگانے کے بجائے اس کے سرہانے بیٹھ گئے اورپنکھاجھلنے لگے جب وہ بیدار ہواتوآپ نے فرمایایہ طریقہ اچھانہیں ہے رات سونے کے لیے اوردن کام کاج کرنے کے لیے ہے آئندہ ایسانہ کرنا(مناقب جلد ۵ ص ۵۲) ۔

          علامہ معاصر مولاناعلی نقی مجتہدالعصررقمطرازہیں،آپ اسی سلسلہ عصمت کی ایک کڑی تھے جسے خداوندعالم نے نوع انسانی کے لیے نمونہ کامل بناکرپیداکیا ان کے اخلاق واوصاف زندگی کے ہرشعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے تھے خاص خاص اوصاف جن کے متعلق مورخین نے مخصوص طورپرواقعات نقل کیے ہیں مہمان نوازی، خیروخیرات، مخفی طریقہ پرغرباکی خبرگیری، عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک عفوجرائم، صبروتحمل وغیرہ ہیں۔

          ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں واردہوااورمسجدرسول میں سوگیا، آنکھ کھلی تواسے شبہ ہواکہ اس کی ایک ہزارکی تھیلی موجودنہیں ہے اس نے ادھرادھردیکھا، کسی کونہ پایاایک گوشہ مسجدمیں امام جعفر صادق علیہ السلام نمازپڑھ رہے تھے وہ آپ کوبالکل نہ پہنچانتاتھا آپ کے پاس آکرکہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے حضرت نے پوچھااس میں کیاتھا اس نے کہا ایک ہزاردینار،حضرت نے فرمایا،میرے ساتھ میرے مکان تک آؤ، وہ آپ کے ساتھ ہوگیابیت الشرف میں تشریف لاکر ایک ہزاردیناراس کے حوالے کردئیے ،وہ مسجدمیں واپس آگیااوراپنااسباب اٹھانے لگا،توخود اس کی دیناروں کی تھیلی اسباب میں نظرآئی ،یہ دیکھ کربہت شرمندہ ہوااوردوڑتا ہواامام کی خدمت میں آیااورعذرخواہی کرتے ہوئے وہ ہزاردیناواپس کرناچاہا، حضرت نے فرمایا ہم جوکچھ دیدیتے ہیں وہ پھرواپس نہیں لیتے۔

          موجودہ زمانے میں یہ حالات سب ہی کی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ معلوم ہوتاہے کہ اناج مشکل سے ملے گاتوجس کوجتناممکن ہووہ اناج خریدکررکھ لیتاہے مگرامام جعفر صادق علیہ السلام کے کردارکاایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے آپ کے وکیل معقب نے کہاکہ ہمیں اس گرانی اورقحط کی تکلیف کاکوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کااتناذخیرہ ہے جوبہت عرصہ تک کے لے کافی ہوگا حضرت نے فرمایایہ تمام غلہ فروخت کرڈالواس کے بعدجوحال سب کاہوگا،وہی ہمارابھی ہوگاجب غلہ فروخت کردیاگیاتوفرمایااب خالص گہیوں کی روٹی نہ پکاکرے، بلکہ آدھے گہیوں اورآدھے جوکی پکائی جائے، جہاں تک ممکن ہوہمیں غریبوں کاساتھ دیناچاہئیے۔

          آپ کاقاعدہ تھاکہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرتے تھے مزدوروں کی بڑی قدرفرماتے تھے خودبھی تجارت فرماتے تھے اوراکثراپنے باغوں میںبہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لیے باغ میں کام کررہے تھے اورپسینہ سے تمام جسم ترہوگیاتھا، کسی نے کہا،یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں حضرت نے فرمایا،طلب معاش میں دھوپ اورگرمی کی تکلیف سہناعیب کی بات نہیں، غلاموں اورکنیزوں پروہی مہربانی رہتی تھی جواس گھرانے کی امتیازی صفت تھی ۔

          اس کا ایک حیرت انگیز نمونہ یہ ہے کہ جسے سفیان ثوری نے بیان کیاہے کہ میں ایک مرتبہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوادیکھا کہ چہرہ مبارک کارنگ متغیرہے، میں نے سبب دریافت کیا، توفرمایامیں نے منع کیاتھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پرنہ چڑھے، اس وقت جومیں گھرآیاتودیکھاکہ ایک کنیزجوایک بچہ کی پرورش پرمتعین تھی اسے گودمیں لیے ہوئے زینہ سے اوپرجارہی تھی مجھے دیکھاتوایساخوف طاری ہواکہ بدحواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا، اوراس صدمہ سے جاں بحق تسلیم ہوگیامجھے بچہ کے مرنے کااتنا صدمہ نہیں جتنااس کارنج ہے کہ اس کنیزپراتنارعب وہراس کیوں طاری ہوا،پھر حضرت نے اس کنیزکوپکارکرفرمایا، ڈرونہیں میں نے تم کوراہ خدامیں آزادکردیا، اس کے بعدحضرت بچہ کی تجہیز و تکفین کی طرف متوجہ ہوئے (صادق آل محمد ص ۱۲، مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۴) ۔

          کتاب مجانی الادب جلد ۱ ص ۶۷ میں ہے کہ حضرت کے یہاں کچھ مہمان آئے تھے حضرت نے کھانے کے موقع پراپنی کنیزکوکھانالانے کاحکم دیا، وہ سالن کابڑاپیالہ لے کرجب دسترخوان کے قریب پہنچی تواتفاقاپیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرگرگیا، اس کے گرنے سے امام علیہ السلام اور دیگرمہمانوں کے کپڑے خواب ہوگئے، کنیز کانپنے لگی اورآپ نے غصہ کے بجائے اسے راہ خدامیں یہ کہہ کرآزادکردیا کہ توجو میرے خوف سے کانپتی ہے شایدیہی آزادکرنا کفارہ ہوجائے ۔

          پھراسی کتاب کےص ۶۹ میں ہے کہ ایک غلام آپ کاہاتھ دھلارہاتھا کہ دفعتہ لوٹاچھوٹ کرطشت میں گرااورپانی اڑکرحضرت کے منہ پرپڑا، غلام گھبرااٹھاحضرت نے فرمایا ڈرنہیں، جامیں نے تجھے راہ خدامیں آزاد کردیا۔

          کتاب تحفہ الزائرعلامہ مجلسی میں ہے کہ آپ کے عادات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے جانا داخل تھا، آپ عہد سفاح اورزمانہ منصورمیں بھی زیارت کے لیے تشریف لے گئے تھے کربلا کی آبادی سے تقریبا چارسو قدم شمال کی جانب، نہرعلقمہ کے کنارے باغوں میں”شریعہ صادق آل محمداسی زمانہ سے بناہواہے (تصویر عزا ص ۶۰ طبع دہلی ۱۹۱۹ ءء)۔

 

کتاب اہلیلچیہ

          علامہ مجلسی نے کتاب بحارالانوار کی جلد ۲ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی کتاب اہلیلچیہ کو مکمل طور پر نقل فرمایاہے اس کتاب کے تصنیف کرنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ ایک ہندوستانی فلسفی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوااوراس نے الہیات اورمابعد الطبیعات پرحضرت سے تبادلہ خیال کرناچاہا حضرت نے اس سے نہایت مکمل گفتگوکی اورعلم کلام کے اصول پردہریت اورمادیت کوفناکرچھوڑا، اس آخرمیں کہناپڑاکہ آپ نے اپنے دعوی کواس طرح ثابت فرمادیاہے کہ ارباب عقل کومانے بغیرچارہ نہیں،تواریخ سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہندی فلسفی سے جوگفتگوکی تھی اسے کتاب کی شکل میں مدون کرکے باب اہلبیت کے مشہورمتکلم جناب مفضل بن عمرالجعفی کے پاس بھیج دیاتھا اوریہ لکھاتھاکہ:

          اے مفضل میں نے تمہارے لیے ایک کتاب لکھی ہے جس میں منکرین خداکی ردکی ہے ،اوراس کے لکھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ میرے پاس ہندوستان سے ایک طبیب (فلسفی) آیاتھا اوراس نے مجھ سے مباحثہ کیاتھا، میں نے جوجواب اسے دیاتھا، اسی کوقلم بندکرکے تمہارے پاس بھیج رہاہوں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

حضرت صادق آل محمد کے فلک وقار شاگرد

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں کاشمارمشکل ہے بہت ممکن ہے کہ آئندہ سلسلہ تحریرمیں اپ کے بعض شاگردوں کا ذکرآتاجائے، عام مورخین نے بعض ناموں کو خصوصی طور پرپیش کرکے آپ کی شاگردی کی سلک میں پروکرانہیں معزز بتایاہے ۔

          مطالب السؤل، صواعق محرقہ، نورالابصار و غیرہ میں ہے کہ امام ابوحنیفہ، یحی بن سعیدانصاری،ابن جریح، امام مالک ابن انس، امام سفیان ثوری، سفیان بن عینیہ، ایوب سجستانی و غیرہ کاآپ کے شاگردوں میں خاص طور پرذکرہے(تاریخ ابن خلکان جلد ۱ ص ۱۳۰، خیرالدین زرکلی کی الاعلام ص ۱۸۳، طبع مصر محمد فرید وجدی کی ادارہ معارف القرآن کی جلد ۳ ص ۱۰۹/ طبع مصر میں ہے  و کان تلمیذہ ابوموسی جابربن حیان الصوفی الطرسوسی  آپ کے شاگردوں میں جابربن حیان صوفی طرسوسی بھی ہیں۔

          آپ کے بعض شاگردوں کی جلالت قدراوران کی تصانیف اورعلمی خدمات پرروشنی ڈالنی توبے انتہادشوارہے اس لیے اس مقام پرصرف جابربن حیان طرسوسی جوکہ انتہائی باکمال ہونے کے با وجود شاگرد امام کی حیثیت سے عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہیں کا ذکر کیاجاتاہے۔

 

امام الکیمیا جناب جابرابن حیان طرسوسی

          آپ کاپورا نام  ابوموسی جابربن حیان بن عبدالصمد الصوفی الطرسوسی الکوفی ہے آپ ۷۴۲ ءء میں پیداہوئے اور ۸۰۳ ءء میں انتقال فرماگئے بعض محققین نے آپ کی وفات ۸۱۳ ءء بتائی ہے لیکن ابن ندیم نے ۷۷۷ ءء لکھاہے انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ہسٹری میں ہے کہ استاداعظم جابربن حیان بن عبداللہ، عبدالصمد کوفہ میں پیداہوئے وہ طوسی النسل تھے اور آزاد نامی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے خیالات میں صوف تھا اوریمن کارہنے والاتھا، اوئل عمرمیں علم طبیعیات کی تعلیم اچھی طرح حاصل کرلی اور امام جعفر صادق ابن امام محمد باقر کی فیض صحبت سے امام الفن ہوگیا۔

          تاریخ کے دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ جابربن حیان نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی عظمت کااعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ ساری کائنات میں کوئی ایسا نہیں جو امام کی طرح سارے علوم پربول سکے الخ۔

          تاریخ آئمہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی تصنیفات کاذکرکرتے ہوئے لکھاہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک کتاب کیمیا جفر رمل پرلکھی تھی حضرت کے شاگرد و مشہور و معروف کیمیاگر جابربن حیان جو یورپ میں جبرکے نام سے مشہورہیں جابرصوفی کالقب دیاگیاتھا اور ذوالنون مصری کی طرح وہ بھی علم باطن سے ذوق رکھتے تھے، ان جابرابن حیان نے ہزاروں ورق کی ایک کتاب تالیف کی تھی جس میں حضرت امام جعفر صادق کے پانچ سو رسالوں کوجمع کیاتھا، علامہ ابن خلکان کتاب وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۱۳۰ طبع مصر میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے مقالات علم کیمیا اورعلم جفر و فال میں موجودہیں اورجابربن حیان طرسوسی آپ کے شاگردتھے، جنہوں نے ایک ہزار ورق کی کتاب تالیف کی تھی، جس میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے پانچ سورسالوں کوجمع کیاتھا، علامہ خیرالدین زرکلی نے بھی الاعلام جلد ۱ ص ۱۸۲ طبع مصرمیں یہی کچھ لکھاہے، اس کے بعد تحریر کیاہے کہ ان کی بے شمار تصانیف ہیں جن کاذکرابن ندیم نے اپنی فہرست میں کیاہے علامہ محمدفریدوجدی نے دائرئہ معارف القرآن الرابع عشر کی ج ۳ ص ۹۰۱ طبع مصرمیں بھی لکھاہے کہ جابربن حیان نے امام جعفر صادق کے پانچ سو رسائل کوجمع کرکے ایک کتاب ہزارصفحے کی تالیف کی تھی، علامہ ابن خلدون نے بھی مقدمہ ابن خلدون مطبوعہ مصرص ۳۸۵ میں علم کیمیا میں علم کیمیا کا ذکر کرتے ہوئے جابربن حیان کا ذکر کیاہے اور فاضل ہنسوی نے اپنی ضخیم کتاب اورکتاب خانہ غیرمطبوعہ میں بحوالہ مقدمہ ابن خلدون ص ۵۷۹ طبع مصرمیں لکھاہے کہ جابربن حیان علم کیمیاکے مدون کرنے والوں کاامام ہے، بلکہ اس علم کے ماہرین نے اس کو جابرسے اتنامخصوص کردیاہے کہ اس علم کانام ہی ”علم جابر“ رکھ دیاہے (الجوادشمارہ ۱۱ جلد ۱ ص ۹) ۔

          مورخ ابن القطفی لکھتے ہیں کہ جابربن حیان کوعلم طبیعات اور کیمیا میں تقدم حاصل ہے ان علوم میں اس نے شہرئہ افاق کتابیں تالیف کی ہیں ان کے علاوہ علوم فلسفہ وغیرہ میں شرف کمال پرفائزتھے اوریہ تمام کمالات سے بھرپورہونا علم باطن کی پیروی کانتیجہ تھا ملاحظہ ہو (طبقات الامم ص ۹۵ واخبارالحکماص ۱۱۱ طبع مصر)۔

          پیام اسلام جلد ۷ ص ۱۵ میں ہے کہ یہ وہی خوش قسمت مسلمان ہے جسے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی کاشرف حاصل تھا،اس کے متعلق جنوری ۲۵ ء میں سائنس پروگریس نوشتہ جے ہولم یارڈایم ائے ایف آئی سی آفیسر اعلی شعبئہ سائنس کفٹن کالج برسٹل نے لکھاہے کہ علم کیمیا کے متعلق زمانہ وسطی کی اکثرتصانیف ملتی ہیں جن میں گیبرکاذکرآتاہے اورعام طورپرگیبرابن حین اوربعض دفعہ گیبرکی بجائے جیبربھی دیکھاگیاہے اورگیبریاجیبردراصل جابرہے، چنانچہ جہاں کہیں بھی لاطینی کتب میں گیبرکاذکرآتاہے وہاں مرادعربی ماہرکیمیاجابربن حیان ہی ہے جسے() کے بجائے() کاآناجانا آسانی سے سمجھ میں آجاتاہے لاطینی میں جے کے مترادف کوئی آواز اور بعض علاقوں مثلا مصر وغیرہ میں جے کواب بھی بطور(جی) یعنی (گ) استعمال کیاجاتا ہے اس کے علاوہ خلیفہ ہارون رشیدکے زمانے میں سائنس کیمسٹری وغیرہ کاچرچہ بہت ہوچکاہے اوراس علم کے جاننے والے دنیاکے گوشہ گوشہ سے کھینچ کر دربارخلافت سے منسلک ہورہے تھے جابربن حیان کازمانہ بھی کم وبیش اس ہی دورمیں پھیلاتھا پچھلے بیس پچیس سال میں انگلستان اورجرمنی میں جابرکے متعلق بہت سی تحقیقات ہوئی ہیں لاطینی زبان میں علم کیمیاکے متعلق چندکتب سینکڑوں سال سے اس مفکرکے نام سے منسوب ہیں جس میں مخصوص

 ۱ ۔ سما

 ۲ ۔ برفیکشن

۳ ۔ ڈی انویسٹی پرفیکشن

 ۴ ۔ڈی انویسٹی گیشن ورٹیلس

 ۵ ۔ ٹٹیابہن لیکن ان کتابوں کے متعلق اب تک ایک طولانی بحث ہے اوراس وقت مفکرین یورپ انہیں اپنے یہاں کی پیداواربتاتے ہیں اس لیے انہیں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جابرکوحرف (جی)(گ) سے پکاریں اور بجائے عربی النسل کے اسے یورپین ثابت کریں۔

          حالانکہ سماکے کئی طبع شدہ ایڈیشنوں میں گیبرکوعربی ہی کہاگیاہے رسل کے انگریزی ترجمہ میں اسے ایک مشہور عربی شہزادہ اور منطقی کہاگیاہے ۱۵۴۱ ء میں کی نورن برگ کے ایڈیشن میں وہ صرف عرب ہے اسی طرح اوربہت سے قلمی نسخے ایسے مل جاتے ہیں جن میں کہیں اسے ایرانیوں کے بادشاہ سے یادکیاگیاہے کسی جگہ اسے شاہ بندکہاگیاہے ان اختلافات سے سمجھ میں آتاہے کہ جابربراعظم ایشیاسے نہ تھا بلکہ اسلامی عرب کاایک درخشندہ ستارہ تھا۔

          انسائکلوپیڈیاآف اسلامک کیمسٹری کے مطابق جعفربرمکی کے ذریعہ سے جابربن حیان کاخلیفہ ہارون الرشیدکے دربارمیں آناجاناشروع ہوگیاچنانچہ انہوں نے خلیفہ کے نام سے علم کیمیامیں ایک کتاب لکھی جس کانام ”شگوفہ“ رکھااس کتاب میں اس نے علم کیمیاکے جلی وخفی پہلوؤں کے متعلق نہایت مختصرطریقے نہایت ستھراطریق عمل اورعجیب وغریب تجربات بیان کئے جابرکی وجہ ہی سے قسطنطنیہ سے دوسری دفعہ یونانی کتب بڑی تعدادمیں لائی گئیں ۔

          منطق میں علامہ دہرمشہورہوگیا اورنوے سال سے کچھ زائدعمرمیں اس نے تین ہزارکتابیں لکھیں اوران کتابوں میں سے وہ بعض پرنازکرتاتھا اپنی کسی تصنیف کے بارے میں اس نے لکھا ہے کہ ”روئے زمین پرہماری اس کتاب کے مثل ایک کتاب بھی نہیں ہے نہ آج تک ایسی کتاب لکھی گئی ہے اورنہ قیامت تک لکھی جائے گی (سرفراز ۲/ دسمبر ۱۹۵۲ ء)۔

          فاضل ہنسوی اپنی کتاب”وکتاب خانہ“ میں لکھتے ہیں کہ جابرکے انتقال کے بعد دوبرس بعدعزالدودولہ ابن معزالدولہ کے عہدمیں کوفہ کے شارع باب الشام کے قریب جابرکی تجربہ گاہ کاانکشاف ہواچکاتھا جس کوکھودنے کے بعدبعض کیمیاوی چیزیں اورآلات بھی دستیاب ہوئے ہیں(فہرست ابن الندیم ۴۹۹) ۔

          جابرکے بعض قدیمی مخطوطات برٹش میوزیم میں اب تک موجودہیں جن میں سے کتاب الخواص قابل ذکرہے اسی طرح قرون وسطی میں بعض کتابوں کاترجمہ لاطینی میں کیاگیامنجملہ ”ان تراجم کے کتاب“ سبعین بھی ہے جوناقص و ناتمام ہے اسی طرح ”البحث عن الکمال“ کاترجمہ بھی لاطینی میں کیاجاچکاہے یہ کتاب لاطینی زبان میں کیمیاپریورپ کی زبان میں سب سے پہلی کتاب ہے اسی طرح اوردوسری کتابیں بھی مترجم ہوئیں جابرنے کیمیاکے علاوہ طبیعیات،ہیئت،علم رویا،منطق،طب اوردوسرے علوم پربھی کتابیں لکھیں اس کی ایک کتاب سمیات پربھی ہے ۔

          یوسف الیاس سرکس صاحب معجم المطبوعات بتلاتے ہیں کہ جابربن حیان کی ایک نفیس کتاب سمیات بربھی ہے جوکتب خانہ تیموریہ قاہرہ مصرمیں بہ ضمن مخطوطات ہے ان میں چندایسے مقالات کوجوبہت مفیدتھے بعدکرئہ حروف نے رسالہ مقتطف جلد ۵۸،۵۹ میں شائع کیاہے ملاحظہ ہو(معجم ا لمطبوعات العربیہ المعربہ جلد ۳ حرف جیم ص ۶۶۵) ۔

          جابر بحیثیت ایک طبیب کے کام کرتاتھا لیکن اس کی طبی تصانیف ہم تک نہ پہنچ سکیں، حالانکہ اس مقالہ کا لکھنے والا یعنی ڈاکٹر ماکس می یرہاف نے جابرکی کتاب کوجوسموم پرہے حال ہی میں معلوم کرلیاہے۔

          جابرکی ایک کتاب جس کومع متن عربی اور ترجمہ فرانسیسی پول کراؤ متشرق نے ۱۹۳۵ ء میں شائع کیاہے ایسی بھی ہے جس میں اس نے تاریخ انتشارآراوعقائد وافکارہندی، یونانی اوران تغیرات کاذکرکیاہے جومسلمانوں نے کئے ہیں اس کتاب کانام ”اخراج مافی القوة الی الفعل “ ہے (الجوادج ۹،۱۰ ص ۱۰ طبع بنارس)۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

صادق آل محمد کے علمی فیوض و برکات

          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام جنہیں راسخین فی العلم میں ہونے کاشرف حاصل ہے اورجوعلم اولین وآخرین سے آگاہ اوردنیاکی تمام زبانوں سے واقف ہیں جیساکہ مورخین نے لکھاہے میں ان کے تمام علمی فیوض وبرکات پرتھوڑے اوراق میں کیاروشنی ڈال سکتاہوں میں نے آپ کے حالات کی چھان بین کی ہے اوریقین رکھتاہوں کہ اگرمجھے فرصت ملے،توتقریبا چھ ماہ میں آپ کے علوم اورفضائل وکمالات کاکافی ذخیرہ جمع کیاجاسکتاہے آپ کے متعلق امام مالک بن انس لکھتے ہیں میری آنکھوں نے علم وفضل وروع وتقوی میں امام جعفر صادق سے بہتردیکھاہی نہیں جیساکہ اوپرگذراوہ بہت بڑے لوگوں میں سے تھے اوربہت بڑے زاہدتھے خداسے بے پناہ ڈرتے تھے ،بے انتہاحدیث بیان کرتے تھے ،بڑی پاک مجلس والے اورکثیرالفوائد تھے، آپ سے مل کر بے انتہاء فائدہ اٹھایاجاتاتھا(مناقب ابن شہرآشوب جلد ۵ ص ۵۲ طبع بمبئی)۔

 

علمی فیوض رسانی کا موقع

          یوں توہمارے تمام آئمہ اہلبیت علمی فیوض وبرکات سے بھرپورتھے اورعلم اولین وآخرین کے مالک،لیکن دنیاوالوں نے ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے انہیں قیدوبندمیں رکھ کرعلوم وفنون کے خزانے پرہتھکڑیوں اوربیڑیوں کے ناگ بٹھادئیے تھے اس لےے ان حضرات کے علمی کمالات کماحقہ، منظرعام پرنہ آسکے ورنہ آج دنیاکسی علم میں خاندان رسالت مآب کے علاوہ کسی کی محتاج نہ ہوتی فاضل معاصرمولاناسبط الحسن صاحب ہنسوی لکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام المتوفی ۱۴۸ ھ کاعہدمعارف پروری کے لحاظ سے ایک زرین عہدتھا،وہ رکاوٹیں جوآپ سے قبل آئمہ اہل بیت کے لیے پیش آیاکرتی تھیں ان میں کسی حدتک کمی تھی ،اموی حکومت کی تباہی اورعباسی سلطنت کااستحکام آپ کے لیے سکون وامن کاسبب بنااس لیے حضرت کومذہب اہلیبت کی اشاعت اورعلوم وفنون کی ترویج کاایک بہترین موقع ملالوگوں کوبھی ان عالمان ربانی کی طرف رجوع کرنے میں اب کوئی خاص زحمت نہ تھی جس کی وجہ سے آپ کی خدمت میں علاوہ حجازکے دوردرازمقامات مثل عراق ،شام،خراسان، کابل سندھ ہند اوربلادروم ،فرنگ کے طلباء وشائقین علم حاضرہوکر مستفیدہوتے تھے حضرت کے حلقہ درس میں چارہزاراصحاب تھے علامہ شیخ مفیدعلیہ الرحمہ کتاب الارشادمیں فرماتے ہیں :

          ترجمہ : لوگوں نے آپ کے علوم کونقل کیاجنہیں تیزسوارمنازل بعیدہ کی طرف لے گئے اورآوازہ آپ کے کمال کاتمام شہروں میں پھیل گیااورعلماء نے اہل بیت میں کسی سے بھی اتنے علوم وفنون کونہیں نقل کیاہے جوآپ سے روایت کرتے ہیں اورجن کی تعدادچارہزاہے غیرعرب طالبان علم سے ایک رومی النسل بزرگ زرارہ بن اعین متوفی ۱۵۰ ھ قابل ذکرہیں جن کے داداسنسن بلادردم کے ایک مقدس راہب ( Nonk ) تھے زرارہ اپنی خدمات علمیہ کے اعتبارسے اسلامی دنیامیں کافی شہرت رکھتے تھے اورصاحب تصانیف تھے (کتاب الاستطاعت والجبران کی مشہورتصنیف ہے (منہج المقال ص ۱۴۲ ،مولفواالشیعة فی صدر اسلام ص ۵۱) ۔

 

کتب اصول اربعمایة

          حضرت کے اصحاب میں چارسوایےس مصنفین تھے جنہوں نے علاوہ دیگرعلوم و فنون کے کلام مصوم کوضبط کرکے چارسوکتب اصول مدون کیں اصل سے مراد مجموعہ احادیث اہلبیت کی وہ کتابیں ہیں جن میں جامع نے خودبراہ راست معصوم سے روایت کرکے احادیث کو ضبط تحریر کیاہے یاایسے راوی سے سناہے جوخود معصوم سے روایت کرتاہے اس قسم کی کتاب میں جامع کی دوسری کتاب یارویت سے معنعنا (عن فلاں عن فلاں) کے ساتھ نہیں نقل کرتا جس کی سند میں اوروسائط کی ضرورت ہواس لیے کتب اصول میں خطاوغلط سہوونسیان کااحتمال بہ نسبت اوردوسری کتابوں کے بہت کم ہے کتب اصول کے زمانہ تالیف کاانحصارعہد امیرالمومنین سے لے کرامام حسن عسکری کے زمانہ تک ہے حس میں اصحاب معصومین نے بالمشاذمعصوم سے روایت کرکے احادیث کوجمع کیاہے یاکسی ایسے ثقہ راوی سے حدیث معصوم کواخذکیاہے جوبراہ راست معصوم سے روایت کرتا ہے شیخ ابوالقاسم جعفربن سعید المعروف بالمحقق الحلی اپنی کتاب المعبر میں فرماتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے جوابات مسائل کوچارسومصنفین اصحاب امام نے تحریرکرکے چارسوتصانیف مکمل کی ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

صادق آل محمد کے اصحاب کی تعداد اوران کی تصانیف

          آگے چل کر فاضل معاصرالجوادمیں بحوالہ کتاب وکتب خانہ لکھتے ہیں کتب رجال میں جن اصحاب آئمہ کے حالات وتراجم مذکورہیں ،ان کی مجموعی تعدادچار ہزارپانچ سواصحاب ہیں جن میں سے صرف چارہزاراصحاب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہیں سب کاتذکرہ ابوالعباس احمدبن محمدبن سعیدبن عقدہ نے اپنی کتاب رجال میں کیاہے اورشیخ الطائفہ ابوجعفرالطوسی نے بھی ان سب کااحصاء اپن ی کتاب رجال میں کیاہے ۔

          معصومین علیہم السلام کے تمام اصحاب میں سے مصنفین کی جملہ تعداد ایک ہزارتین سوسے زائدنہیں ہے جنہوں نے سینکڑوں کی تعدادمیں کتب اصول اورہزاروں کی تعدادمیں دوسری کتابیں تالیف اورتصنیف کی ہیں جن میں سے بعض مصنفین اصحاب آئمہ توایسے تھے جنہوں نے تنہا سینکڑوں کتابیں لکھیں ۔

          فضل بن شاذان نے ایک سواسی کتابیں تالیف کی ہیں،ابن دول نے سوکتابیں لکھیں ہیں اسی طرح برقی نے بھی تقریبا سوکتابیں لکھیں ،ابن عمیرنے نوے کتابیں لکھیں اوراکثراصحاب آئمہ ایسے تھے جنہوں نے تیس یاچالیس سے زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں غرضیکہ ایک ہزارتین سومصنفین اصحاب آئمہ نے تقریبا پانچ ہزارتصانیف کیں،مجمع البحرین میں لفظ جبرکے ماتحت ہے کہ صرف ایک جابرالجعفی،امام جعفر صادق علیہ السلام کے سترہزاراحادیث کے حافظ تھے۔

          تاریخ اسلام جلد ۵ ص ۳ میں ہے کہ ابان بن تغلب بن رباح (ابوسعید) کوفی صرف امام جعفر صادق علیہ السلام کی تیس ہزاراحادیث کے حافظ تھے ان کی تصانیف میں تفسیرغریب القرآن کتاب المفرد، کتاب الفضائل، کتاب الصفین قابل ذکرہیں، یہ قاری فقیہ لغوی محدث تھے، انہیں حضرت امام زین العابدین اورحضرت امام محمدباقر،حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے صحابی ہونے کاشرف حاصل تھا ۱۴۱ ھ میں انتقال کیا۔

 

حضرت صادق آل محمد اور علم طب

          علامہ ابن بابویہ انفمی کتاب الخصائل جلد ۲ باب ۱۹ ص ۹۷،۹۹ طبع ایران میں تحریرفرماتے ہیں کہ ہندوستان کاایک مشہورطبیب منصوردوانقی کے دربارمیں طلب کیاگیا،بادشاہ نے حضرت سے اس کی ملاقات کرائی، امام جعفر صادق علیہ السلام نے علم تشریح الاجسام اورافعال الاعضاء کے متعلق اس سے انیس سوالات کئے وہ اگرچہ اپنے فن میں پوراکمال رکھتاتھا لیکن جواب نہ دے سکابالاخرکلمہ پڑھ کرمسلمان ہوگیا،علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اس طبیب سے حضرت نے بیس سوالات کئے تھے اوراس انداز سے پرازمعلومات تقریرفرمائی کہ وہ بول اٹھا ”من این لک ہذا العلم“اے حضرت یہ بے پناہ علم آپ نے کہاں سے حاصل فرمایا؟ آپ نے کہاکہ میں نے اپنے باپ داداسے ،انہوں نے محمدمصطفی صلعم سے ،انہوں نے جبرئیل سے ،انہوں نے خداوند عالم سے اسے حاصل کیاہے ،جس نے اجسام وارواح کوپیداکیاہے ”فقال الھندی صدقت-“ اس نے کہابے شک آپ نے سچ فرمایا،اس کے بعد اس نے کلمہ پڑھ کراسلام قبول کرلیااورکہا ”انک اعلم اہل زمانہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ عہدحاضرکے سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب ابن شہرآشوب جلد ۱ ص ۴۵ طبع بمبئی)۔

 

حضرت صادق آل محمد کا علم القرآن

          مختصریہ کہ آپ کے علمی فیوض و برکات پرمفصل روشنی ڈالنی تودشوارہے جیساکہ میں نے پہلے عرض کیاہے ،البتہ صرف یہ عرض کردیناچاہتاہوں کہ علم القرآن کے بارے میں دمعہ ساکبہ ص ۴۸۷ پرآپ کاقول موجودہے وہ فرماتے ہیں خداکی قسم میں قرآن مجیدکواول سے آخرتک اس طرح جانتاہوں گویامیرے ہاتھ میں آسمان وزمین کی خبریں ہیں،اوروہ خبریں بھی ہیں جوہوچکی ہیں،اورہورہی ہیں اورجوہونے والی ہیں اورکیوں نہ ہوجبکہ قرآن مجیدمیں ہے کہ اس پرہرچیزعیاں ہے ایک مقام پرآپ نے فرمایاہے کہ ہم انبیاء اوررسل کے علوم کے وارث ہیں (دمعہ ساکبہ ص ۴۸۸) ۔

 

علم النجوم

          علم النجوم کے بارے میں اگرآپ کے کمالات دیکھناہوں توکتب طوال کامطالعہ کرنا چاہئے آپ نے نہایت جلیل علماء علم النجوم سے مباحثہ اورمناظرہ کرکے انہیں انگشت بدندان کردیاہے ،بحارالانوار،مناقب شہرآشوب ،دمعہ ساکبہ ،وغیرہ میں آپ کے مناظرے موجود ہیں علماء کافیصلہ ہے کہ علم نجوم حق ہے لیکن اس کاصحیح علم آئمہ اہلبیت کے علاوہ کسی کونصیب نہیں ،یہ دوسری بات ہے کہ حلقہ گوشان مودت نورہدایت سے کسب ضیا کرلیں۔

 

علم منطق الطیر

          صادق آل محمد دیگر آئمہ کی طرح منطق الطیر سے بھی باقاعدہ واقف تھے، جوپرندہ یاکوئی جانورآپس میں بات چیت کرتاتھااسے آپ سمجھ لیاکرتے تھے اوربوقت ضرورت اس کی زبان میں تکلم فرمایاکرتے تھے مثال کے لیے ملاحظہ ہو، کتاب تفسیرلباب التاویل جلد ۵ ص ۱۱۳، معالم التنزیل ص ۱۱۳، عجائب القصص ص ۱۰۵، نورالابصار ص ۳۱۱، طبع ایران میں ہے کہ صادق آل محمدنے قبرنامی پرندہ جس کو (چکور) یاچنڈول کہتے ہیں کہ بولتے ہوئے اصحاب سے فرمایا کہ تم جانتے ہے یہ کیاکہتاہے اصحاب نے صراحت کی خواہش کی توفرمایایہ کہتاہے ”اللہم العن مبغضی محمد و آل محمد“ خدایامحمد، آل محمد سے بغض رکھنے والوں پرلعنت کر، فاختہ کی آوازپرآپ نے کہاکہ اسے گھرمیں نہ رہنے دو، یہ کہتی ہے کہ ”فقدتم فقدتم“ خداتمہیں نیست و نابودکرے، وغیرہ وغیرہ۔

 

حضرت امام صادق علیہ السلام اور علم الاجسام

          مناقب بن شہرآشوب اوربحارالانوارجلد ۱۴ میں ہے کہ ایک عیسائی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے علم طب کے متعلق سوالات کرتے ہوئے جسم انسان کی تفصیل پوچھی آپ نے ارشادفرمایاکہ خداوندعالم نے انسان کے جسم میں ۱۲ وصل دوسواڑتالیس ہڈیاں اورتین سوساٹھ رگیں خلق فرمائی ہیں، رگیں تمام جسم کوسیراب کرتی ہیں ،ہڈیاں جسم کو،گوشت ہڈیوں کواوراعصاب گوشت کوروکے رہتے ہیں۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

حضرت امام صادق علیہ السلام کی انجام بینی اور دوراندیشی

          مورخین لکھتے ہیں کہ جب بنی عباس اس بات پرآمادہ ہوگئے کہ بنی امیہ کوختم کردیں ،توانہوں نے یہ خیال کیاکہ آل رسول کی دعوت کاحوالہ دئیے بغیرکام چلنا مشکل ہے لہذاوہ امدادوانتقام آل محمدکی طرف دعوت دینے لگے اوریہی تحریک کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے جس سے عام طورپرآل محمدیعنی بنی فاطمہ کی اعانت سمجھی جاتی تھی ،اسی وجہ سے شیعیان بنی فاطمہ کوبھی ان سے ہمدردی پیداہوگئی تھی اوروہ ان کے معاون ہوگئے تھے اوراسی سلسلہ میں ابوسلمہ جعفربن سلیمان کوفی آل محمد کی طرف سے وزیرتجویزکئے تھے یعنی یہ گماشتہ کے طورپرتبلیغ کرتے تھے انہیں امام وقت کی طرف سے کوئی اجازت حاصل نہ تھی،یہ بنی کے مقابلہ میں بڑی کامیابی سے کام کررہے تھے جب حالات زیادہ سازگارنظرآئے توانہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابومحمدعبداللہ بن حسن کوالگ الگ ایک ایک خط لکھاکہ آپ یہاں آجائیں تاکہ آپ کی بیعت کی جائے۔

          قاصداپنے اپنے خطوط لے کرمنزل تک پہنچے، مدینہ میں جس وقت قاصدپہنچا وہ رات کاوقت تھا،قاصدنے عرض کی مولامیں،ابوسلمہ کاخط لایاہوں حضوراسے ملاحظہ فرماکرجواب عنایت فرمائیں۔

          یہ سن کرحضرت نے چراغ طلب کیااورخط لے کراسی وقت پڑھے بغیرنذرآتش کردیااورقاصدسے فرمایاکہ ابوسلمہ سے کہناکہ تمہارے خط کایہی جواب تھا۔

          ابھی وہ قاصد مدینہ پہنچابھی نہ تھا کہ ۳/ ربیع الاول ۱۲۳ ھ کوجمعہ کے دن حکومت کافیصلہ ہوگیا اور سفاح عباسی خلیفہ بنایاجاچکاتھا(مروج الذہب مسعودی برحاشیہ کامل جلد ۸ ص ۳۰، تاریخ الخلفاء ص ۲۷۲ ،حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۷۴ ، تاریخ آئمہ ص ۴۳۳ ،)۔

 

امام جعفر صادق علیہ السلام کا دربار منصور میں ایک طبیب ہندی سے تبادلہ خیالات

  علامہ رشیدالدین ابوعبداللہ محمدبن علی بن شہرآشوب مازندرانی المتوفی ۵۸۸ ء نے دربارمنصورکاایک اہم واقعہ نقل فرمایاہے جس میں مفصل طورپریہ واضح کیاہے کہ ایک طبیب جس کواپنی قابلیت پربڑابھروسہ اورغرورتھا وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے سامنے کس طرح سپرانداختہ ہوکرآپ کے کمالات کامعترف ہوگیاہم موصوف کی عربی عبارت کاترجمہ اپنے فاضل معاصر کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں:

   ایک بار حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام منصور دوانقی کے دربارمیں تشریف فرماتھے، وہاں ایک طبیب ہندی کی باتیں بیان کررہاتھا اورحضرت خاموش بیٹھے سن رہے تھے جب وہ کہہ چکاتو حضرت سے مخاطب ہوکرکہنے لگا اگرکچھ پوچناچاہیں توشوق سے پوچھیں، آپ نے فرمایا، میں کیاپوچھوں،مجھے تجھ سے زیادہ معلوم ہے (طبیب اگریہ بات ہے تومیں بھی کچھ سنوں ۔

     امام : جب کسی مرض کاغلبہ ہوتواس کاعلاج ضدسے کرناچاہئے یعنی حارگرم کاعلاج سردسے ترکاخشک سے ،خشک کاترسے اورہرحالت میں اپنے خداپربھروسہ رکھے یادرکھ معدہ تمام بیماریوں کاگھرہے اورپرہیزسودواں کی ایک دواہے جس چیزکاانسان عادی ہوجاتاہے اس کے مزاج کے موافق اورا سکی صحت کاسبب بن جاتی ہے ۔

   طبیب: بے شک آپ نے جوبیان فرمایاہے اصلی طب ہے۔

   امام : اچھامیں چندسوال کرتاہوں،ان کاجواب دے : آنسووں اوررطوبتوں کی جگہ سرمیں کیوں ہے؟ سرپربال کیوں ہے؟ پیشانی بالوں سے خالی کیوں ہے؟ پیشانی پرخط اورشکن کیوں ہے؟ دونوں پلکیں آنکھوں کے اوپرکیوں ہیں؟ ناک کاسوراخ نیچے کی طرف کیوں ہے؟ منہ پردوہونٹ کیوں بنائے گئے ہیں؟ سامنے کے دانت تیزاورڈاڈھ چوڑی کیوں ہے؟ اوران دونوں کے درمیان میں لمبے دانت کیوں ہیں؟ دونوں ہتھیلیاں بالوں سے خالی کیوں ہیں؟

   ردوں کے ڈاڈھی کیوں ہوتی ہے؟ ناخن اوربالوں میں جان کیوں نہیں؟ دل صنبوری شکل کاکیوں ہوتاہے؟ پھیپڑے کے دوٹکڑے کیوں ہوتے ہیں،اوروہ اپنی جگہ حرکت کیوں کرتاہے؟ جگرکی شکل محدب کیوں ہے، گردے کی شکل لوبئے کے دانے کی طرح کیوں ہوتی ہے گھٹنے آگے کوجھکتے ہیں پیچھے کوکیوں نہیں جھکتے؟ دونوں پاوں کے تلوے بیچ سے خالی کیوں ہیں؟

   طبیب: میں ان باتوں کاجواب نہیں دے سکتا۔

امام : بفضل خدا میں ان سب باتوں کاجواب جانتاہوں ۔

طبیب بیان فرمائیے۔

امام علیہ السلام :

          ۱ ۔ سراگرآنسوؤں اوررطبوتوں کامرکزنہ ہوتاتوخشکی کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔

          ۲ ۔  بال اس لیے سرپرہیں کہ ان کی جڑوں سے تیل وغیرہ دماغ تک پہنچتارہے اوربہت سے دماغی انجرے نکلتے رہیںدماغ گرمی اورزیادہ سردی سے محفوظ رہے۔

          ۳ ۔  پیشانی اس لیے بالوں سے خالی ہے کہ اس جگہ سے آنکھوں میں نور پہنچتاہے۔

          ۴ ۔  پیشانی میں خطوط اورشکن اس لیے ہیں کہ سرسے جوپشینہ گرے وہ آنکھوں میں نہ پڑجائے ،جب شکنوں میں پسینہ جمع ہوتوانسان اسے پونچھ کرپھینک دے جس طرح زمین پرپانی جاری ہوتاہے توگڑھوں میں جمع ہوجاتاہے۔

          ۵ ۔  پلکیں اس لیے آنکھوں پرقراردی گئی ہیں کہ آفتاب کی روشنی اسی قدران پر پڑے جتنی کہ ضرورت ہے اوربوقت ضرورت بندہوکرمردمک چشم کی حفاظت کرسکیں نیزسونے میں مدد دے سکیں، تم نے دیکھاہوگاکہ جب انسان زیادہ روشنی میں بلندی کی طرف کسی طرف کسی چیزکودیکھناچاہتاہے توہاتھ کوآنکھوں کے اوپررکھ کرسایہ کرلیتاہے۔

          ۶ ۔  ناک دونوں آنکھوں کے بیچ میں اس لیے قراردیاہے کہ مجمع نورسے روشنی تقسیم ہوکربرابردونوں آنکھوں کوپہنچے۔

          ۷ ۔  آنکھوں کوبادامی شکل کااس لیے بنایاہے کہ بوقت ضرورت سلائی کے ذریعہ سے دوا(سرمہ وغیرہ) اس میں آسانی سے پہنچ جائے،اگرآنکھ چوکور یاگول ہوتی توسلائی کااس میں پھرنامشکل ہوتادوااس میں بخوبی نہ پہنچ سکتی اوربیماری دفع نہ ہوتی۔

          ۸ ۔  ناک کاسوراخ نیچے کواس لیے بنایاکہ دماغی رطوبتیں آسانی سے نکل سکیں، اگراوپرکوہوتاتویہ بات نہ ہوتی اوردماغ تک کسی چیزکی بوبھی جلدی نہ پہنچ سکتی

          ۹ ۔  ہونٹ اس لیے منہ پرلگائے گئے کہ جورطوبتیں دماغ سے منہ میں آئیں وہ رکی رہیں اورکھانابھی انسان کے اختیارمیں رہے جب چاہے پھینک اورتھوک دے۔

          ۱۰ ۔  داڑھی مردوں کواس لیے دی کہ مرداورعورت میں تمیزہوجائے ۔

          ۱۱ ۔  اگلے دانت اس لیے تیزہیں کہ کسی چیزکاکاٹنایاکھٹکھٹاسہل ہو، اورڈاڈھ کوچوڑا اس لیے بنایاکہ غذا پیسنا اورچبانا آسان ہو، ان دونوں کے درمیان لمبے دانت اس لیے بنائے کہ ان دونوں کے استحکام کے باعث ہوں، جس طرح مکان کی مضبوطی کے لیے ستون (کھمبے) ہوتے ہیں۔

          ۱۲ ۔  ہتھیلوں پربال اس لیے نہیں کہ کسی چیزکوچھونے سے اس کی نرمی سختی، گرمی، سردی وغیرہ آسانی سے معلوم ہوجائے، بالوں کی صورت میں یہ بات حاصل نہ ہوتی۔

          ۱۳ ۔ بال اورناخن میں جان اس لیے نہیں ہے کہ ان چیزوں کابڑھنابرامعلوم ہوتاہے اورنقصان رساں ہے،اگران میں جان ہوتی توکاٹنے میں تکلیف ہوتی

          ۱۴ ۔  دل صنوبری شکل یعنی سرپتلااوردم چوڑی (نچلاحصہ) اس لیے ہے کہ بآسانی پھیپڑے میں داخل ہوسکے اوراس کی ہواسے ٹھنڈک پاتارہے تاکہ اس کے بخارات دماغ کی طرف چڑھ کربیماریاں پیدانہ کرے۔

          ۱۵ ۔  پھیپڑے کے دوٹکڑے اس لیے ہوے کہ دل ان کے درمیان ہے اوروہ اس کوہوادیں۔

          ۱۶ ۔  جگرمحدب اس لیے ہواہے کہ اچھی طرح معدے کے اوپرجگہ پکڑے اوراپنی گرانی اورگرمی سے غذا کوہضم کرے۔

          ۱۷ ۔  کردہ لوبئے کے دانہ کی شکل کااس لیے ہواکہ (منی) یعنی نطفہ انسانی پشت کی جانب سے اس میں آتاہے اوراس کے پھیلنے اورسکڑنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نکلتاہے جوسبب لذت ہے۔

          ۱۸ ۔  گھٹنے پیچھے کی طرف اس لیے نہیں جھکتے کہ چلنے میں آسانی میں ہواگرایسانہ ہوتاتوآدمی چلتے وقت گرگرپڑتا، آگے چلنا آسان نہ ہوتا۔

          ۱۹ ۔  دونوں پیروں کے تلوے بیچ میں سے اس لیے خالی ہیں کہ دونوں کناروں پربوجھ پڑنے سے باسانی پیراٹھ سکیں اگرایسانہ ہوتااورپورے بدن کابوجھ پیروں پرپڑتاتوسارے بدن کابوجھ اٹھانا دشوارہوتا۔

          یہ جوابات سن کرہندوستانی طبیب حیران رہ گیااورکہنے لگاکہ آپ نے یہ علم کس سے سیکھاہے فرمایااپنے داداسے انہوں نے رسول خداسے حاصل کیاتھا اورانہوں نے خداسے سیکھاہے اس نے کہا ”اشہدان لاالہ الااللہ وان محمدارسول اللہ وعبدہ“ میں گواہی دیتاہوں کہ خداایک ہے اورمحمداس کے رسول اورعبد خاص ہیں ،”وانک اعلم اہل زمانہ“ اورآپ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عالم ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۴۶ طبع بمبئی وسوانح چہاردہ معصومین حصہ ۲ ص ۲۵) ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

امام جعفر صادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت جلادینے کامنصوبہ

          طبیب ہندی سے گفتگوکے بعدامام علیہ السلام کاعام شہرہ ہوگیااورلوگوں کے قلوب پہلے سے زیادہ آپ کی طرف مائل ہوگئے، دوست اوردشمن آپ کے علمی کمالات کاذکرکرنے لگے یہ دیکھ کرمنصورکے دل میں آگ لگ گئی ،اوروہ اپنی شرارت کے تقاضوں سے مجبورہوکریہ منصوبہ بنانے لگاکہ اب

 جلدسے جلدانہیں ہلاک کردیناچاہئے،چنانچہ اس نے ظاہری قدرومنزلت کے ساتھ آپ کومدینہ روانہ کرکے حاکم مدینہ حسین بن زیدکوحکم دیا۔

          ان احرق جعفربن محمدفی دارہ “ امام جعفر صادق علیہ السلام کوبال بچوں سمیت گھرکے اندرجلادیاجائے، یہ حکم پاکروالی مدینہ نے چندغنڈوں کے ذریعہ سے رات کے وقت جبکہ سب محوخواب تھے آپ کے مکان میں آگ لگوادی، اورگھرجلنے لگاآپ کے اصحاب اگرچہ اسے بجھانے کی پوری سعی کررہے تھے، لیکن بجھنے کونہ آتی تھی، بالاخرہ آپ انہیں شعلوں میں کہتے ہوئے کہ ”اناابن اعراق الثری اناابن ابراہیم الخلیل“ اے آگ میں وہ ہوں جس کے آباواجدادزمین آسمان کی بنیادوں کے سبب ہیں اورمیں خلیل خداابرہیم نبی کافرزندہوں،نکل پڑے۔

          اپنی عباکے دامن سے آگ بجھادی،(تذکرة المصومین ص ۱۸۱ بحوالہ اصول کافی آقائے کلینی علیہ الرحمة)۔

 

۱۴۷ ھ میں منصور کا حج اور امام جعفر صادق کے قتل کاعزم بالجزم

          علامہ شبلنجی اورعلامہ محمدبن طلحہ شافعی رقمطرازہیں کہ ۱۴۷ ھ میں منصورحج کوگیا، اسے چونکہ امام کے دشمنوں کی طرف سے برابریہ خبردی جاچکی تھی کہ امام جعفر صادق تیری مخالفت کرتے رہتے ہیں، اورتیری حکومت کاتختہ پلٹنے کی سعی میں ہیں،لہذا اس نے حج سے فراغت کے بعدمدینہ کاقصدکیااوروہاں پہنچ کراپنے مصاحب خاص، ربیع سے کہاکہ جعفربن محمدکوبلوادو، ربیع نے وعدہ کے باوجودٹال مٹول کی اس نے پھردوسرے دن سختی کے ساتھ کہاکہ انہیں بلواو،میں کہتاہوں کہ خدامجھے قتل کرے اگرمیں انہیں قتل نہ کرسکوں، ربیع نے امام جعفر صادق کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی، مولاآپ کومنصوربلارہاہے، اوراس کے تیوربہت خراب ہیں،مجھے یقین ہے کہ وہ اس ملاقات میں آپ کوقتل کردے گا، حضرت نے فرمایا”لاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم“ یہ اس دفعہ ناممکن ہے غرضکہ ربیع آنحضرت کولے کرحاضردربارہوا، منصور کی نظرجیسے ہی آپ پرپڑی توآگ بگولہ ہوکربولا”یاعدواللہ“ اے دشمن خداتم کواہل عراق امام مانتے ہیں اورتمہیں زکواة اموال وغیرہ دیتے ہیں اورمیری طرف ان کاکوئی دھیان نہیں، یادرکھو، میں آج تمہیں قتل کرکے چھوڑوں گا اوراس کے لیے میں نے قسم کھالی ہے ہے یہ رنگ دیکھ کرامام جعفر صادق نے ارشادفرمایا ایے امیر جناب سلیمان کو عظیم سلطنت دی گئی توانہوں نے شکرکیا، جناب ایوب بلا میں مبتلا کیا گیاتوانہوں نے صبرکیا، جناب یوسف پرظلم کیاگیاتوانہوں نے ظالموں کومعاف کردیا، اے بادشاہ یہ سب انبیاء تھے اورانہیں کی طرف تیرانسب بھی پہنچتاہے تجھے توان کی پیروی لازم ہے، یہ سن کراس کاغصہ ٹھنڈاہوگیا(نورالابصار ص ۱۲۳ ،مطالب السول ص ۲۶۷) ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت

          علماء فریقین کااتفاق ہے کہ بتاریخ ۱۵/ شوال ۱۴۸ ھ بعمر ۶۵ سال آپ نے اس دارفانی سے بطرف ملک جاودانی رحلت فرمائی ہے، ارشادمفید ص ۴۱۳ ، اعلام الوری ص ۱۵۹ ، نورالابصار ص ۱۲۳ ، مطالب السول ص ۲۷۷ ،یوم وفات دوشنبہ تھا اورمقام دفن جنت البقیع ہے۔

          علامہ ابن حجرعلامہ علامہ ابن جوزی علامہ شبلنجی علامہ ابن طلحہ شافعی تحریر رقمطرازہیں کہ مات مسموما ایام المنصور، منصورکے زمانہ میں آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں (صواعق محرقہ ص ۱۲۱، تذکرةخواص الامتہ، نورالابصار ص ۱۳۳، ارجح المطالب ص ۴۵۰) ۔

          علماء اہل تشیع کااتفاق ہے کہ آپ کو منصور دوانقی نے زہرسے شہید کرایاتھا، اور نمازحضرت امام موسی کاظم علیہ اسلام نے پڑھائی تھی علامہ کلینی اورعلامہ مجلسی کاارشادہے کہ آپ کونہایت کفن دیاگیا اورآپ کے مقام وقات پرہر شب چراغ جلایاجاتارہا۔ کتاب کافی و جلاء العیون مجلسی ص ۲۶۹ ۔

 

آپ کی اولاد

          آپ کے مختلف بیویوں سے دس اولاد تھیں جن میں سے سات لڑکے اورتین لڑکیاں تھیں لڑکوں کے نام یہ ہیں :

۱- جناب اسماعیل ۲- حضرت امام موسی کاظم ۳- عبداللہ ۴- اسحاق ۵- محمد ۶۔ عباس ۷۔ علی ۔ اورلڑکیوں کے اسماء یہ ہیں : ۱- ام فروہ ۲-  اسماء ۳- فاطمہ (ارشاد و جنات الخلود) علامہ شبلنجی نے سات اولاد تحریرکیاہے جن میں صرف ایک لڑکی کاحوالہ دیاہے جس کانام ”ام فروہ“ تھا(نورالابصار ص ۱۳۳) ۔

          آپ ہی کی اولادسے خلفاء فاطمیہ گزرے ہیں جن کی سلطنت ۲۹۷ ئسے ۵۶۷ ء تک دوسوسترسال قائم رہی، ان کی تعدادچودہ تھی۔