• صارفین کی تعداد :
  • 5479
  • 2/24/2008
  • تاريخ :

ناول کيا ھے ؟   

ناول

 

ناول اطالوي زبان کے لفظ Noveela سے نکلا ہے ?  لغت کے اعتبار سے ناول کے معني نادر اور نئي بات کے ہيں? ليکن صنف ادب ميں اس کي تعريف بنيادي زندگي کے حقائق بيا ن کرنا ہے? ناول کي اگر جامع تعريف کي جائے تو وہ کچھ يوں ہو گي ”ناول ايک نثر ي قصہ ہے جس ميں پوري ايک زندگي بيا ن کي جاتي ہے?“ناول کے عناصر ترکيبي ميں کہاني، پلاٹ، کردار ، مکالمے ، اسلوب اور موضوع و غيرہ شامل ہيں?

 

'' ناول'' کي  مختصر تاريخ

اردو ادب ميں پہلا ناول کا مرا? العروس ہے جو کہ 1869ء ميں لکھا گيا ? مرا? العروس ميں ناول کے سارے لوازمات تو شامل نہيں کيوں کہ نذير کے سامنے ناول کا کوئي نمونہ موجود نہيں تھا ? اُن کے ناولوں ميں اہم پہلو مقصديت کا ہے? اس کے بعد ہمار ے پاس سرشار کا ناول ”فسانہ آزاد “ آتا ہے جس ميں لکھنو معاشرت کي عکاسي نظر آتي ہے? پھر عبدالحليم شرر نے تاريخي ناولوں کے ذريعے مسلمانوں کو جگانے کي کوشش کي ? جبکہ علامہ راشد الخيري بھي معاشرے کي اصلاح پر زور ديتے ہيں ?

 

مرزا ہادي رسوا کا ناول ” امرا ؤجان ادا“ کو اردو ادب کا پہلا مکمل ناول کہا جاتا ہے جس ميں مربوط پلاٹ کے ساتھ ساتھ انسان کي داخليت اور نفسياتي پرتوں کو بھي بيان کيا ہے? رسوا کے بعد پريم چند کا نام بڑا مضبوط ہے انھوں نے کل 13 ناول لکھے ? جس ميں بيوہ ، بازارِ حسن ، اور ميدان ِعمل مشہور ہوئے? پريم چند کے ہاں بھي مقصديت بنيادي حيثيت رکھتي ہے ? ان کے ہاں جنسي موضوعات کے ساتھ ساتھ ترقي پسند سوچ اور انقلاب کے موضوعا ت بھي ملتے ہيں?

اس کے بعد ہمارے سامنے سجاد ظہير کا نام آتا ہے جنہوں نے ايک ناول”لندن کي ايک رات “ لکھا? يہ اردو ادب کا پہلا ناول ہے جس ميں شعور کي رو کي تکنيک استعمال کي گئي ہے? اس کے بعد قاضي عبدالغفار کا نام آتا ہے جنہوں نے پہلي مرتبہ ناول کي ہيئت ميں تبديلي کي اور خطوط کي ہيئت ميں ناول لکھے ان کے مشہور ناولوں ميں سے ”ليلي کے خطوط “ اور ”مجنوں کي ڈائري “ شامل ہيں?اس کے بعد کرشن چندر ہيں جنہوں نے افسانوں کے ساتھ ساتھ ناول بھي لکھے ان کے ناولوں ميں”سڑک “، ”غدار “، ”جب کھيت جاگ اُٹھے“ ? ان کے ہاں خوبصورت انداز بيان تو موجود ہے ليکن کہانياں زيادہ تر فلمي قسم کي ہيں? جس پرترقي پسند سوچ کا غلبہ ہے?

 

عزيزاحمد نے بھي کئي ناول لکھے مثلاً ”خون “ ، ”مرمر“ ، ”گريز“ ، ”آگ“ اور ”شبنم “ وغيرہ شامل ہيں? ان کے ناولوں ميں جديد انسان کے ذہن کے اندر جو انتشار ہے اُس کي عکاسي ملتي ہے? اس کے بعد عصمت چغتائي جنسي اور نفسياتي حوالے سے بہت مشہور ہيں? انھوںنے ”مصومہ “ ، ”ضدي “ ، ” ٹيڑھي لکير“ اور ”سودائي “جيسے ناول لکھے ?ان کے ہاں جنسي حوالے ضرور ہيں ليکن ان کے پس منظر ميں ہميشہ نفسياتي اور اشتراکي نقطہ نظر کارفرما رہتا ہے?

اس طرح ناول ارتقائي سفر کرتا ہوا 47 تک پہنچا جس ميں ترقي پسند سوچ کے ساتھ اصلاح معاشرہ اور جنسي اور نفسياتي رجحانات غالب رہے?

 

ناول 1947ء کے بعد

1947ء کے بعد جو رجحانات ہمارے سامنے آتے ہيں? ان  کا تفصيل سے جائزہ ليا جائے گا ليکن اس سے پہلے ايک نام کا ذکر بہت ضروري ہے جنہوں نے ہندوستان ميں رہتے ہوئے ايک بڑا ناول ” آگ کا دريا “ تخليق کيا? وہ نام ہے قراة العين حيدر کا ? انہوں نے اس ناول ميں قديم ہندوئوں کے دور سے شروع کرکے47 کے بعد کے دور کوموضوع بنايا ہے? انگريز کا آنا اور پھر پاکستان کا بننا سب حالات اس ناول ميں موجود ہيں موضوع کے حوالے سے يہ ايک بہت بڑا ناول ہے?

پاکستان بننے کے بعد ايک طرح سے خون کي ہولي کھيلي گئي بہت سے لوگوں کو بے دردي سے قتل کيا گيا انسانيت کو پامال کيا گيا اور پھر ان تمام مصيبتوں کے بعد ہجرت کا واقعہ ايک طرف تو خون کي ندياں ديکھنے کا تجربہ اور پھر دوسرا بڑا الميہ ايک تہذيبي حوالہ تھا? کيونکہ جن لوگوں کي نسليں جہاں پر رہيں جہاں اُن کے تہذيبي روے پروان چڑھے اُن کو اچانک کسي دوسري جگہ ہجرت پر مجبور کردينا لوگوں کے ليے معمولي بات نہيں ? اس کے پس منظر ميں بہت سے دکھ ہوتے ہيں ايک تہذيب و تاريخ رہ جاتي ہے? لوگوں کے آبا و اجداد کي قبريں رہ جاتي ہيں? اور وہ نشانياں جن کے تحت ان کي زندگي کا تسلسل قائم ہوا تھا وہ سب کہيں اور رہ جاتا ہے? يہ دونوں حوالے ہمارے ناول ميں موجود ہيں? فسادات کے حوالے سے اُس دور کے ظلم و ستم اور قتل عام نے ادب کو بہت زيادہ متاثر کيا ? اس دور ميں فسادات ميں ہونے والے ظلم وستم پر ايم اسلم نے ايک ناول ” رقص ابليس “ ،نسيم حجازي نے”خاک و خون “ ، فکر تونسوي نے ”چھٹا دريا “ اور فيض رام پورنے ”خون اور بے آبرو “جيسے ناول لکھے ?جس ميں اُس دور ميں انسان کي بربريت اور ظلم کي داستان کو ناول کي شکل ميں پيش کيا گيا ? اس طرح اُس دور ميں فسادات کے حوالے سے اور بھي بہت سے ناول لکھے گئے جو کہ ہنگامي نوعيت کے رہے? اور ہنگامي موضوعات ميں فني پختگي کم ہو جاتي ہے? اور جذباتي پن زيادہ اور بصيرت کم نظرآتي ہے? ليکن اس دور ميں ايک ناول ايسا لکھا گيا جس ميں ہنگامي موضوع ہونے کے باجود ناول ميں خوبصورتي اور اسلوب کے حوالے سے بڑي حد تک بڑائي پيدا کي گئي ہے? او ر يہ ناول قدرت اللہ شہاب کا ”ياخدا “ ہے?

 

”ياخدا “ 1948ء ميں لکھا گيا ? جس ميں مرکزي کردار ”دلشاد “ کے زباني پوري کہاني بيان کي گئي ہے? اُس کے ساتھ تقسيم کے بعد سکھوں نے کيا کچھ کيا اور پھر ہجرت کے بعد اُس کے ساتھ کيا کچھ ہوتا رہا تمام واقعات کو اُس کردار سے وابستہ کرکے ايک وسيع پس منظر ميں ان حالات و واقعات کي عکاسي کي گئي ہے? دلشاد کے ساتھ سکھوں نے جو کچھ کيا وہي لاہور والوں نے بھي کيا? قدرت اللہ شہاب نے فسادات کو دراصل ايک نئے انداز سے ليا اور تقسيم کے بعد بننے والے معاشرے کو لپيٹ کر ہمارے سامنے رکھ ديا?

 

اس سلسلے کا ايک اور اہم ناول خديجہ مستور کا ”آنگن “ ہے? اس ناول ميں انہوں نے 47  سے پہلے اور بعد کے حالات کا ذکر کيا ہے? ان کا موضوع ايک خاندان ہے ? يہ خاندان برصغير کے مخصوص حالات سے کس طرح متاثر ہوا ? اس ايک خاندان کے توسط سے  47 کے واقعات کا تجزيہ کيا گيا ہے? اُن کے ہاں براہ راست فسادات ناول کا موضوع نہيں بنے بلکہ تمام حالات کو پس منظر ميں رکھ کر اُس سے نتيجہ اخذ کيا گيا ہے? کہ کس طرح يہ مسلمان خاندانوں پر اثرانداز ہوئے?