• صارفین کی تعداد :
  • 3874
  • 6/25/2008
  • تاريخ :

چھل ستون  محل

چھل ستون  محل

چھل ستون (چالیس ستون)  ایران کے صوبے اصفہان کی تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے ۔ چھل ستون باغ کا رقبہ تقریبا  67000 مربع میٹر ہے۔ شاه عباس اوّل کے دور میں اس کی بنیاد رکھی گئ اس باغ  کے درمیان میں اس عمارت کو بنایا گیا ہے ۔ شاه عباس دوّم کے دور حکومت میں اس کو مکمّل کیاگیا اور موجودہ  عمارت میں بہت سی تبدیلیاں لائی گئ ہیں ۔ آئینہ ہال، 18  ستون ہال،دوشمالی بڑے کمرے،جنوبی آئینہ ہال بادشاہی ہال کے دونوں طرف کے برآمدے اور ہال کے سامنے بڑا حوض،دیواروں اور چھتوں پر آرائشی نقاشی، شیشے کا کام اور کشیدہ کاری کا اضافہ کیا گیا ہے۔

چھلستون محل کے دلچسپ اور قابل دید حصّے درج ذیل ہیں:

1- 18 ستون ہال کے چھت کی عالیشان نقاشی اور آئینہ ہال کےچھت کی آئینہ ‌کاری ،جلوس شاه عباس دو ہال کی چوکھٹ کی آئینہ ‌کاری

2- 18 ستون ہال اور آئینہ ہال کے بلند ستون کہ ان میں سے ہر ایک چنار کے درخت کا تنا ہے۔

3- مرکزی ہال کے حوض کے چاروں کونوں پر پتھر کی بنی ٹوٹیاں اور اس کے اطراف نقاشی کیے ہوۓ  مرمری ستون جو کہ ""صفوی دور""   کی  حجاری صنعت کی نشانی ہے۔

4- پادشاہی ہال کی سونے سے کی گئ عالیشان آرایش اور آئینہ ہال کے اطراف کے کمرے اور بادشاہی ھال  کی نقاشی کی بڑی تصویریں صفوی پادشاہوں کی جلوہ گر ہیں۔

چھل ستون  محل

اگرچہ چالیس ستون کے ہالوں کے بیس ستونوں کا عمارت کے سامنے والے حوض  میں انعکاس چالیس ستون کے مفہوم کو بیان کرتا ہے لیکن حقیقت میں چالیس کا عدد ایران میں کثرت کی علامت ہے اور اس عمارت کا نام چالیس ستون ہونے کی وجہ بھی ان ستونوں کی کثرت ہے۔ آغاز میں ان ستونوں کو شیشے کے خوبصورت کام سے آراستہ کیا گیا تھا کہ ""ظل السلطان قاجار""  کےدورحکومت میں خراب کر دیا گیا اور اس پر صفوی دور کی تصاویری نقاشی کو پلاسٹر آف پیرس  سے نصب کیا گیا ہے ۔