• صارفین کی تعداد :
  • 2217
  • 2/9/2008
  • تاريخ :

زنجان: گنبد سلطانیہ

 

آٹھویں صدی ہجری کے آغاز میں مغلوں نے زنجان سے 43 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ایسے شہر کو تعمیر کیا جو بہت جلد اورحیرت انگیزطور پردنیا کے بڑے اورخوبصورت ترین مقامات میں شمار ہوگیا ۔اور نو سال کی مدت میں  جب اس شہر کی تعمیر کا کام مکمل ہوا تو سنہ 712 ہجری قمری میں مغل بادشاہ اولجائٹو نے ایک بہت بڑے جشن کا سامان فراہم کیا اوراس کا سلطانیہ یا سلطان نشین نام رکھا

 

شہر کے اندر ایک عظیم الشان گنبد تعمیر کیا کہ اب اس کے اندر سلطان محمد خدا بندہ کا مقبرہ ہے یہ گنبد جنوب مغربی حصہ کہن دژ میں واقع ہے جو خود ایک نفیس مجموعہ پر مشتمل ہے اور ابواب البر کے نام سے موسوم ہے جس میں متعدد حصے شامل ہیں جیسے مدرسہ دار الشفاء ، دارالفیاء ، دارالسیاء ، خانقاہ ، دارالکتب ، بیت القانون و۔۔۔۔۔

 

گنبد سلطانیہ اپنے دور میں دنیا کے بلند ترین گنبد کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا اور اٹلی میں مریم مقدس کا  کلیسا اور استنبول کی ایا صوفیہ مسجد کی تعمیراسی گنبد کا آئینہ ہیں

 

گنبد سلطانیہ اس وقت  زنجان شہر سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر اور سلطان شہر کی پرانی بستی میں واقع ہےاس گنبد کے اندرونی حصے پرقرآنی  آیات اورپیغمبر اسلام (ص)کی احادیث اور حضرت علی (‏ع) سے منقول کلمات قصار تحریر ہیں اس گنبد کے جنوب مغربی ایوان کے دوسرے طبقے پر کوفی خط میں یہ دعائیں لکھی ہوئی ہیں الہم اشفانا بشفائک و دوانا بدوائک خداوندا مجھے اپنی شفا سے شفا عطا فرما اور اپنی دوا سے میرا علاج فرما جو بغیر شک و تردید اولجائٹو کی بیماری سے متعلق ہے اور یہاں ایک آیت کل من علیہا فان بھی تحریر ہے اور اس آیت سے اولجائٹو کی وفات کا پتہ چلتا ہے نيز یہ کہ یہاں تک تعمیر کا کام اولجائٹو نے انجام دیا ہے اور اس کے بعد تعمیر کا سلسلہ ابو سعید بہادر خان کے دور سے متعلق ہے 

 

 

گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ
گنبد سلطانیہ