• صارفین کی تعداد :
  • 5726
  • 2/2/2008
  • تاريخ :

ازدواجی مشکلات اور ان کا حل

 

حلقه ازدواج

1963ء میں صرف ایک سال میں امریکہ میں ڈھائی لاکہ غیر قانونی بچے پیدا ھوئے ۔(1)

امریکہ میں اعداد و شمار کے مطابق 1969ء میں اسکول کی اکثر لڑکیاں عفت سے ھاتہ دھو چکی تھیں اور بے پناہ آزاد ھو گئی تھیں ۔(2)

جرمنی میں پچاس لاکہ لڑکیوں نے صرف اس بنا پر خود کشی کی کوشش کی کہ ان کو کوئی شوھر نھیں مل سکا تھا ۔(3)

اس طرح کے واقعات ( جس سے ھندوستان بھی محفوظ نھیں ہے اخبارات ھر روز اس طرح کی خبروں سے بھرے ھوتے ھیں ) اس بات کی سند ھیں کہ مغربی تھذیب و تمدن کس قدر پست ہے اور بے عفتی ، بے پناہ آزادی ، بے حیائی ، اخلاقی گراوٹ و غیرہ سب اسی تمدن کے نتائج ھیں ۔

یہ بات واضح ہے کہ شادی کی راہ میں جو رکاوٹیں ھیں اگر ان کو بر طرف کر دیا جائے اور لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کے وسائل جلد فراھم کر دیئے جائیں تو اس طرح کے شرم آورواقعات میں کافی حد تک کمی ھو جائے گی ۔ اس سلسلہ میں مغربی دانشور بھی متفکر نظر آتے ھیں ،انھوں نے یہ درک کر لیا ہے کہ اس سلسلہ میں صحیح راستہ وھی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے ۔

 ویل ڈورانٹ کا کھنا ہے : ” اگر ایسی صورت نکل آئے کہ شادیاں فطری عمر میں ھو جائیں تو فحشاء ، خطرناک بیماریاں ، بے نتیجہ تنھائیاں ، انحرافات وغیرہ جنھوں نے زندگی کو داغدار کر دیا ہے نصف حد تک کم واقع ھو سکتے ھیں۔(4)

شادی کی مشکلات

 اقتصادی مشکل

 آج کی دنیا میں جنسی بلوغ اور اقتصادی بلوغ میں کافی فاصلہ ہے اسی بنا پر جوانوں کو شادی سے وحشت ھوتی ہے اور شادی ھوّا معلوم ھوتی ہے اقتصادی مشکلات جوانوں کو اس بات پر مجبو ر کرتی ھیں کہ وہ جلدی شادی نہ کریں جس کی بنا پر شھوت کے شعلے بھڑکنے لگتے ھیں اور فساد کا میدان ھموار ھونے لگتا ہے ۔

اس بنا پر جوانوں کو چاھئے کہ وہ زندگی میں اپنی توقعات ذرا کم کریں انھیں یہ سمجھنا چاھئے کہ ابتدائے جوانی میں کسی کی بھی ساری ضرورتیں پوری نھیں ھوتی ھیں ۔ زندگی کی حقیقت پر نظر رکھتے ھوئے بے جا تکلفات سے اپنے کو آزاد کرائیں اور دوسروں کی دیکھا دیکھی اندھی تقلید سے باز رھیں ۔ جب انھیں یہ احساس ھو جائے کہ زندگی کی بنیادی ضرورتیں اور شرائط موجود ھیں تو شادی کے لئے اقدام کردینا چاھئے ۔

 

قرآن کریم کا ارشاد ہے :

 ” غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کے وسائل فراھم کرو ۔ اگر وہ تنگ دست ھوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے ان کو غنی کر دے گا “(5)

حوالہ جات:

1۔نسل سر گرداں ص ۲۷

2۔ایرانی اخبار ” اطلاعات“ ۱۸/۴/۴۹ ص ۱۹

3۔حقوق زن در اسلام و جھان ص ۲۱۴ ، ۲۱ ، ۳۱۔ایرانی اخبار” کیھان“ ۲۴/۲/۴۰/ ۴اطلاعات ۱۰/ ۱۰/ ۴۹

4۔اصول روانشناسی انگیزہ ھای روانی ص ۴۹۶ ترجمہ ع سبحانی

5۔سورہ نورآیت ۳۲