• صارفین کی تعداد :
  • 5731
  • 1/26/2008
  • تاريخ :

5 شعبان

 

یا علی بن الحسین

5شعبان سنہ 38 ہجری قمری کو حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مدینے میں ولادت ہوئی ۔آپ اپنے والد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السلام کی مانند اخلاق و معنویت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔اپنی کثرت عبادت کے سبب آپ زہد و تقویٰ ، انکساری ، بردباری ، مہربانی اور ملنساری میں اپنے زمانے کے لوگوں میں سب سے ممتاز تھے ۔آپ شب زندہ دار اور انتہائي عبادت گزار تھے بارگاہ خداوندی میں طویل سجدوں کی وجہ سے آپ کو سجاد یعنی بہت زیادہ سجدے کرنے والے کا لقب بھی دیا گیا ۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام عاشورا کے دن جس دن آپ کے والد بزرگوار حضرت امام حسین (ع) اپنے اصحاب باوفا کے ساتھ کربلا میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے ۔ مصلحت پروردگار کے تحت غش میں پڑے ہونے کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوسکے ۔البتہ واقعۂ کربلا کے بعد آپ نے اپنی پھوپھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ مل کر اموی حکام کے ظالمانہ اقدامات کی نشاندہی کی اورخاندان رسالت کا تعارف کراکے تحریک امام حسین (ع) کے بارے میں سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کیا ۔ اس واقعے کے بعد سے اپنی عمر کے آخری لمحے تک آپ نے مسلمانوں کی امامت و رہنمائی کی ۔آپ کی دعاؤں کا مجموعہ صحیفہ کاملہ یا صحیفہ سجادیہ کے نام سے مشہور ہے ۔

 

5 شعبان سنہ 313 ھ ق کو عالم اسلام کے ممتاز اور معروف طبیب اور کیمیادان محمّد بن زکریائے رازی نے وفات پائی ۔وہ سنہ 251 ھ ق میں جنوبی تہران میں واقع رے شہر میں پیدا ہوئے ۔ابتدا میں ان کا پیشہ زرگری تھا اور آہستہ آہستہ کیمیاگری کی طرف راغب ہوئے ۔انہوں نے طب ، جیومیٹری ، منطق اور فلسفے جیسے علوم میں بھی مہارت حاصل کی ۔زکریائے رازي نے اپنی عمر کاایک بڑا حصہ قدرتی اشیا کے تجزیہ و تحلیل میں گزارا اور وہ سلفورک ایسڈ بنانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس مسلمان ایرانی دانشور نے ہی الکحل کی دریافت کی ۔مورخین نے ان کی تالیفات کی تعداد تقریبا´250 بتائی ہے ۔