• صارفین کی تعداد :
  • 4983
  • 1/26/2008
  • تاريخ :

3 رجب

 

درخت

3 رجب سنہ 254 ھ ق کو فرزند رسول حضرت امام علی نقی (ع) کی شہادت ہوئی ۔آپ (ع) کی ولادت سنہ 212 ھ ق میں مدینے کے قریب ایک مقام پرہوئی ۔ آپ نے اپنے والد بزرگوار حضرت امام محمد تقی (ع) کی شہادت کے بعد اسلامی معاشرے کی امامت اوررہبری کی ذمہ داری سنبھالی ۔آپ کا ایک معروف لقب ہادی یعنی ہدایت کرنے والا ہے ۔امام نقی (ع) مختلف سماجی ، سیاسی اور عقیدتی مسائل پربحث و مباحثے کے لئے متعدد نشستوں میں لوگوں کےسوالات کے جوابات دیا کرتے تھے ۔علم و ادب کی عظیم شخصیات آپ کے علم کے بحر بیکراں سے سیراب ہوتی تھیں ۔آپ نے ہمیشہ ضرورت مند اورپریشان حال لوگوں کی حاجت روائی اورمدد کی ۔آپ کے در سے کبھی کوئي ناامید نہیں گيا ۔ایک طرف آپ کا انتہائی وسیع علم اور دوسری طرف لوگوں میں آپ کی محبوبیت اور مقبولیت نے عبّاسی حکمرانوں کے دلوں میں بغض و حسد کی آگ بھڑکادی اور آخر کار ایک سازش کے ذریعے آپ کو شہید کروادیا ۔

 

 3 رجب سنہ 388 ھ ق کو ریاضیدان ، ماہر فلکیات اور ایک قابل فخر مسلمان شخصیت ابوالوفا محمد بن یحییٰ بوزجانی کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 328 ھ ق میں ایران کے شمال مشرقی شہر نیشابور کے قریب کے ایک علاقے میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا اپنے دور کےمعروف ریاضیدان اور منجمین میں شمار ہوا ۔ابوالوفا بوزجانی اپنی علمی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے ہم عصر ممتاز دانشور ابوریحان بیرونی سے خط و کتابت اور تبادلۂ خیال کرتے تھے ۔اعمال ہندسی علم ہندسہ کے بارے میں ان کی اہم ترین کتاب ہے ۔تاریخ علم حساب بوزجانی کی ایک دیگر اہم کتاب ہے