• صارفین کی تعداد :
  • 5714
  • 1/23/2008
  • تاريخ :

عبادت نہج البلاغہ کی نظر میں

 

گل

اسلام کي نظر ميں انسان جتنا خدا کے نزديک ھوجائے اُس کا مرتبہ و مقام بھي بلند ھوتا جائے گا اور جتنا اُس کا مرتبہ بلند ھوگا اسي حساب سے اُس کي روح کو تکامل حاصل ھوتا جائے گا۔ حتي کہ انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ جو بلند ترين مقام ہے جھاں وہ اپنے اور خدا کے درميان کوئي حجاب و پردہ نھيں پاتا حتي کہ يھاں پہنچ کر انسان اپنے آپ کو بھي بھول جاتا ہے۔

 

يھاں پر امام سجاد عليہ السلام کا فرمان ہے۔ جو اسي مقام کو بيان کرتا ہے۔ امام سجاد عليہ السلام فرماتے ھيں:

”إلٰہي ہَبْ لي کمالُ الانْقِطَاعُ إليکَ وَ اٴَنرْ اٴبصارُ قلوبِنَا بُعينآء نَظَرَہَا إلَيْکَ حَتّٰي تَخْرَقُ اٴَبْصَارَ الْقُلُوْبِ حُجُبَ النُّوْرِ فَتَصِلَ إليٰ مَعْدَنِ الْعَظْمَةِ“۔[1]

                                 

”خدايا ميري (توجہ) کو غير سے بالکل منقطع کردے اور ھمارے دلوں کو اپني نظر کرم کي روشني سے منوّر کردے۔ حتي کہ بصيرت قلوب سے نور کے حجاب ٹوٹ جائيں اور تيري عظمت کے خزانوں تک پہنچ جائيں۔ اس فرمان معصوم سے معلوم ھوتا ہے کہ جب انسان خُدا سے متصل ھوجاتا ہے اس کي توجہ غير خُدا سے منقطع ھوجاتي ہے خدا کے علاوہ سب چيزيں اُس کي نظر ميں بے ارزش رہ جاتي ھيں۔ وہ خود کو خداوند کي مملوک سمجھتا ہے۔ اور اپنے آپ کو خدا کي بارگاہ ميں فقير بلکہ عين فقر سمجھتا ہے اور خدا کو غني بالذات سمجھتا ہے“۔

 

قرآن ميں ارشاد ھوتا ہے:

<عَبْدًا مَمْلُوکًا لاَيَقْدِرُ عَلَي شَيْءٍ>[2]

” انسان خدا کا زرخريد غلام ہے اور يہ خود کسي شئي پر قابو نھيں رکھتا ہے۔“

لہٰذا خداوندکريم کا قرب کيسے حاصل کيا جائے تاکہ يہ بندہ خدا کا محبوب بن جائے اور خدا اس کا محبوب بن جائے۔ معصومین علیھم السلام فرماتے ھیں: خدا سے نزدیک اور قرب الٰھی  حاصل کرنے کا واحد راستہ اس کی عبادت اور بندگی ہے۔ یعنی انسان اپنی فردی و اجتماعی زندگی میں فقط خدا کو اپنا ملجاٴ و ماوا قرار دے۔ جب انسان اپنا محور خدا کو قرار دے گا تو اُس کا ھر کام عبادت شمار ھوگا۔ تعلیم و تعلم بھی عبادة، کسب و تجارت بھی عبادة۔ ضردی و اجتماعی  مصروفیات بھی عبادة گویا ھر وہ کام جو پاک نیت سے اور خدا کے لئے ھوگا وہ عبادت کے زمرے میں آئے گا۔

ابھی عبادت کی پہچان اور تعریف کے بعد ھم عبادة کی اقسام اور آثار عبادت کو بیان کرتے ھیں۔ تاکہ عبادت کی حقیقت کو بیان کیا جاسکے۔ خداوند سے توضیقات خیر کی تمنّا کے ساتھ اصل موضوع کی طرف آتے ھیں۔

 

عبادت کی تعریف:

”اَلْعِبَادَةُ ہِيَ الْخُضُوْعُ مِمَّنْ یَریٰ نَفْسَہُ غَیْرَ مُسْتَقِلٍ فِي وُجُوْدِہِ وَ فِعْلِہِ اٴَمَامَ مَنْ یَکُونُ مُسْتَقِلاً فِیْہَا“۔

” عبادة یعنی جھک جانا اُس شخص کا جو اپنے وجود عمل میں مستقل نہ ھو اُس کی ذات کے سامنے جو اپنے وجود و عمل میں استقلال  رکھتا ھو “

یہ تعریف بیان کرتی ہے کہ ھر کائنات میں خدا کے علاوہ کوئی شئی استقلال نھیں رکھتی فقط ذات خدا مستقل اور کامل ہے۔ اور عقل کا تقاضا ہے کہ ھر ناقص کو کامل کی تعظیم کرنا چاھی یٴے چونکہ خداوند متعال کامل اور اکمل ذات ہے بلکہ خالق کمال ہے لہذا اُس ذات کے سامنے جھکاوٴ و تعظیم و تکریم معیار عقل کے عین مطابق ہے۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1] مفاتیح الجنان، مناجات شعبانیہ، شیخ عباس قمی۔

[2] سورہ نحل آیت ۷۵۔