• صارفین کی تعداد :
  • 4189
  • 1/23/2008
  • تاريخ :

امام مہدی (عج) کےظہور کے متعلق احادیث

 

یا حجة بن الحسن

حضرت امام مھدی موعود علیہ السلام کے بارے میں وارد احادیث وروایات کی تعداد بے شمار ہے ،شاید کسی اسلامی مسئلے کے بارے میں اتنی کثرت سے روایات وارد ہوئي ہوں ۔اب ان روایات کا ایک فیصد حصہ بھی اگر مستر کردیا جاے تو یہ ثقہ راویوں کی روایات کو قبول کرنے اور ان پر اعتماد کرنے کی عقلاءکی روش اور ایمان کے برخلاف ہوگا بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ ان میں بعض روایات میں ایسے قرائن وشواھد پاے جاتے ہیں جن سے ان کے صدور کا یقین حاصل ہوجاتا ہے اور کسی طرح کا شک باقی نہیں رھتا ۔

ان احادیث میں بعض روایتیں عالیۃ الاسناد ہیں اور ایسی روایات کی تو کثرت ہے جو ثقہ اور ممدوح راویوں سے نقل ہوئي ہیں چنانچہ تاریخ و تراجم اور کتب حدیث سے استفادہ ہوتا ہےکہ یہ روایتیں راویوں کے نزدیک مشہور اور وہ ان کے بارےمیں صحابہ و تابعین سے سوالات کیا کرتے تھے اور ان کے مضمون کو حتمی اور مسلم الوقوع سمجھتے تھے اور بعض اصحاب جیسے حذیفہ بن یمان کو تو اس طرح کی روایات میں خاص مھارت اور تبحر حاصل تھا ۔

تواتر احادیث۔

اھل سنت کے بہت سے مشایخ و حفاظ جیسے صبان نے اسعاف الراغبین میں (ب دوم ص 140 ط مصر س 1312 )شبلنجی نے نورالابصار میں (ص 155،ط مصر س 1312 )شیخ عبدالحق نے لمعات میں سنن ترمذی کے حاشیے سے نقل کرتے ہوے (ص46،ج2،ط دھلی) ابی الحسین آبری نے صواعق سے نقل کرتے ہوے (ص99 ط مصر ) اور ابن حجر وسید احمد بن سید زینی دحلان مفتی شافعیہ نے الفتوحات الاسلامیہ میں (ج2،ص 211،ط مصر )حافظ نے فتح الباری میں ،شوکانی نے غایت المامول سے نقل کرتے ہوے التوضیح میں (ص 382 ج5)گنجی شافع نے البیان میں (باب 11)میں شیخ منصور علی ناصف نے غایۃ المامول میں ،استاد احمد محمدصدیق نے ابراز الوھم المکنون میں اور ابوالطیب نے الاذاعۃ میں ابوالحسن سحری اور عبدالوھاب عبداللطیف نے صواعق کے حاشیے میں حضرت مھدی علیہ السلام اور ان کے صفات اور نشانیوںکے بارے میں جیسے وہ اھل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے یا وہ اولاد حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا سےاور حضرت امام حسین علیہ السلام کی نسل سے ہیں وارد روایتوں کے متواتر ہونے پرتاکید کی ہے۔علامہ شوکانی نے مھدی موعود کے بارے میں وارد روایتوں کے متواتر ہونے کے سلسلے میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر والدجال والمسیح ۔محمد بن جعفرالکتانی اپنی کتاب نظم المتناثر میں کہتے ہيں کہ الاحادیث الواردہ فی مھدی المنتظر متواترہ شیخ محمد زاھد کوثری اپنی کتاب نظرۃ عابرۃ میں کہتے ہیں کہ واما تواتر احادیث المھدی والدجال و المسیح فلیس بموضوع ریبۃ عنداھل العلم بالحدیث اسنوی نے مناقب شافعی میں کہا ہےکہ وہ احادیث جو ظہور مھدی اور یہ کہ وہ اھل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں متواتر ہیں۔

ان صحابہ کے نام جن سے اھل سنت نے احادیث مھدی نقل کی ہیں ۔

1۔حضرت علی علیہ السلام۔

2۔حضرت امام حسن علیہ السلام ۔

3۔حضرت امام حسین علیہ السلام ۔

4۔حضرت فاطمہ بنت محمد علیھما السلام

5۔ ام المومنین عایشہ

6۔عبداللہ بن مسعود

7۔عبداللہ بن عباس

8۔عبداللہ بن عمر

9۔عبداللہ بن عمرو

10۔سلمان فارسی

11۔ابو ایوب انصاری

12۔ابو علی الھلالی ۔

13۔جابر بن عبداللہ الانصاری

14۔جابر بن سمرہ

15۔ثوبان

16۔ابو سعید الخدری

17۔عبدالرحمن بن عوف

18۔ابو سلمی

19۔ابو ھریرہ

20۔انس بن مالک

21۔عوف بن مالک

22۔حذیفہ بن یمان

23۔ابو لیلی الانصاری

24۔جابر بن ماجد صدفی

25۔عدی بن حاتم

26۔طلحۃ بن عبیداللہ

27۔قرۃبن ایاس مزنی

28۔عبداللہ بن الحارث بن جزء

29۔ابو امامۃ

30۔عمروبن العاص

31۔،عمار یاسر

32۔ابو الطفیل

33۔ام سلمہ

34۔اویس ثقفی

اھل سنت کے ان بزرگ علماءکےنام اور ان کی کتب جن میں احادیث ظہور مھدی (ع) درج ہیں ۔

1۔مسند احمد

2۔سنن ترمذی

3۔کنزالعمال و منتخب کنزالعمال ،علی متقی ھندی المکی ۔

4۔سنن ابی داود

5سنن ابن ماجہ

6۔صحیح مسلم

7۔صحیح بخاری

8ینابیع المودۃ قندوزی

9۔مودۃ القربی ھمدانی

10۔فراید السمطین حموینی شافعی

11۔مناقب خوارزمی