• صارفین کی تعداد :
  • 4116
  • 1/22/2008
  • تاريخ :

امام مہدی علیہ السلام اولادعلی (ع)سے ہیں

 

یا ابا صالح

چونکہ حضرت ابو طالب کی اولاد زیادہ تھی اس لئے احادیث نے معین کردیاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ابوطالب کے فرزند حضرت علی کی اولادسے ہوں گے چنانچہ اس سلسلے میں کثیرروایات واردہوئیں ہیں ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

 

ھو رجل منی مہدی مجھ سے ہیں (نعیم بن حماد کی الفتن ۱:۳۶۹۔۱۰۸۴،سید ابن طاوس کی التشریف بالنن۱۷۶۔۲۳۸ باب ۱۹

یہ بات واضح ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی اولادزیادہ ہے لیکن بہت ساری صحیح بلکہ متواترروایات میں ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہلبیت علھیم السلام سے ہیں یا عترت سے ہے یا پیغمبرسے ہیں ۔

لہذا اس سلسلے میں کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ اہل بیت علیھم السلام ،عترت اوراولادنبی علی کی اولاد میں سے صرف ان کوکہا جاتا ہے جن کا سلسلہ فاطمہ زھرااسلام علیھا سے ہوابطورنمونہ چنداحادیث پیش کی جارہی ہیں۔

حدیث:۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل بیت علیھم السلام سے ہیں

 

۱۔ لا تنفضی الایام ،ولایذھب الدھر ،حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی اسمہ یواطی اسمی

اس وقت تک ایام ختم نہیں ہوں گے اورزمانہ گزرے گا نہیں جب تک میرے اہلبیت میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ نہ بن جائے گا اوروہ میرا اہم نام ہوگا۔اس حدیث کو احمدنے اپنی مسندمیں ابن مسعودسے کئی طرق سے نقل کیا ہے اورابن داودنے اپنی سنن میں طبرانی نے اپنی معجم کبیرمیں اسے ذکرکیا ہے اورترمزی ارع کنجی شافعی نے اسے صحیح قراردیاہے اوربغوی نے اسے حسن بتایاہے (مسنداحمد۱:۳۷۶۔۳۷۷۔۴۳۰، سنن ابی داود۴:۱۰۷۔۴۲۸۳)

 

۲۔لو لم یبق من الدھر الایوم لبعث اللہ رجلا من اھل البیت یملئو عد لاکما ملئت جورا

اگر حیات دنیامین سے صرف ایک دن باقی رہ جائے تب بھی خدامیری اہل بیت میں سے ایک مردکو بھیجے گا جوزمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم جوسے بھری ہوئی ہوگی۔

اس حدیث کوحضرت علی علیہ السلام نے پیغمبراکرم سے روایت کیا ہے اوراحمدنے اسے اپنی مسندمیں نقل کیا ہے نیزاسے ابن ابی شبیہ ابوداؤداوعربیقہی نے بھی ذکرکیا ہے اورطبری نے مجمع البیان میں کہا ہے شیعہ اورسنی علماء نے متفقہ طورپرنقل کیاہے (مسنداحمد۱:۹۹ ابن ابی شیبہ کی المصنف ۱۵:۱۹۸۔ ۱۹۴۹۴، سنن ابی داود۴:۱۰۷۔ ۴۲۸۳ بیہقی کی الاعتقاد: ۱۷۳مجمع البیان ۷:۶۷)

ابوفیض الفیض غماری نے اس حدیث کے متعلق کہا ہے یہ حدیث بلا شک وشبہ صحیح ہے(بواز الوھم المکنون:۴۹۵)

 

۳۔ لا تقوم الساعة حتی یلی رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی

قیامت اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک میرے لیے اہل بیت علیھم السلام کاایک مردحکومت نہ سنبھال لے کہ جو میرا ہم نام ہوگا اس حدیث کومسعود نے پیغمبراسلام سے نقل کیا ہے۔

اورابن مسعودسے احمدبن حنبل ،ترمذی، کنجی اورطبرانی نے کئی طرق سے نقل کیا ہے اوراسے صحیح قراردیاہے۔

اورشیخ طوسی نے بھی اسے ذکرکیاہے اورابویعلی موصلی نے اسے ابوھریرہ سے اپنی مسندمیں بیان کیا ہے(مسنداحمد:۳۷۶،سنن ترمذی۴:۵۰۵۔۳۲۳۱،طبرانی کی المعجم الکبیرا :۱۶۵۔۱۰۲۲۰ وا:۱۰۱۶۷۔کنجی کی البیان :۴۸۱،شیخ طوسی کی کتاب الغیبة :۱۱۳، مسندابی یعلی موصلی ۱۲:۱۹۔۶۶۶۵)اوردرمنشور میں کہاہے کہاسے ترمذی نے ابوھریرہ سے روایت کیاہے اورصحیح قراردیاہے(ادرالمنشور ۶:۵۸)

 

۴۔ المھدی منااھل البیت اشم الانف ،اجلی الجبھة ،یملا الارض قسطا وعد لاکما ملئت جورا وظلما

مہدی ہم اھل بیت سے ہیں ناک ابھری ہوئی اورجبین کشادہ ہے وہ زمین کواسی طرح عدل وانصاف سے بھردیں گے جس طرح ظلم وجور سے بھری ہوگیاس حدیث کو ابوسعیدخدری نے پیغمبراسلام سے نقل کیا ہے اوران سے عبدالرزاق نے ذکرکیا ہے اورحاکم نے اسے مسلم کی شرط پرصحیح قراردیا ہے اورابلی نے اسے کشف الغمہ میں بیان کیاہے (عبدالرزاق کی المصنف ۱۱:۳۷۲۔۲۰۷۷۳،مستدرک حاکم ۴:۵۵۷، کشف الغمہ ۳:۲۵۹)