• صارفین کی تعداد :
  • 3570
  • 1/22/2008
  • تاريخ :

جو کان کلام الٰہی کو قبول کرتے ہیں

 

گل

وَتَعِیَہَا اٴُذُنٌ وَاعِیَۃاور اہل ھوش کے کان اس پندونصیحت کو سنتے اور یادکرتے ہیں۔ یعنی وہی کان انبیاء کرام کی نصیحتوں اوریا ددہانیوں کو سنتے اور آیات الٰہی کو قبول کرتے ہیں جو ”وعاء “ ہیں یعنی ان باتوں کو یاد رکھتے ہیں بعض کان معبر ییں ھر طرح کی بات قبول کرتے ہیں، یہ کان دعاءً اور اذن واعیۃ نہیں ہیں۔ اگر کان کو ایک غیر محسوس حجاب یاپردہ نہ چھپائے اور وہ واعیہ ھوتو وہ آیات الٰہی کو درک کرسکتا ہے۔

 

بعض پردے اور حجاب قابل محسوس نہیں ہیں بلکہ خودہی پوشیدہ ہیں: <وَإِذَا قَرَاٴْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًاً> اور جب تم نے قرآن کی تلاوت کی تو ھم نے تمہارے اور ان کے درمیان جو خدا وآخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ حجاب ڈال دیا۔ یہاں مستور، ساتر کے معنی میں نہیں ہے جیسا کہ ادبیات جاہلی کے پیروبعض اہل ادب کہتے ہیں، بلکہ یہ خود ایک پوشیدہ اور غیرمحسوس حجاب ہے۔

 

جب حضرت علی یا آٹھویں امام علیہ السلام سے (کیونکہ یہ روایت دونوں حضرات سے نقل ھوئی ہے) پوچھا کیا کہ ھم شب بیداری کی توفیق سے کیوں محروم ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: دن کے گناہ اس کی اجازت نہیں دیتے کہ رات کو اٹھ کر عبادت کرو“یہاں خود گناہ حجاب ہے لیکن یہ حجاب دیوار وغیرہ کی طرح دکھائی نہیں دیتا چنانچہ اگر ایسا ھی حجاب کان میں بھی موجود ھوتو قرآن اس سے عبور نہیں کرسکتا اور وہ کان”واعیہ “ یعنی سن کر محفوظ رکھنے والا نہیں ہے پس ھمیں اپنے کان،آنکھوں اور دہن سے ان حجابوں کو دور کرنے کی کوشش کرنا چاہئے تاکہ قرآن کی راہیں پاک ھوں اور الٰہی آیات ھمارے اندر اثر کرسکیں۔