• صارفین کی تعداد :
  • 3618
  • 1/22/2008
  • تاريخ :

سننے والے کی طہارت

 

گل

سفراء الٰہی اور خدا کے برگزیدہ فرشتے ان مطہرو پاکیزہ صحیفوں کو پیغمبر مطہر پر تلاوت کرتے ہیں۔ لھٰذا تلاوت کی منزل میں بھی اسی انسان کو صحیح تلاوت کی توفیق حاصل ہوتی ہے جو طاہروپاکیزہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں ارشاد ھوا ہے کہ:” طھروا الفواھکم فانھّا طرق القرآن“ اپنے دہنوں کو پاک رکھو کیونکہ یہ قرآن کی راہیں ہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ انسان دن میں جو کچھ اس کے منہ میں آئے کھدے اور رات میں حق تلاوت کے ساتھ قرآن پڑھنے کی توفیق بھی پیدا کرے۔ قرآن ایک مطہر و پاکیزہ صحیفہ ہے، اسے پاکیزہ راہ سے گزرنا چاہئے۔ پس انسان کادہن اسی وقت قرآن کی گزرگاہ بن سکتا ہے جب پاک ھو

 

دہن کیونکر پاک ہو؟

۱۔ بری اور بیہودہ باتیں دہن سے باہر نہ آئیں

۲۔ حرام غذا منھ میں داخل نہ ہو

جی ھاں! تلاوت قرآن کا گزرپاک دہن سے ھونا چاہئے ورنہ گندے نالے میں بہنے والا صاف وشفاف پانی آخر کارگندا ھو جائے گا۔ اگر قرآن ناپاک دہن سے جاری ھوتو<فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّینَ> ”وائے ھو ان نماز یوں کے لئے“ کا مصداق اس پر صادق آئے گا۔

 

یہ جو قرآن میں ارشاد ہے:<لاَتَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَاٴَنْتُمْ سُکَارَی>مستی کی حالت میں نماز کے قریب مت ھو یا نماز نہ پڑھو۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کہہ رہے ھو اسے سمجھو۔ البتہ اگر انسان نہ سمجہے کہ کیا کہہ رہاہے، اس کی نماز صحیح تو ہے لیکن یا سرے سے مقبول نہیں ہے یا پوری طرح قبول نہیں ہے۔ کیونکہ ھم سے صرف تلاوت یا صرف قرائت کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے: <حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ>بلکہ یہ بھی چاہا گیا ہے کہ تم سمجھو بھی کہ کیا کہہ رہے ھو۔ پس اگر انسان یہ نہ جانے کہ کیا کہہ رہاہے، وہ صرف نیت کر کے اور تکبیرةالاحرام کہہ کر نماز شروع کرتا ہے اور سلام پر نماز تمام کرتا ہے۔ یہ نماز فریضہ کو تو ادا کردیتی ہے لیکن اہل تقویٰ کا قرب اسے حاصل نہیں ھوتا۔ کیونکہ وہ جوانی کی مستی، جاہ ومنصب کا نشہ یادنیا کا غرور رکھتا ہے اور یہ کوئی ھنر نہیں ہے کہ انسان کی زیادہ سے زیادہ کوشش یہ ہے کہ اپنے آپ کو غذاب سے نجات دلاسکے۔اس لئے کہ خداوند عالم بہت سے لوگوں کو مثلاً بچوں، دیوانوں ومجنونوں،اور فکری اعتبار سے بودے افراد کو جو مسائل سمجھنے کے قابل نہیں ہیں، قیامت کے دن عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا اور دوزخ میں نہیں ڈالے گا۔

 

 اس طرح یہ بات ظاہر ہے کہ اس شخص کو جو یہ نہیںجانتا کہ کیا کہہ رہا ہے اور کس سے ھم کلام ہے، اہل تقویٰ والی تقرب کی منزل نصیب نہیں ہے۔

 

 اپنی تطہیر اورتزکیہ کی راہ میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنا غرور اور اپنی انانیت چکناچور کردے۔ یہ اقدام طہارت نفس کے لئے زمین ھموار کرتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں کبھی ارشاد ھوتا ہے: ھم نے بارش کے پانی کو اس لئے نازل کیا کہ وہ پاک کرے اور کبھی ارشادہوتا ہے: نماز کے وقت اگر پانی تمہیں میسر نہ ھو تو خاک پر تیمم کرو۔ خدا تمہیںپاک کرنا چاہتا ہے یہ انسان جس نے اپنے چہرہ پر خاک ملی ہے اور اپنے غرور کو توڑڈالا ہے، خدا اسے پاک کرنا چاہتا ہے۔ اب یہ ظاہری تطہیرنہیں ہے