• صارفین کی تعداد :
  • 3727
  • 1/22/2008
  • تاريخ :

برحق تلاوت

 

قرآن مجید

ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہم  قرآن کی (بالحق) تلاوت کریں۔ قرآن میں جب گزشتہ ادیان کے مومنین کی مدح وستائش کی جاتی ہے تو ارشاد ھوتا ہے:<الَّذِینَ آتَیْنَاہُمْ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلاَوَتِہِ>جن کو ھم نے کتاب عطا کی تووہ اس کے حق کے ساتھ اس کی تلاوت کرتے ہیں“

 

تلاوت کا حق کیا ہے؟

تلاوت کا حق سورہٴ انفال میں بیان کیا گیا ہے، جہاں مسلمانوں کے بارہ میں ارشاد ھوتا ہے:<إِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًَ> یعنی جب ان پر خدا کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کردیتی ہیں یہ تلاوت بر حق ہے جو مومنین کے ایمان میں اضافہ کرتی ہے۔ ایسی تلاوت نہیں جوباحق ھی نہ ھو کہ روایت میں ہے:”رب تال للقرآن یلعنہ“ ایسے بھی ہیںجو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت کرتاہے“

 

بنابر ایں اگر خداوند عالم نے پیغمبر اکرم کے لئے یہ تین صفات اور تین عہدے بیان فرمائے ہیں تو خود اس نے آنحضرت کے لئے بھی یہ تین مرحلے رکہے ہیں۔ سب سے پہلے ان پر برحق تلاوت فرمائی۔ اس کے بعدانہیں اس پر مامورکیا کہ آپ بھی لوگوں کے لئے ان مطہروپاکیزہ صحیفوں کی تلاوت فرمائیں۔ حضرت کو علم وحکمت عطافرمائی: <وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ>اور آپ کو وہ علم عطا کیا جو آپ نہیں جانتے تہے“ اس کے بعد ان سے مطالبہ کیا کہ آپ لوگوں کو بھی علم وحکمت سے آشنا بنائیں: <وَیُعَلِّمُہُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃ> خدا وند عالم نے آنحضرت کو آیہٴ تطہیر کی بنیاد پر طاہر ومطہر بنایا اس کے بعد فرمایا کہ تم بھی لوگوں کا تزکیہ کرو اور انہیں پاکیزہ بناؤ۔ سورہٴ نور میں پرور دگار عالم کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر فضل خدا نہ ھوتا تو کوئی شخص زکی وپاکیزہ نہ ھوتا، اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہے: <وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ مَا زَکَا مِنْکُمْ مِنْ اٴَحَدٍ اٴَبَدًا>یعنی اگر خدا کا فضل اور اس کی رحمت شامل حال نہ ھوتی تو کوئی بھی روحی بالیدگی اور تزکیہٴ نفس کے مرحلہ تک نہ پہنچ پاتا

 

صرف تزکیہ نفس ھی خداند عالم کی جانب سے نہیں ہے بلکہ تمام کمالات اس کی جانب سے ہیں اور کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ کمال خود اس نے حاصل کیا ہے، بلکہ جو کچھ ہے اس کے فضل اور اس کی عنایت سے ہے، فرق یہ ہے کہ بعض افراد رفتہ رفتہ اس فیضان الٰہی سے بہرہ ور ھوتے ہیں اور بعض ایک ھی مرتبہ میں بعض اس لطف الٰہی سے کم فیضیاب ھوتے ہیں اور بعض زیادہ۔