• صارفین کی تعداد :
  • 5151
  • 1/22/2008
  • تاريخ :

تلاوت قرآن کی شرائط

 

قرآن مجید

قرآن کریم نے پیغمبر اکرم کا تعارف یوں کرایاہے:

”یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ”

” وہ ان لوگوں پر قرآنی آیتوں کی تلاوت فرماتے ہیں، ان کے نفسوں کو پاکیزہ بناتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں“

 

یہ تین مرحلے (تلاوت، تزکیہ اور تعلیم) شان رسالت کا جزوہیں اور فریضہ رسالت کی ادائیگی کے حکم سے پہلے یہ تینوں امر خود حضرت کے سلسلہ میں بروئے عمل لائے گئے ان پر قرآنی آیات کی تلاوت کی گئی۔ خداوند عالم نے آپ کو کتاب و حکمت کا عالم بنایا اور آپ کو مطہروتزکیہ شدہ قراردیا۔ اس کے بعد قرآن نے فرمایا: یہی امور جو خداوند عالم نے آپ پر جاری فرمائے ہیں، اب آپ لوگوں سے متعلق عمل میں لایئں۔ فرق یہ ہے کہ عوام نہ آپ کی مانند فیضیابی کی قدرت وطاقت رکھتے ہیں اور نہ براہ راست فرشتوں یا ان سے بالا ترسے رابط پیداکرسکتے ہیں۔

 

لہذا خداوند عالم نے پیغمبر اکرم (ص) سے متعلق تلاوت قرآن، تزکیہ اور تعلیم کواپنے ذمہ لیا اس کے بعد ان کا ان صفات کے ساتھ تعارف کرایا اور انہیں حکم دیا کہ لوگوں کے لئے آیات الٰہی کی تلاوت کرو جیسے میں نے تم پر آیات کی تلاوت کی ہے۔ لوگوں کو یوں ھی علم وحکمت کی تعلیم دو، جیسے میں نے تمہیں مطہر اور تزکیہ شدہ بنایا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ رسول خدا ان تینوں امورو مراحل میں ان مقامات پر فائز تہے جو صرف آنحضرت سے مخصوص تہے اور دوسرے نہ ان درجات تک پہنچے ہیں نہ پہنچیں گے