• صارفین کی تعداد :
  • 4043
  • 1/22/2008
  • تاريخ :

حضرت نوح عليہ السلام

 

گل

قرآن مجيد، بہت سى آيات ميں نوح كے بارے ميں گفتگو كرتا ہے اور مجمو عى طور پر قرآن كى انتيس سورتوں ميں اس عظيم پيغمبر كے بارے ميں گفتگو ہوئي ہے ، ان كانام 43 مرتبہ قرآن ميں آيا ہے _

قرآن مجيد نے ان كى زندگى كے مختلف حصوں كى باريك بينى كے ساتھ تفصيل بيان كى ہے ايسے جو زيادہ تر تعليم و تربيت اور پندو نصيحت كے پہلوئوں سے متعلق ہيں _

 

مورخين ومفسرين نے لكھا ہے كہ نوح كا نام "" عبد الغفار ""يا عبد الملك""يا""عبدالاعلى "" تھااور ""نوح"" كا لقب انھيں اس لئے ديا گيا ہے ، كيونكہ وہ سالہا سال اپنے اوپر يا اپنى قوم پر نوحہ گريہ كرتے رہے _آپ كے والد كا نام ""لمك ""يا"" لامك ""تھا اور آپ كى عمر كى مدت ميں اختلاف ہے ،بعض روايات ميں 1490 اور بعض ميں 2500 سال بيان كى گئي ہے ، اور ان كى قوم كے بارے ميں بھى طولانى عمريں تقريبََا300 سال تك لكھى گئي ہيں ،جوبات مسلم ہے وہ يہ ہے كہ آپ نے بہت طولانى عمر پائي ہے، اورقرآن كى صراحت كے مطابق آپ50 9 سال اپنى قوم كے درميان رہے ( اور تبليغ ميں مشغول رہے)_

نوح كے تين بيٹے تھے ""حام"" ""سام"" يافث ""اور مو رخين كا نظريہ يہ ہے كہ كرئہ زمين كى اس وقت كى تمام نسل انسانى كى بازگشت انھيں تينوں فرزندوں كى طرف ہے ايك گروہ ""حامي"" نسل ہے جو افريقہ كے علاقہ ميں رہتے ہيں دوسرا گروہ ""سامى ""نسل ہے جوشرق اوسط اور مشرق قريب كے علاقوں ميں رہتے ہيں اور ""يافث "" كى نسل كو چين كے ساكنين سمجھتے ہيں

 

950سال تبليغ 7مومن

اس بارے ميں بھى ،كہ نوح (ع) طوفان كے بعد كتنے سال زندہ رہے ،اختلاف ہے بعض نے 50 سال لكھے ہيں اور بعض نے 60 سال _ (1) نوح عليہ السلام كا ايك اور بيٹا بھى تھا جس كا نام ""كنعان ""تھا جس نے باپ سے اختلاف كيا، يہاں تك كہ كشتى نجات ميں ان كے ساتھ بيٹھنے كے لئے بھى تيار نہ ہوا اس نے برے لوگوں كے ساتھ صحبت ركھى اور خاندان نبوت كے ا قدار كو ضائع كرديا اور قرآن كى صراحت كے مطابق آخر كاروہ بھى باقى كفار كے مانند طوفان ميں غرق ہوگيا _اس بارے ميں كہ اس طويل مدت ميں كتنے افراد نوح (ع) پر ايمان لائے ، اور ان كے ساتھ كشتى ميں سوار ہوئے ،اس ميں بھى اختلاف ہے بعض نے 80 اور بعض نے 7 افراد لكھے ہيں _

 

نوح عليہ السلام كى داستان عربى اور فارسى ادبيات ميں بہت زيادہ بيان ہوئي ہے ، اور زيادہ تر طوفان اور آپ كى كشتى نجات پر تكيہ ہوا ہے _ نوح عليہ السلام صبر وشكر اور استقامت كى ايك داستان تھے ، اور محققين كا كہنا ہے كہ وہ پہلے شخص ہيں جنھوں نے انسانوں كى ہدايت كےلئے وحى كى منطق كے علاوہ عقل واستدلال كى منطق سے بھى مددلى (جيسا كہ سورہ نوح كى آيات سے اچھى طرح ظاہر ہے ) اور اسى بناء پر آپ اس جہان كے تمام خدا پرستوں پر ايك عظيم حق ركھتے تھے _


حوالہ:

 (1) يہود كے منابع (موجودہ توريت ميں بھى نوح كى زندگى كے بارے ميں تفصيلى بحث آئي ہے ،جو كئي لحاظ سے قرآن سے مختلف ہے اور توريت كى تحريف كى نشانيوں ميں سے ہے ، يہ مباحث توريت كے سفر""تكوين ""ميں فصل 6،7،8 ،9 اور 10 ميں بيان ہوئے ہيں