• صارفین کی تعداد :
  • 3075
  • 1/22/2008
  • تاريخ :

زمين پرسب سے پہلا قتل

 

نیلوفر آبی

قرآن مجيد ميں حضرت آدم عليہ السلام كے بيٹوں كا نام نہيں ليا گيا ہے ،نہ اس جگہ اور نہ كسى اور مقام پر ،ليكن اسلامى روايات كے مطابق ايك كا نام ہابيل ہے اور دوسرے كا قابيل تھا،موجود ہ تو ريت كے سفر تكوين كے چوتھے باب ميں ايك كانام ''قائن'' اور دوسرے كا نام '' ہابيل''تھا جيسا كہ مفسر معروف ''ابولفتوح رازي'' كہتے ہيں كہ ان دونوں ناموں كى مختلف لغت ہيں پہلے كا نام ''ہابيل ''يا''ہابن''تھا_دوسرے كا نام ''قابيل ''يا ''قابين'' يا ''قابل'' يا''قابن''يا ''قبن'' تھا_

بہرحال اسلامى روايات كے متن اور توريت ميں قابيل كے نام كے بارے ميں اختلاف لغت كى طرف بازگشت ہے اور يہ كوئي اہم بات نہيں ہے _(1)

 

يہاں پرحضرت آدم عليہ السلام كے بيٹوں كا ذكر ہے ان ميں سے ايك كے ہاتھوں دوسرے كے قتل كے بارے ميں داستان بيان كى گئي ہے پہلے فرمايا: ''اے پيغمبر :انھيں آدم كے دوبيٹوں كا حقيقى قصہ سنا ديجئے''_(2)

 

اس كے بعد واقعہ بيان كرتے ہوئے فرمايا گيا ہے :''جب ہر ايك نے تقرب پروردگار كے لئے ايك كام انجام ديا تو ايك كا عمل توقبول كرليا ليكن دوسرے كا قبول نہ ہوا ''_(3)

 

مگرجو كام ان دونوںبھائيوں نے انجام ديا اس تذكرہ كا قرآن ميںوجود نہيں ہے بعض اسلامى روايات اور توريت كے سفر تكوين باب چہارم ميں جو كچھ مذكورہے ا س سے ظاہر ہوتا ہے كہ ہابيل كے پاس چونكہ پالتو جانور تھے اس نے ان ميں سے ايك بہترين پلاہوا مينڈھامنتخب كيا، قابيل كسان تھا اس نے گندم كا گھٹيا حصہ ياگھٹياآٹا اس كے لئے منتخب كيا _

سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ فرزندان آدم كو كيسے پتہ چلاكہ ايك كا عمل بارگا ہ ايزدى ميں قبول ہوگيا ہے اور دوسرے كا عمل ردّكرديا گيا ہے قرآن ميں اسكى بھى وضاحت نہيں ہے البتہ بعض اسلامى روايات سے پتہ چلتاہے كہ وہ دونوں اپنى مہيا شدہ چيزيں پہاڑ كى چوٹى پر لے گئے قبوليت كے اظہار كے طور پر بجلى نے ہابيل كى قربانى كھاليا اور اسے جلا ديا ليكن دوسرى اپنى جگہ پر باقى ر ہى اور يہ نشانى پہلے سے رائج تھى _

 

بعض مفسرين كا خيال ہے كہ ايك عمل كى قبوليت اوردوسرے كى ردّ حضرت آدم عليہ السلام كو وحى كے ذريعے بتايا گيا اور اس كى وجہ سوائے اس كے كچھ نہ تھى كہ ہابيل ايك باصفا ،باكرداراور راہ خدا ميں سب كچھ كرگذرنے والاشخص تھا جبكہ قابيل تا ريك دل ،حاسد اور ہٹ دھرم تھا، قرآن نے دونوںبھائيوں كى جوگفتگو بيان كى ہے اس سے ان كى روحانى كيفت اچھى طرح سے واضح ہوجاتى ہے اسى وجہ سے جس كا عمل قبول نہ ہوا تھا ''اس نے دوسرے بھائي كو قتل كى دہمكى دى اور قسم كھا كر كہا كہ ميں تجھے قتل كردوں گا _''(4)

 

ليكن دوسرے بھائي نے اسے نصيحت كى اور كہا كہ اگر يہ واقعہ پيش آيا ہے تو اس ميں ميراكوئي گناہ نہيں ہے، بلكہ اعتراض توتجھ پرہونا چاہيے كيونكہ تيرے عمل ميں تقو ى شامل نہيں تھا اور خدا تو صرف پرہيزگاروں كا عمل قبول كرتا ہے''_(5)

 

مزيد كہا كہ'' حتى اگر تم اپنى دھمكى كو عملى جامہ پہنائواور ميرے قتل كے لئے ہاتھ بڑھا ئو تو ميں ہرگز ايسا نہيں كروں گا اور تمہارے قتل كے لئے ہاتھ نہيں بڑھائوںگا،كيونكہ ميں توخدا سے ڈرتا ہوں اور ايسے گناہ سے ہرگزاپنے ہاتھ آلودہ نہيںكروں گا_''(6)

 

قر ان ميں حضرت آدم كے بٹيوں كا واقعہ ،ايك بھائي كا دوسرے كے ہاتھوں قتل اور قتل كے بعد كے حالات بيان كيے گئے ہيں ،پہلے فرمايا : ''سركش نفس نے بھائي كے قتل كے لئے اسے پختہ كرديا اور اس نے اسے قتل كرديا''_(7)

اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ ہابيل كا عمل قبول ہوجانے كے بعد قابيل كے دل ميں ايك طوفان پيدا ہوگيا ايك طرف دل ميں ہر وقت حسد كى آگ بھڑكتى رہتى اوراسے انتقام پر ابھارتى اور دوسرى طرف بھا ئي كا رشتہ، انسانى جذبہ گناہ ،ظلم ،بے انصافى اور قتل نفس سے ذاتى تنفراسے اس جرم سے بازركھنے كى كوشش كرتا ،ليكن آخركار سركش نفس آہستہ آہستہ روكنے والے عوامل پر غالب آگيا اور اس نے اس كے بيداروجدان كو مطمئن كرديا اور اسے جكڑديا اور بھائي كو قتل كرنے پر آمادہ كرديا ''_(8)

 

گل

 

ظلم كى پردہ پوشي

قابيل نے جب اپنے بھائي كو قتل كرديا تو اس كى لاش اس نے صحرا ميں ڈال ركھى تھى اور اسے نہيں معلوم تھا كہ اسے كيا كرنا چاہئے زيادہ دير نہ گذرى كہ درندے ہابيل كے جسم كى طرف آنے لگے قابيل ضمير كے شديد دبائو كاشكار تھا بھائي كے جسم كو بچانے كے لئے وہ لاش كو ايك مدت تك كندھے پرلئے پھرتا رہا كچھ پرندوں نے پھر بھى اسے گھيرركھا تھا اور وہ اس انتظار ميں تھے كہ وہ كب اسے زمين پر پھينكتا ہے تاكہ وہ لاش پر جھپٹ پڑيں _

 

جيساكہ قرآن كہتا ہے اس موقع پر خدا تعالى نے ايك كواّبھيجا، مقصديہ تھا كہ وہ زمين كھودے اوراس ميں دوسرے مردہ كوّے كا جسم چھپادے يا اپنے كھانے كى چيزوں كو زمين ميں چھپادے جيسا كہ كوے كى عادت ہے تاكہ قابيل سمجھ سكے كہ وہ اپنے بھائي كى لاش كس طرح سپر د خاك كرے _

 

البتہ اس بات ميں كوئي تعجب نہيں كہ انسان كوئي چيز كسى پرندے سے سيكھے كيونكہ تاريخ اور تجربہ شاہد ہيںكہ بہت سے جانور طبعى طور پر بعض معلومات ركھتے ہيں اور انسان نے اپنى پورى تاريخ ميںجانوروں سے بہت كچھ سيكھا ہے يہاں تك كہ ميڈيكل كى بعض كتب ميں ہے كہ انسان اپنى بعض طبيّ معلومات ميں حيوانات كا مرہون منت ہے ،

 

افسوس اپنے اوپر

اس كے بعد قرآن مزيد كہتا ہے:'' اس وقت قابيل اپنى غفلت اور جہالت سے پريشان ہوگيا اور چيخ اٹھا كہ وائے ہومجھ پر ،كيا ميں اس كوے سے بھى زيادہ ناتواں اور عاجز ہوں ،مجھ سے اتنا بھى نہ ہوسكا كہ ميں اس كى طرح اپنے بھائي كا جسم دفن كردوں، بہرحال وہ اپنے كيے پرنادم وپشيمان ہوا''_(9)

 

كيا اس كى پشيمانى اس بناپر تھى كہ اس كاگھٹيا اور براعمل آخركار اس كے ماں باپ پر اور احتمالى طورپر دوسرے بھائيوںپر آشكار ہوجائےگا اوروہ اسے بہت سرزنش كريں گے يا كيا يہ پشيمانى اس بناپر تھى كہ كيوں ميں ايك مدت تك بھائي كى لاش كندھے پر لئے پھرتا رہا اور اسے دفن نہ كيااور يا پھركيايہ ندامت اس وجہ سے تھى كہ اصولى طور پر انسان ہربراكام انجام دے لينے كے بعد اپنے دل ميں ہرطرح كى پريشانى اور ندامت محسوس كرتا ہے ليكن واضح ہے كہ اس كى ندامت كى جوبھى وجہ ہووہ اس كے گناہ سے توبہ كى دليل نہيں ہے كيونكہ توبہ يہ ہے كہ ندامت خوف خدا كے باعث اورعمل كے براہونے كے احساس كى بنا پر ہوا، اور يہ احساس اسے اس بات پر آمادہ كرے كہ وہ آيندہ ہرگز ايسا كام نہيں كرے گا ،قرآن ميں قابيل كى ايسى كسى توبہ كى نشاندہى نہيں كى گئي بلكہ شايد قران ميں ايسى توبہ كے نہ ہو نے كى طرف ہى اشارہ ہے _

 

پيغمبر اسلام (ص) سے ايك حديث منقول ہے ،آپ نے فرمايا :

''جس كسى انسان كا بھى خون بہايا جاتا ہے اس كى جوابدہى كا ايك حصہ قابيل كے ذمہ ہوتا ہے جس نے انسان كُشى كى اس برى سنت كى دنياميں بنيادركھى تھي''_

 

اس ميں شك نہيں كہ حضرت آدم عليہ السلام كے بيٹوں كا يہ واقعہ ايك حقيقى واقعہ ہے اس كے علاوہ كہ آيات قرآن اور اسلامى روايت كا ظاہر ى مفہوم اس كى واقعيت كو ثابت كرتا ہے اس كے ''بالحق '' كى تعبير بھى جوقر آن ميں آئي ہے اس بات پر شاہدہے، لہذا جولوگ قران ميں بيان كئے گئے واقعہ كو تشبيہ ،كنايہ يا علامتى (SIMBOLIC)داستان سمجھتے ہيں ،بغيردليل كے ايسا كرتے ہيں _(10)

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تعجب كى بات ہے كہ ايك عيسائي عالم نے اس لفظ كو قرآن پراعترض كى بنيادبناليا ہے كہ قرآن نے''قائن ''كو ''قابيل ''كيوں كہا ہے حا لانكہ اول تويہ اختلاف لغت ہے اور لغت ميں ناموں كے بارے ميں بہت زيادہ اختلاف ہے مثلا توريت ''ابراہيم ''كو ''ابراہام ''لكھتى ہے قرآن اسے ''ابراہيم ''لكھا ہے ثانياً بنيادى طور پر ''ہابيل ''كے نام قرآن ميں مذكور ہى نہيں يہ اسماء تو اسلامى روايات ميں آئے ہيں_

(2)سورہ مائدہ ايت 27

(3)سورہ مائدہ ايت 27

(4)سورہ مائدہ ايت27

(5)سورہ مائدہ ايت 27

(6)سورہ مائدہ ايت28

(7)سورہ مائدہ ايت 30

(8)سورہ مائدہ ايت30

(9)سورہ مائدہ ايت 31

(10)اس كے باوجود اس بات ميں كوئي مضائقہ نہيں كہ يہ حقيقى واقعہ اس جنگ كے لئے نمونہ كے طورپر بيان كيا گيا ہو جو ہميشہ سے مردان پاكباز ،صالح ومقبول بارگا ہ خدا انسانوںاور آلودہ ،منحرف ،كينہ پرور، حاسد اور ناجائزہٹ دھرمى كرنے والوں كے درميان جارى رہى ہے وہ لوگ كتنے پاكيزہ اور عظيم ہيں جنھوں نے ايسے برے لوگوں كے ہاتھوں جام شہادت نوش كيا _

آخركار يہ برے لوگ اپنے شرمناك اور برے اعمال كے انجام سے آگاہ ہو جاتے ہيں اور ان پر پردہ ڈالنے اور انھيں دفن كرنے كے درپے ہوجاتے ہيں اس مو قع پر ان كى آرزوئيںان كى مدد كو لپكتى ہيں،كوّا ان آرزوئوں كا مظہر ہے جو جلدى سے پہنچتا ہے اور انھيں ان كے جرائم پرپر دہ پوشى كى دعوت ديتا ہے ليكن آخر كار انھيں خسارے ،نقصان اور حسرت كے سوا كچھ نصيب نہيں ہوتا _