• صارفین کی تعداد :
  • 3806
  • 1/22/2008
  • تاريخ :

اصحاب اخدود

 

گل نرگس

انسانوں كو جلا دينے والى بھٹياں

قرآن سورہ بروج ميں فرماتا ہے :''موت اور عذاب ہو تشدد كرنے والوں پر _''

''وہى خندقيں جو اگ اور لكڑيوں سے پُر تھيں جن ميںسے بڑے بڑے شعلے نكل رہے تھے ''_

''جس وقت وہ اس اگ كى خندق كے پاس بيٹھے ہوئے تھے (سرد مہرى سے)

''اور جو كچھ وہ مومنين كے بارے ميں انجام دے رہے تھے اسے ديكھ رہے تھے _''(1)

''اخدود''عظيم گڑھے او ر خندق كے معنى ميں ہے اور يہاں بڑى بڑى خندقيں مراد ہيں جو آگ سے پر تھيں تاكہ تشدد كر نے والے اس ميں مومنين كو پھينك كر جلائيں _

يہ واقعہ كس قوم سے متعلق ہے اور كس وقت معرض وجود ميں آیا اور كيا يہ ايك خاص معين و مقرر واقعہ تھا ،يا دنيا كے مختلف علاقوں كے اسى قسم كے متعدد واقعات كى طرف اشارہ ہے _

مفسرين و مورخين كے درميان اس موضوع پرا ختلاف ہے سب سے زيادہ مشہور يہ ہے كہ يہ واقعہ سر زمين يمن كے'' قبيلہ حمير'' كے ''ذونواس'' نامى بادشاہ كے دور كا ہے _

تفصيل اس كى يہ ہے كہ ذونواس ،جوحمير نامى قبيلہ سے متعلق تھا يہودى ہوگيا اس كے ساتھ ہى اس كا پورا قبيلہ بھى يہودى ہو گيا ،اس نے اپنا نام يوسف ركھا ،ايك عرصہ تك يہى صورت حال رہى ،ايك وقت ايسا آیا كہ كسى نے اسے خبردى كہ سر زمين نجران (يمن كا شمالى حصہ )ميں ابھى تك ايك گروہ نصرانى مذہب كاپر قائم ہے ذونواس كے ہم مسلك لوگوں نے اسے اس بات پر ابھارا كہ اہل نجران كو دين يہود كے قبول كرنے پر مجبور كرے _

وہ نجران كى طرف روانہ ہو گيا،وہاں پہنچ كر اس نے وہاں كے رہنے والوں كو اكٹھا كيا اور دين يہود ان كے سامنے پيش كيا اور ان سے اصرار كيا كہ وہ اس دين كو قبول كريں ،ليكن انھوں نے انكار كيا اور شہادت قبول كرنے پر تيار ہو گئے ،انھوںنے اپنے دين كو خير باد نہ كہا ،ذونواس اورا سكے ساتھيوں نے ايك گروہ كر پكڑ كر اسے اگ ميں زندہ جلا يا اور ايك گروہ كو تلوار كے گھاٹ اتارا ،اس طرح اگ ميں جلنے والوں اور مقتولين كى تعداد بيس ہزار تك پہنچ گئي _

بعض مفسرين نے يہ بھى لكھا ہے كہ اس سلسلہ دار و گير سے بچ كر نصارى بنى نجران كا ايك ادمى قيصر روم كے دربار ميں جاپہنچا ،اس نے وہاں ذوانواس كى شكايت كى اور اس سے مدد طلب كى ،قيصر روم نے كہا تمہارى سر زمين مجھ سے دور ہے ،ميںبادشاہ حبشہ كو خط لكھتا ہوں جو عيسائي ہے اور تمہارا ہمسايہ ہے ميں اس سے كہتا ہوں كہ وہ تمہارى مدد كرے _

پھر اس نے خط لكھا اور حبشہ كے بادشاہ سے نصارى نجران كے عيسائيوں كے خون كا انتقام لينے كى خواہش كى ،وہ نجرانى شخص بادشاہ حبشہ نجاشى كے پاس گيا ،نجاشى اس سے يہ تمام ماجرا سن كر بہت متاثر ہو ا اور سر زمين نجران ميں شعلہ دين مسيح كے خاموش ہوجانے كا اسے بہت افسوس ہوا ،اس نے ذونواس سے شہيدوں كے خون كا بدلہ لينے كا مصمم ارادہ كر ليا _

اس مقصد كے پيش نظر حبشہ كى فوج يمن كى طرف روانہ ہوئي اور ايك گھمسان جنگ كے نتيجے ميں اس نے ذونواس كو شكست فاش دى اور ان ميں سے بہت سے افراد كو قتل كيا ،جلد ہى نجران كى حكومت نجاشى كے

قبضہ ميں اگئي اور نجران حبشہ كا ايك صوبہ بن گيا _

بعض مفسرين نے تحرير كيا ہے كہ اس خندق كاطول چاليس ذراع (ہاتھ)تھا اور اس كا عرض بارہ ذراع تھا ،(2)

بعض مورخين نے لكھا ہے كہ سات گڑھے تھے جن ميں سے ہر ايك كى وسعت اتنى ہى تھى جتنى اوپر بيان ہوئي _(3)

جو كچھ ہم نے تحرير كيا اس سے واضح ہوتا ہے كہ تشد دكرنے والے بے رحم افراد اخر كار عذاب الہى ميں گرفتار ہوئے اور ان سے اس خون ناحق كا انتقام دنيا ہى ميں لياگيا اور عاقبت كاعذاب جہنم ابھى ان كے انتظار ميں ہے _

انسانوں كوجلانے والى يہ بھٹياں جو يہوديوں كے ہاتھ سے معرض وجود ميں ائيں ،احتمال اس امر كا ہے كہ پورى انسانى تاريخ ميں يہ پہلى ادم سوز بھٹياں تھيں ليكن تعجب كى بات يہ ہے كہ اسى قسم كى قساوت اور بے رحمى كاخود يہودى بھى شكار ہوئے جيسا كہ ہم جانتے ہيںكہ ان ميں سے بہت زيادہ لوگ'' ہٹلر ''كے حكم سے ادم سوز بھٹيوں ميں جلائے گئے اور اس جہان ميں بھى عذاب حريق كا شكار ہو ئے _

علاوہ ازيں'' ذونواس يہودى ''جو اس منحوس اقدام كا بانى تھا ،وہ بھى بد اعمالى كے انجام سے نہ بچ سكا، جو كچھ اصحاب اخدود كے بارے ميں درج كيا گيا ہے يہ مشہور و معروف نظريات كے مطابق ہے _(4)

 

………………………..

(1)سورہ بروج ايت 4تا 7

(2)ايك ذراع تقريبا ادھا ميٹر ہے اور بعض اوقات گز كے معنى ميں استعمال ہو تا ہے جو تقريبا ايك ميٹر ہے )_

(3)مندرجہ بالا واقعہ تاريخ و تفسير كى بہت سى كتابوں ميں درج ہے ،منجملہ ديگر كتب كے عظيم مفسر طبرسى نے مجمع البيان ميں ،ابو الفتاح رازى نے اپنى تفسير ميں ،فخر رازى نے اپنے تفسير كبير ميں ،الوسى نے روح المعانى ميں اور قرطبى نے اپنى تفسير ميں اسى طرح ہشام نے اپنى سيرت (جلد اول ص35) ميں اور ايك دوسرى جماعت نے اپنى كتب ميں اس واقعہ كو تحرير كيا ہے

(4)ليكن اس ضمن ميں كچھ اور روآیات بھى موجود ہيں جو يہ بتاتى ہيں كہ اصحاب اخدود صرف يمن ميں ذونواس  ہى كے زمانے ميں نہيں تھے _

بعض مفسرين نے تو ان كے بارے ميں دس قول نقل كئے ہيں _

ايك روايت حضرت امير المو منين على عليہ السلام سے منقول ہے ،اپ نے فرمآیا ہے وہ ا ہل كتاب مجوسى تھے جو اپنى كتاب پر عمل كرتے تھے ،ان كے بادشاہوں ميں سے ايك نے اپنى بہن سے مباشرت كى اورخو اہش ظاہر كى كہ بہن سے شادى كو جائز قرار دے ،ليكن لوگوں نے قبول نہيں كيا،بادشاہ نے ايسے بہت سے مومنين كو جنھوں نے يہ بات قبول نہيں كى تھى ،جلتى ہوئي اگ كى خندق ميں ڈلوا ديا _''

يہ فارس كے اصحاب الاخدود كے بارے ميں ہے ،شام كے اصحاب الاخدود كے بارے ميں بھى علماء نے لكھا ہے كہ وہاں مومنين رہتے تھے اور'' انتيا خوس'' نے انھيں خندق ميں جلوآیا تھا_

بعض مفسرين نے اس وقعہ كو بنى اسرائيل كے مشہور پيغمبر حضرت دانيال عليہ السلام كے اصحاب و انصار كے ساتھ مربوط سمجھا ہے جس كى طرف توريت كى كتاب دانيال ميں اشارہ ہوا ہے اور ثعلبى نے بھى اخدود فارسى كو انہى پر منطبق كيا ہے _

كچھ بعيد نہيں كہ اصحاب اخدود ميں يہ سب كچھ اور ان جيسے دوسرے لوگ شامل ہوں اگر چہ اس كا مشہور معروف، مصداق سر زمين يمن كا ذونواس ہى ہے