• صارفین کی تعداد :
  • 5525
  • 1/20/2008
  • تاريخ :

امام جعفرصادق علیہ السلام کے بعض نصائح وارشادات

 

یا جعفر بن محمد

علامہ شبلنجی تحریرفرماتے ہیں :

۱ ۔  سعید وہ ہے جو تنہائی میں اپنے کو لوگوں سے بے نیاز اور خد اکی طرف جھکا ہوا پائے ۔

۲ ۔  جو شخص کسی برادر مومن کا دل خوش کرتا ہے خداوند عالم اس کے لیے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو اس کی طرف سے عبادت کرتا ہے اورقبر میں مونس تنہائی ، قیامت میں ثابت قدمی کا باعث، منزل شفاعت میں شفیع اور جنت میں پہنچانے مین رہبر ہوگا۔

۳ ۔  نیکی کا تکملہ یعنی کمال یہ ہے کہ اس میں جلدی کرو، اور اسے کم سمجھو، اور چھپا کے کرو۔

۴ ۔  عمل خیر نیک نیتی سے کرنے کو سعادت کہتے ہیں۔

۵ ۔  توبہ میں تاخیر نفس کا دھوکہ ہے۔

۶ ۔  چار چیزیں ایسی ہیں جن کی قلت کو کثرت سمجھنا چاہئے ۱ ۔آگ، ۲ ۔ دشمنی ، ۳ ۔ فقیر، ۴ ۔مرض

۷ ۔  کسی کے ساتھ بیس دن رہنا عزیزداری کے مترادف ہے ۔  

۸ ۔ شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لیے لوگوں پراحسان کرو۔

۹ ۔  جب اپنے کسی بھائی کے وہاں جاؤ تو صدر مجلس میں بیٹھنے کے علاوہ اس کی ہر نیک خواہش کو مان لو۔  

۱۰ ۔ لڑکی (رحمت) نیکی ہے اور لڑکا نعمت ہے خدا ہر نیکی پر ثواب دیتا ہے اور ہر نعمت پر سوال کرے گا۔

۱۱ ۔ جو تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تم بھی اس کی عزت کرو،اور جو ذلیل سمجھے اس سے خودداری کرو-

 ۱۲ ۔ بخشش سے  روکنا خدا سے بدظنی ہے۔

۱۳ ۔ دنیا میں لوگ باپ دادا کے ذریعہ سے متعارف ہوتے ہیں اور آخرت میں اعمال کے ذریعہ سے پہچانے جائیں گے۔

۱۴ ۔ انسان کے بال بچے اس کے اسیر اور قیدی ہیں نعمت کی وسعت پر انہیں وسعت دینی چاہئے ورنہ زوال نعمت کا اندیشہ ہے۔

۱۵ ۔ جن چیزوں سے عزت بڑھتی ہے ان میں تین یہ ہیں: ظالم سے بدلہ نہ لے، اس پرکرم گستری جو مخالف ہو،جو اس کا ہمدرد نہ ہو اس کے ساتھ ہمدردی کرے۔

 ۱۶ ۔ مومن وہ ہے جوغصہ میں جادہ حق سے نہ ہٹے اورخوشی سے باطل کی پیروی نہ کرے ۔

 ۱۷ ۔جو خدا کی دی ہوئی نعمت پر قناعت کرے گا، مستغنی رہے گا۔

 ۱۸ ۔ جو دوسروں کی دولت مندی پرللچائی نظریں ڈالے گا وہ ہمیشہ فقیر رہے گا۔

 ۱۹ ۔  جو راضی برضائے خدا نہیں وہ خدا پر اتہام  تقدیر لگا رہا ہے۔

۲۰ ۔ جو  اپنی لغزش کو نظرانداز کرے گا وہ دوسروں کی لغزش کو بھی نظرمیں نہ لائے گا ۔

۲۱ ۔ جو کسی پر ناحق تلوار کھینچے گا تو نتیجہ میں خود مقتول ہوگا-

۲۲ ۔ جو کسی کو بے پردہ کرنے کی سعی کرے گا خود برہنہ ہو گا-

۲۳ ۔ جو کسی کے لیے کنواں کھودے گا خود اس میں گرجائے گا”چاہ کن راچاہ درپیش“

۲۴ ۔ جو شخص بے وقوفوں سے راہ و رسم رکھے گا،ذلیل ہوگا،جو علماء کی صحبت حاصل کرے گا عزت پائے گا،جوبری جگہ دیکھے گا، بدنام ہوگا۔

۲۵ ۔ حق گوئی کرنی چاہئے خواہ وہ اپنے لیے مفید ہو یا مضر،۔

۲۶ ۔ چغل خوری سے بچو کیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں دشمنی اورعدوات کابیج بوتی ہے۔

۲۷ ۔اچھوں سے ملو،بروں کے قریب نہ جاو،کیونکہ وہ ایسے پتھرہیں جن میں جونک نہیں لگتی ،یعنی ان سے فائدہ نہیں ہوسکتا

(نورالابصارص ۱۳۴) ۔

۲۸ ۔ جب کوئی نعمت ملے تو بہت زیادہ شکر کرو تا کہ اضافہ ہو-

 ۲۹ ۔ جب روزی تنگ ہو تو استغفار زیادہ کیا کرو کہ ابواب رزق کھل جائیں۔

۳۰ ۔ جب حکومت یاغیرحکومت کی طرف سے کوئی رنج پہنچے تولاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم زیادہ کہوتاکہ رنج دورہو،غم کافورہو،اورخوشی کاوفورہو

(مطالب السول ص ۲۷۴،۲۵۷) ۔