• صارفین کی تعداد :
  • 6787
  • 1/20/2008
  • تاريخ :

امام حسن(ع) اوروحی کی ترجمانی

 

یا امام حسن مجتبی

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ امام حسن (ع) کایہ معمول تھاکہ آپ انتہائی کم سنی کے عالم میں اپنے ناناپرنازل ہونے والی وحی من وعن اپنی والدہ ماجدہ کوسنادیاکرتے تھے ایک دن حضرت علی نے فرمایاکہ اے بنت رسول میراجی چاہتاہے کہ میں حسن کوترجمانی وحی کرتے ہوئے خوددیکھوں، اورسنوں، سیدہ نے امام حسن کے پہنچنے کاوقت بتادیاایک دن امیرالمومنین حسن سے پہلے داخل خانہ ہوگئے اورگوشئہ خانہ میں چھپ کربیٹھ گئے امام حسن حسب معمول تشریف لائے اورماں کی آغوش میں بیٹھ کروحی سناناشروع کردی لیکن تھوڑی دیرکے بعد عرض کی ”یااماہ قدتلجلج لسانی وکل بیانی لعل سیدی یرانی“مادرگرامی آج زبان وحی ترجمان میں لکنت اوربیان مقصدمیں رکاوٹ ہورہی ہے مجھے ایسا معلوم ہوتاہے کہ جیسے میرے بزرگ محترم مجھے دیکھ رہے ہیں یہ سن کرحضرت امیرالمومنین نے دوڑکرامام حسن کوآغوش میں اٹھالیا اوربوسہ دینے لگے

(بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۱۹۳) ۔