• صارفین کی تعداد :
  • 4531
  • 1/16/2008
  • تاريخ :

اخلاق کى قدر و قيمت

 

گل رز

ہر معاشرہ کى زندگى اور ھر قوم کے تکامل ميں اخلاق شرط اساسي ہے ۔ انسانى پيدائش کے ساتھ ساتھ اخلاقيات کي بھى تخليق ھوئى ہے ۔ اخلاقيات کي عمرانسانى عمر کے برابر ہے ۔دنيا کا کوئى عقلمند ايسا نھيں ہے جس کو انسانى روح کى آسائش و سلامتى کے لئے اخلاقيات کے ضرورى ھونے ميں ذرہ برابر بھى شک ھو ، يا رشد اجتماعى کى بنياد پر تقويت دينے اور عمومى اصلاحات ميں اس کے سود بخش ھونے ميں کسى قسم کا شبہ ھو ۔ بھلا کون ايسا شخص ہے جس کو صداقت و امانت سے تکليف ھوتى ھو ؟ يا وہ کذب و خيانت کے زير سايہ سعادت کا متلاشى ھو ؟ اخلاق کى اھميت کے لئے يھى کافى ہے کہ ھر پسماندہ و ترقى يافتہ قوم چاہے وہ کسى دين و مذھب کى پابند بھى نہ ھو اخلاقي فضائل کو بڑے احترام و تقدس کى نظر سے ديکھتى ہے ۔ اور زندگى کى پُر پيچ راھوں ميں کچھ سلسلھٴ احکام کى پابندى کو ضرورى سمجھتى ہے ۔ انسان اپني زندگى ميں تمام مختلف راھوںکے اختيار کرنے کے باجود ھر جگہ ،ھر شخص اور ھر قوم و ملت کے لئے بلندى اخلاق کو ضرورى سمجھتا رھا ہے اور طول تاريخ ميں اس کى اھميت مختلف صورتوں ميں باقى رھى ہے ۔

مشھور انگريزى دانشمند ساموئيل اسمايلز کھتا ہے : اس کائنات کى محرک قوتوں ميں سے ايک قوت کا نام اخلاق ہے ۔ اور اس کے بھترين کارناموں ميں انسانى طبيعت کو بلند ترين شکل ميں مجسم کرنا ہے ، کيونکہ واقعى انسانيت کا معرف يھى اخلاق ہے ۔جو لوگ زندگى کے ھر شعبہ ميں تفوق و امتياز رکھتے ھيں  ان کى پورى کوشش يھي ھوتى ہے کہ نوع بشر کا احترام و اکرام اپنے لئے حاصل کر ليں۔ تمام لوگ ان پر اعتماد و بھرسہ کريں اور ان کى تقليد کريں ، کيونکہ ان حضرات کے خيالات يہ ھوتے ھيں کہ دنيا کى ھر چيز کا تعلق ان ھى سے ہے اور يہ کہ اگر ان کا وجود نہ ھوتا تو دنيا رھنے کے قابل نہ ھوتى ۔ اگر چہ وراثتي نبوغ خود ھى لوگوں کو اپنى طرف کھينچتا ہے اور ان کي تعظيم و احترام پر آمادہ کرتا ہے پھر بھى عام لوگوں کا ايسے ا شخاص کى طرف کھنچاؤ فکرى نتيجہ کا مرھون ھوتا ہے اور تعظيم و احترام کا تعلق دل ھى سے ھوا کرتا ہے ۔ يہ بات دنيا جانتى ہے کہ ھمارى پورى زندگى پر قلب کى حکومت ھوتى ہے اور پورى زندگى کا ادارہ يھى قلب کرتا ہے ۔ جو لوگ اپنى زندگى ميں عظمت و ارتقاء کى چوٹى پر پھونچ گئے ھيں وہ حيات بشرى کى پر پيچ گليوں کے روشن چراغ ھيں اور يھى وہ لوگ ھيں جو اپنى ذات سے عالم کو منور کر ديتے ھيں  اور لوگوں کو فضائل و تقويٰ کے راستوں کي طرف ھدايت کرتے ھيں ، ليکن جب تک کسى بھى معاشرہ کے افراد تربيت يافتہ اور خوش اخلاق نہ ھو ں گے چاہے وہ سياسى بلنديوں کے ھمالہ تک پھونچ جائيں وہ اپنے کو ترقى و بلندى تک نھيں پھونچا سکتے کوئى بھى قوم ھو يا ملت اگر وہ سر بلندى کى يقينى زندگي بسر کرنا چاھتى ہے تو اس کے لئے ملک کى وسعت ضرورى نھيں ہے ۔ کيونکہ بھت سى قوميں جو کثرت افراد رکھتي تھيں اور ان کے ملک کى زميں بھى بھت طويل و عريض تھى ليکن وہ عظمت و تکامل کى زندگى سے عارى تھيں اور يہ حقيقت ہے کہ جس قوم کا سر مايہ اخلاق تباہ ھو جائے وہ بھت جلد فنا کے گھاٹ اتر جاتى ہے ۔

اس انگريزى دانشمند کا قول نظرى و فکرى اعتبار سے متفق عليہ ہے ليکن دنيا ميں لوگوں نے علم و عمل کے درميان بھت لمبا فاصلہ پيدا کر ديا ہے اور عملي دنيا ميں انھوں نے مکارم اخلاق کى جگہ خواھشات نفسانى کے سپرد کر دى اور ايسى جذباتى خواھشات کى تلاش ميں لگ گئے جو زندگى کے سمندر ميں ناپائدار حباب کى طرح ھوا کرتى ھيں ۔

انسان کار گاہ تخليق سے ايسے فضائل لے کر آيا ہے جو آپس ميں متضاد ھيں (مثلاً ) دل اچہے و برے صفات کا مرکز ہے اس لئے وجود انسانى کو برے صفات سے بچانے کے لئے سب سے پھلى کوشش ھونى چاھئے اور اس سلسلے ميں سب سے پھلے ان دو طاقتوں کو مسخر کرنا چاھئے جو تمام حيوانى صفات کا منبع ھيں ۔ يعنى غضب و شھوت، پس جو شخص بھى منزل سعادت و تکامل کى طرف گامزن ھو اس کو چاھئے کہ ان دونوں طاقتوں ميں افراط سے پرھيز کرے اور ان دونوں قوتوں کے سخت و مضر ميلانات کو مفيد و زيبا ترين جذبات سے بدل دے کيونکہ انسان اپنى زندگى ميں اپنے عواطف و جذبات سے بھت فائدہ اٹھاتا ہے ليکن اس کے جذبات کاصحيح اظھار اسى وقت ھوتا ہے جب وہ جذبات عقل کے کنٹرول ميں ھوں ۔

ايک علم النفس کا ماھر کھتا ہے : انسانى جذبات ايک ايسا خزانہ ہے جو دو چيزوں سے مرکب ہے ايک چيز ايسى طاقتوں کا مرکز ہے جو فشار دينے والى ھيں اور دوسرى چيز کے اندر مقاومت کى طاقتوں کو وديعت کر ديا گيا ہے ۔ اب جو بھى قدرت مقاومتى دستگاہ پر غالب آگئى وھى قدرت ھمارے وجود پر براہ راست حکومت کرے گى اور ھم کو اپنا تابع و فرمانبردار بنا لے گى ۔

جن لوگوں نے اپنى باطنى قوتوں ميں توازن بر قرار رکھا ۔ خواھشات ميں توافق رکھا اور اپنے عقل و دل ميں صلح و آشتى کو قائم کيا ۔ انھيں لوگوں نے مشاکل حيات ميں اپنے مستحکم و غير متزلزل ارادہ کے ساتھ خوشبختي کے مسلم راستہ کو طے کيا ہے ۔ يہ بات اپنى جگہ پر درست ہے کہ آج کل کى زندگى مشينى زندگى بن کر رہ گئى ہے اور انسان نے اپنى فکرى قوتوں کے سھارے سمندروں کا سينہ چاک کر ڈالا ہے ليکن تمدن و تھذيب کے سينہ ميں جو بد بختياں موجود ھيں اور نسل بشرجن مشکلات کے تھپيڑوں ميں گرفتار ہے اور پورا معاشرہ جس بد نظمى و تباھى کا شکار ہے اسکى علت روحانيت کى شکست اور فضائل اخلاقى سے دوري کے علاوہ کچھ بھى نھيں ہے۔

ڈاکٹر ژول رومان کا کھنا ہے : اس زمانہ ميں علوم نے تو کافى ترقي کى ہے  ليکن ھمارے اخلاقيات اور غريزى احساسات اپنے ابتدائى مراحل ميں ھيں ۔ اگر ھمارے اخلاقيات بھى عقل و دانش کے شانہ بہ شانہ ترقى کرتے تو ھم کو يہ کھنے کا حق ھوتا کہ انسان کى مدنيت بھى ترقى کر گئى ہے !!!

ھاں يہ صحيح ہے کہ جس تمدن پر مکارم اخلاق کى حکمراني نھيں ھوتى وہ توازن و تعادل کے قانون کے بموجب تباہ و برباد ھو جاتا ہے ۔ معاشروں اور رتمدنوں کے اندر موجود شقاوت و بد بختي، نقص و کمى آج بھى لوگوں کو يہ احساس دلانے کے لئے کافي ہے کہ وہ اس زمانہ ميں بھى اخلاقى اقدار کے ويسے ھي محتاج ھيں جيسے پھلے تہے ۔ مکارم اخلاق کے اندر آج بھى اتنى طاقت و قوت موجود ہے جو اس مردہ معاشرہ کے جسم ميں نئى روح پھونک دے ۔