• صارفین کی تعداد :
  • 3713
  • 1/16/2008
  • تاريخ :

اٹھارہ محرم الحرام

 

رز صورتی

18 محرم الحرام سنہ 2 ھ ق کو خداوند تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس کے بجائے خانۂ کعبہ قرار پایا ۔ خداوند تعالیٰ سورۂ بقرہ کی  آيت 144 میں ارشاد فرماتا ہے ۔ اے رسول ! ہم آسمان کی طرف اٹھی ہوئی آپ کی نگاہ دیکھ رہے ہیں ۔ عنقریب آپ کا رخ اس قبلے کی طرف موڑدیں گے جو آپ کو پسند ہے اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی جانب کرلیجئے اور جہاں بھی رہیے اسی طرف رخ کیجئے ۔ اہل کتاب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ تبدیلی برحق ہے اور پروردگار کی طرف سے ہے اور اللہ ان کی حرکتوں سے غافل نہیں ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کا پہلا اور عارضی قبلہ تھا اس لئے رسول اکرم(ص) کوقبلے کی تبدیلی کے لئے خدائے تعالیٰ کے فرمان کا انتظار تھا ۔ آخر کار 18 محرم سنہ 2 ھ ق کو خدائے تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ قرار پایا اور مسلمانوں نے خانہ  کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھنا شروع کردی ۔

 

18 محرم الحرام 1323 ہجری قمری کو معروف فقیہ و عالم دین آیت اللہ شیخ محمد ممقانی (رح) نے وفات پائی ۔ آیت اللہ ممقانی (رح) علم اصول فقہ میں ید طولیٰ رکھتے تھے ، آپ (رح) زہد و تقویٰ میں معروف اور خاص روحانی مقام کے حامل تھے ، چنانچہ دنیوی خواہشات سے پرہیز کرتے اور ظاہری نمود و نمائش سے عاری تھے ۔آيت اللہ ممقانی (رح) کی تصانیف میں اسلامی احکام کی تشریح میں لکھی ہوئی کتاب ذرائع الاحکام اور علم اصول فقہ میں مجلّداتُ البُشریٰ قابل ذکر ہیں ، اس کے علاوہ آيت اللہ ممقانی (رح) نے شیخ اعظم مرتضی انصاری (رح) کی شہرۂ آفاق کتاب مکاسب پر حاشیہ بھی لکھا ہے۔