• صارفین کی تعداد :
  • 4939
  • 7/1/2008
  • تاريخ :

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو :ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین (ع) (نظم)

 

مرقد مطهر امام حسین(ع)

کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ

تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ

مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو

لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو

 

*********

یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو

یہ جو چراغ ظلم کی تھرا رہی ہے لو

در پردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو

حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو

یہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو

پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین

پھر بزم آب وگل میں ہے کہرام اے حسین

پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسین

پھر حریت ہے مورد الزام اے حسین

ذوق فساد ولولہ شر لیے ہوئے

پھر عصر نو کے شمر ہیں خنجر لیے ہوئے

مجروح پھر ہے عدل و مساوات کا شعار

اس بیسویں صدی میں ہے پھر طرفہ انتشار

پھر نائب یزید ہیں دنیا کے شہر یار

پھر کربلائے نو سے ہے نوع بشر دوچار

اے زندگی جلال شہ مشرقین دے

اس تازہ کربلا کو بھی عزم حسین دے

آئین کشمکش سے ہے دنیا کی زیب و زین

ہرگام ایک بدر ہو ہر سانس اک حنین

بڑھتے رہو یو نہیں پے تسخیر مشرقین

سینوں میں بجلیاں ہوں زبانوں پہ یاحسین

تم حیدری ہو‘ سینہ اژدر کو پھاڑ دو

اس خیبر جدید کا در بھی اکھاڑ دو

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین