• صارفین کی تعداد :
  • 436
  • 2/14/2018 3:51:00 PM
  • تاريخ :

بیلجیئم کی سب سے بڑی مسجد کا کنٹرول سعودی عرب سے واپس لے لیا گیا

بیلجیم کے تارکین وطن کے وزیر تھیو فرینکن نے مسجد الکبیر کے مصری امام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے انہیں ملک سے بے دخل کرنے کی کوشش کی تھی

 
بیلجیئم کی سب سے بڑی مسجد کا کنٹرول سعودی عرب سے واپس لے لیا گیا

سعودی عرب نے بالآخر بیلجیم کی سب سے بڑی جامع مسجد کا انتظام حکومت بیلجیم کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

عرب ویب سائیٹ ’’العربیہ‘‘ کے مطابق مسجد الکبیر بیلجیم کی سب سے بڑی مسجد ہے، اس کی تعمیر کے لئے بیلجیم کی حکومت نے سعودی عرب کو 1969 میں زمین 99 سال کے لئے مفت پٹے پر دی تھی، سعودی عرب نے زمین پر مسجد تعمیر کی اور اس کا انتظام اسی وقت سے براہ راست سعودی حکومت سنبھال رہی ہے۔ بنیادی طور پر اس مسجد کا انتظام سعودی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی تنظیم ’’مسلم ورلڈ لیگ‘‘ سنبھالتی ہے اور اسی تنظیم کی وساطت سے مسجد کی انتظامیہ کو سالانہ 50 لاکھ یوروزامداد ملتی ہے۔

2016 میں برسلز میں داعش کے حملوں کے بعد بیلجیم کی سیکیورٹی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مسجد الکبیر سے جن تعلیمات کو فروغ دیا جارہا ہے، اس کے نتیجے میں مسلم نوجوان زیادہ سخت گیر نظریات کے حامل بن رہے ہیں۔ رپورٹ کی روشنی میں بیلجیم کی حکومت نے سعودی عرب سے مسجد کا کنٹرول واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی رپورٹ کے تناظر میں بیلجیم کے تارکین وطن کے وزیر تھیو فرینکن نے مسجد الکبیر کے مصری امام کو خطرناک قرار دیتے ہوئے انہیں ملک سے بے دخل کرنے کی کوشش کی تھی۔

مسجد الکبیر کے انتظامات بیلجیم کے حوالے کرنے سے متعلق تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں البتہ بیلجیم کے وزیر داخلہ جان جمبون کا کہنا ہے کہ اس کی تفصیل طے کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہےاور جلد اس حوالے سے کوئی اعلان سامنے آئےگا۔ ان کے بقول مسجد کے انتظامی معاملات کےحوالے سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی سفارتی تناؤ پیدا نہیں ہوا ہے۔

رائٹرز کے مطابق بیلجیم کے حکام نے سعودی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ مسجد کا انتظام مسلمانوں کی مقامی تنظیم مسلم ایگزیکٹو آف بیلجیم سنبھالے کیونکہ یہ تنظیم مراکش کی حکومت کے قریب اور وہ اعتدال پسند نظریات کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

منبع: تقریب نیوز