• صارفین کی تعداد :
  • 8341
  • 11/20/2016
  • تاريخ :

اربعین کی تکریم وتعظیم (حصّہ ششم )

عاشورا

حَمیداً وَ مُتَّ فَقیداً مَظْلُوماً شَهیداً وَ اَشْهَدُ اَنَّ اللَّهَ مُنْجِزٌ ما وَعَدَک
اور گم گشتہ، ستمزدہ اور شہید ہوکر موت کو گلے لگایا؛ نیز گواہی دیتا ہوں کہ خداوند متعال بتحقیق اس وعدے کی وفا کرنے والا ہے جو اس  نے آپ سے کیا تھا،
وَ مُهْلِک مَنْ خَذَلَک وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَک وَ اَشْهَدُ اَنَّک وَفَیْتَ بِعَهْدِاللهِ
اور تباہ و ہلاک کرنے والا ہے آپ کی نصرت و مدد سے ہاتھ کھینچنے والوں کو اور عذاب دینے والا ہے آپ کے قاتلوں کو اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے وعدے پر بخوبی عمل کیا،
وَ جاهَدْتَ فى سَبیلِهِ حَتّى اَتیک الْیَقینُ فَلَعَنَ اللهُ مَنْ قَتَلَک،
اور آپ نے جہاد کیا اس کی راہ میں اپنی موت کے لمحے تک خدا لعنت بھیجے اس پر جس نے آپ کو قتل کیا
وَ لَعَنَ اللهُ مَنْ ظَلَمَک وَ لَعَنَ اللَّهُ اُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِک فَرَضِیَتْ بِهِ
اور لعنت کرے ان کو جنہوں نے آپ پر ظلم و ستم روا رکھا اور لعنت کرے ان پر جنہوں نے آپ کے قتل کا واقعہ سنا اور اس پر راضی ہوئے،
اَللّهُمَّ اِنّى اُشْهِدُک اَنّى وَلِىُّ لِمَنْ والاهُ وَ عَدُوُّ لِمَنْ عاداهُ بِاَبى اَنْتَ وَ اُمّى یَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ۔
خداوندا میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں ان سب سے محبت کرتا ہوں جو ان سے (یعنی امام حسین علیہ السلام سے) محبت کرتے ہیں اور دشمنی کرتا ہوں ان سے جو امام حسین علیہ السلام سے دشمنی کرتے ہیں۔ میرے ماں باپ قربان ہوں آپ پر اے فرزند رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔
اَشْهَدُ اَنَّک کنْتَ نُوراً فىِ الاَْصْلابِ الشّامِخَةِ وَ الاَْرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ،
شہادت دیتا ہوں کہ آپ نور تھے بلند مرتبہ باپوں کی (؟) پشت میں اور پاکیزہ کھوکھوں میں
لَمْ تُنَجِّسْک الْجاهِلِیَّةُ بِاَنْجاسِها وَ لَمْ تُلْبِسْک الْمُدْلَهِمّاتُ مِنْ ثِیابِها،
چنانچہ زمانہ جاہلیت کے حالات آپ کو آلودہ نہ کرسکے اور اس دور کے میلے لباس آپ کو اپنے لپیٹ میں نہ لے سکے ہیں
وَ اَشْهَدُ اَنَّک مِنْ دَعاَّئِمِ الدّینِ وَ اَرْکانِ الْمُسْلِمینَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنینَ،
اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ حقیقتاً دین کے ستون اور مسلمانوں کے ستون اور مؤمنوں کی پناہگاہ ہیں۔
وَ اَشْهَدُ اَنَّک الاِْمامُ الْبَرُّ التَّقِىُّ الرَّضِىُّ الزَّکىُّ الْهادِى الْمَهْدِىُّ،
اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ حقیقتا نیکوکار، باتقوی اور پسندیدہ امام و پیشوا اور ہدایت یافتہ راہنما ہیں۔
وَ اَشْهَدُ اَنَّ الاَْئِمَّةَ مِنْ وُلْدِک کلِمَةُ التَّقْوى وَ اَعْلامُ الْهُدى
اور گواہى دیتا ہوں کہ بے شک آپ کی نسل سے آنے والے ائمہ (ع) تقوی کی روح اور حقیقت اور ہدایت کی نشانیاں
وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقى وَالْحُجَّةُ على اَهْلِ الدُّنْیا وَ اَشْهَدُ اَنّى بِکمْ مُؤْمِنٌ
اور حقیقتا حق و فضیلت کی مضبوط رسیاں اور دنیا کی مخلوقات پر اللہ کی حجتیں ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں آپ (معصومیں علیہم السلام) پر ایمان رکھتا ہوں ۔ ( جاری ہے )