• صارفین کی تعداد :
  • 5008
  • 7/30/2016
  • تاريخ :

امام جعفر صادق (ع) اور مسئلہ خلافت  ( حصّہ چہارم )

امام جعفر صادق(ع) کی حدیثیں

اس آيت سے بني نوع انسان کو سمجھايا جا رھا ھے کہ اسلام اگر کسي کو دوسرے پر ترجيح ديتا ھے تو وہ اس کا متقي ھونا ھے چونکہ اموي خاندان عربوں کو غير عربوں پر ترجيح ديتے تھے اسلام نے ان کے اس نظريہ کي نفي کر کے ايک بار پھر اپنے دستور کي تائيد کي ھے کہ خانداني و جاھت، مالي آسودگي کو باعث فخر سمجھنے والو! تقوي ھي معيار انسانيت ھے۔
ايک حديث ھے اور اس کو ميں نے کتاب اسلام اور ايران کا تقابلي جائزہ ميں نقل کيا ھے کہ پيغمبر اکرم (ص) نے فرمايا ھے يا ايک صحابي نے نقل کيا ھے کہ ميں نے خواب ميں ديکھا کہ سفيد رنگ کے گوسفند کالے رنگ کے گوسفند ميں داخل ھو گئے اور يہ ايک دوسرے سے ملے ھيں اور اس کے نتيجہ ميں ان کي اولاد پيدا ھوئي ھے۔ پيغمبر اکرم (ص) نے اس خواب کي تعبير ان الفاظ ميں فرمائي کہ عجمي اسلام ميں تمھارے ساتھ شرکت کريں گے، اور آپ لوگوں ميں شادياں کريں گے ۔ آپ کي عورتيں ان کے مردوں اور ان کي عورتيں آپ کے مردوں کے ساتھ بياھي جائيں گي۔ يعني آپ لوگ ايک دوسرے کے ساتھ رشتے کريں گے۔ ميں نے اس جملہ سے يہ سمجھا کہ آپ (ص) نے فرمايا کہ ميں ديکھ رھا ھوں کہ ايک روز تم عجم کے ساتھ اور عجم تمھارے ساتھ اسلام کي خاطر جنگ کريں گے يعني ايک روز تم عجم کے ساتھ جنگ کر کے انھيں مسلمان کريں گے اور ايک روز عجم تمھارے ساتھ لڑيں گے اور تمھيں اسلام کي طرف لوٹائيں گے اس حديث کا مفھوم يھي ھے کہ اس قسم کا انقلاب آئے گا۔
بني عباس انتھائي مضبوط پروگرام اور ٹھوس پاليسي پر عمل کرتے ھوئے تحريک کو پروان چڑھا رھے تھے۔ ان کا طريقہ کار بہت عمدہ اور منظم تھا انھوں نے ابو مسلم کو خراسان اپنے مقصد کي تکميل کيلئے بھيجا تھا۔ وہ يہ ھر گز نھيں چاھتے تھے کہ انقلاب ابو مسلم کے نام پر کامياب ھو بلکہ انھوں نے چند مبلغوں کو خراسان بھيجا کہ جا کر لوگوں ميں اچھے انداز ميں تقريريں کر کے عوام کو امويوں کے خلاف اور عباسيوں کے حق ميں جمع کريں۔ ابو مسلم کے نسب کے بارے ميں آج تک معلوم نھيں ھو سکا تاريخ ميں تو يھاں تک بھي پتہ نھيں ھے کہ ابو مسلم ايراني تھے يا عربي۔ پھر اگر ايراني تھے تو پھر کيا اصفھاني تھے يا خراساني۔ وہ ايک غلام تھا اس کي عمر  برس کي تھي کہ ابراھيم امام نے اس غير معمولي صلاحيتوں کو بھانپ ليا اور اس کو تبليغ کے لئے خراسان روانہ کيا تاکہ وہ خراسان کے عوام کے اندر ايک انقلاب برپا کر دے۔ اس نوجوان ميں قائدانہ صلاحيتيں بھر پور طريقے سے موجود تھيں۔ يہ شخص سياسي لحاظ سے تو خاصا با صلاحيت تھا ليکن حقيقت ميں بہت برا انسان تھا۔ اس ميں انسانيت کي بوتک نہ آتي تھي۔ ابو مسلم حجاج بن يوسف کي مانند تھا، اگر عرب حجاج پر فخر کرتے ھيں تو ھم بھي ابو مسلم پر فخر کرتے ھيں ( جاري ہے )