• صارفین کی تعداد :
  • 5204
  • 6/30/2016
  • تاريخ :

يوم ظہور پرنور خاتون جنت سيدہ النسا (حصّہ نہم)

جناب فاطمہ الزہرا


حضرت فاطمہ زہرا(س) کو اللہ نے پانچ اولاد عطا فرمائيں جن ميں سے تين لڑکے اور دو لڑکياں تھيں ۔ شادي کے بعد حضرت فاطمہ زہرا صرف نو برس زندہ رہيں۔ اس نو برس ميں شادي کے دوسرے سال حضرت امام حسن عليہ السّلام پيدا ہوئے اور تيسرے سال حضرت امام حسين عليہ السّلام . پھر غالباً پانچويں سال حضرت زينب اور ساتويں سال حضرت امِ کلثوم ۔ نويں سال جناب محسن عليہ السلام  بطن ميں تھے جب ھي وہ  ناگوار مصائب پيش آئے جن کے سبب سے وہ دنيا ميں تشريف نہ لا سکے اور بطن مادر ميں ہي شہيد ہو گئے۔ اس جسماني صدمہ سے  حضرت سيّدہ بھي جانبر نہ ہو سکيں .لہذا وفات کے وقت آپ نے دو صاحبزادوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسين عليہما السّلام اور دو صاحبزاديوں زينب کبري و امِ کلثوم  کو چھوڑا جو اپنے اوصاف کے لحاظ سے طبقہ خواتين ميں اپني ماں کي سچي جانشين ثابت ہوئيں .


جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کي مختصر ليکن برکتوں سے سرشار عمر
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کي زندگي کا ايک ممتاز پہلو يہ ہے کہ آپ کا سن مبارک اکثر مورخين نے صرف اٹھارہ سال لکھا ہے۔ اٹھارہ سال کي مختصر ليکن برکتوں اور سعادتوں سے سرشار عمر، اس قدر زيبا، پر شکوہ اور فعال و پيغام آفريں ہے کہ اب تک آپ کي ذات مبارک پر بے شمار کتابيں اور مقالے محققين قلمبند کرچکے ہيں پھر بھي ارباب فکر و نظر کا خيال ہے کہ اب بھي سيدہ النساء العالمين کي انقلاب آفريں شخصيت و عظمت کے بارے ميں حق مطلب ادا نہيں ہوسکا ہے۔  آپ کے فضائل و کمالات کے ذکر و بيان سے نہ صرف ہمارے قلم و زبان عاجز و ناتواں ہيں بلکہ معصومين کو بھي بيان و اظہار ميں مشکل کا سامنا رہا ہے، پھر بھي علامہ مجلسي عليہ الرحمہ نے بحارالانوار کي چھٹي جلد ميں معصومہ  عالم کي ولادت سے متعلق احاديث و روايات ميں نقل شدہ جن تمہيدوں اور تذکروں کو قلمبند کيا ہے وہ خود ايک مبارک و مسعود وجود اور غير معمولي انسان کے ظہور پر دلالت کرتے ہيں ۔ اس طرح کي روايات حتي اہلبيت پيغمبر(س) ميں بھي کسي اور کے لئے نقل نہيں ہوئي ہيں ۔ خانہ وحي و رسالت ميں جس وقت جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا تشريف لائي ہيں، حضور اکرم(ص) اولاد نرينہ سے محروم تھے خود يہ مسئلہ غور طلب ہے کہ نبي اکرم(ص) کو خدا نے کوئي بيٹا طول عمر کے ساتھ کيوں عطا نہيں فرمايا جو بھي بيٹے ديئے بچپنے ميں ہي خاک قبر ميں پہنچ گئے۔ حتي ايک مرحلہ وہ بھي آيا جب بعثت کے بعد قريش کے اسلام دشمن کفار و مشرکين نے آپ کو «ابتر» اور لاولد ہونے کا طعنہ دينا شروع کر ديا اور کہنے لگے آپ تو  «بے جانشين»  اور «بے چراغ»  ہيں ( جاري ہے )