• صارفین کی تعداد :
  • 5344
  • 6/26/2016
  • تاريخ :

يوم ظہور پرنور خاتون جنت سيدہ النسا (حصّہ چہارم)

حضرت فاطمہ(س)


حضرت فاطمہ(س) کا اخلاق و کردار
حضرت فاطمہ زھرا اپني والدہ گرامي حضرت خديجہ کي والا صفات کا واضح نمونہ تھيں جود و سخا، اعلي فکري اور نيکي ميں اپني والدہ کي وارث اور ملکوتي صفات و اخلاق ميں اپنے پدر بزرگوار کي جانشين تھيں۔  وہ اپنے شوھر حضرت علي(ع) کے لئے ايک دلسوز، مھربان اور فدا کار زوجہ تھيں ۔آپ کے قلب مبارک ميں اللہ کي عبادت اور پيغمبر کي محبت کے علاوہ اور کوئي تيسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاھليت کي بت پرستي سے آپ کوسوں دور تھيں ۔ آپ نےشادي سے پہلے کئی سال کي زندگي کے پانچ سال اپني والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور سال اپنے بابا   کے زير سايہ بسر کئے اور شادي کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوھر بزرگوار علي مرتضي(ع) کے شانہ بہ شانہ اسلامي تعليمات کي نشرواشاعت،  اجتماعي خدمات اور خانہ داري ميں گزارے ۔آپ کا وقت بچوں کي تربيت گھر کي صفائي اور ذکر و عبادت خدا ميں گزرتا تھا۔ فاطمہ(س) اس خاتون کا نام ھے جس نے اسلام کے مکتب تربيت ميں پرورش پائي تھي  اور ايمان و تقوي آپ کے وجود کے  ذرات ميں گھل مل چکا تھا ۔

فاطمہ زھرا(س) نے اپنے ماں باپ کي آغوش ميں تربيت پائي اور معارف و علوم الھي کو، سر چشمہ نبوت سے کسب کيا۔ انہوں نے جو کچہ بھي ازدواجي زندگي سے پہلے سيکھا تھا  اسے شادي کے بعد اپنے شوھر کے گھر ميں عملي جامہ پھنايا ۔  وہ ايک ايسي مسن وسمجھدار خاتون کي طرح جس نے زندگي کے تمام مراحل طے کر لئے ھوں اپنے گھر کے امور اور تربيت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ ديتي تھيں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھي باخبر رھتي تھيں اور اپنے اور اپنے شوھر کے حق کا دفاع کرتي تھيں  (جاري ہے )