• صارفین کی تعداد :
  • 5333
  • 6/23/2016
  • تاريخ :

يوم ظہور پرنور خاتون جنت سيدہ النسا  ( حصّہ سوّم)

حضرت فاطمہ(س)


حضرت امير(ع) نے جواب ديا : جي، رسول اکرم(ص) نے فرمايا : شايد زھراء سے شادي کي نسبت لے کر آئے ھو ۔حضرت علي(ع) نے جواب ديا، جي  چونکہ مشيت الہھي بھي  يہي چاہ رہي تھي کہ يہ عظيم رشتہ برقرار ھو لھذا حضرت علي(ع) کے آنے سے پہلے ہي  رسول اکرم(ص) کو وحي کے ذريعہ اس بات سے آگاہ کيا جا چکا تھا ۔ بہتر تھا کہ پيغمبر(ص) اس نسبت کا تذکرہ  زھراء سے بھي کرتے لھذا آپ نے اپني صاحب زادي سے فرمايا : آپ، علي(ع) کو بہت اچھي طرح جانتيں ھيں ۔ وہ سب سے زيادہ  ميرے نزديک ھيں۔  علي(ع) اسلام کے سابق خدمت گذاروں اور با فضيلت افراد ميں سے ھيں، ميں نے خدا سے يہ چاہا تھا کہ وہ تمھارے لئے بھترين شوھر کا انتخاب کرے اور خدا نے مجھے يہ حکم ديا کہ ميں آپ کي شادي علي(ع) سے کر دوں آپ کي کيا رائے ھے ۔
حضرت زھراء(س) خاموش رھيں، پيغمبر اسلام(ص) نے آپ کي خاموشي کو آپ کي رضا مندي سمجھا اور خوشي کے ساتھ تکبير کہتے ھوئے وھاں سے اٹھ کھڑے ھوئے ۔ پھر حضرت امير(ع) کو شادي کي بشارت دي ۔ حضرت فاطمہ زھرا(س) کا  مھر  مثقال چاندي قرار پايا اور اصحاب کے  ايک مجمع ميں خطبہ نکاح پڑھا ديا گيا  قابل غور بات يہ ھے کہ شادي کے وقت حضرت علي(ع) کے پاس ايک تلوار، ايک ذرہ اور پاني بھرنے کے لئے ايک اونٹ کے علاوہ کچہ بھي نہيں تھا، پيغمبر اسلام(ص) نے فرمايا : تلوار کو جھاد کے لئے رکھو، اونٹ کو سفر اور پاني بھرنے کے لئے رکھو ليکن اپني زرہ کو بيچ ڈالو تاکہ شادي کے وسائل خريد سکو ۔ رسول اکرم(ص) نے جناب سلمان فارسي سے کہا : اس زرہ کو بيچ دو ۔ جناب سلمان نے اس زرہ کو پانچ سو درھم ميں بيچا  پھر ايک بھيڑ ذبح کي گئ اور اس شادي کا وليمہ ھوا  جھيز کا وہ سامان جو دختر رسول اکرم(ص) کے گھر لايا گيا تھا،اس ميں چودہ چيزيں تھي ۔

شھزادي عالم، زوجہ علي(ع)، فاطمہ زھراء(ع) کا بس يہي مختصر سا جہيز تھا ۔ رسول اکرم(ص) اپنے چند با وفا مھاجر اور انصار اصحاب کے ساتھ اس شادي کے جشن ميں شريک تھے ۔ تکبيروں کي آوازوں سے مدينہ کي گليوں اور کوچوں ميں ايک خاص روحانيت پيدا ھو گئي تھي  اور دلوں ميں سرور و مسرت کي لہريں موج زن تھيں ۔ پيغمبر اسلام(ص) اپني صاحبزادي کا ہاتھ حضرت علي(ع) کے ھاتھوں ميں دے کر اس مبارک جوڑے کے حق ميں دعا کي اور انھيں خدا کے حوالے کر ديا ۔اس طرح کائنات کے سب سے  بہتر جوڑے کي شادي کے مراسم نہايت سادگي سے انجام پائے ( جاري ہے )