• صارفین کی تعداد :
  • 5297
  • 6/24/2016
  • تاريخ :

يوم ظہور پرنور خاتون جنت سيدہ النسا  (حصّہ دوّم )

حضرتِ فاطمہ سلام اللہ علیہا


زھراء(س) عظيم والدين کي آغوش پروردہ
حضرت فاطمہ زھرا(ع) کي تاريخ ولادت کے سلسلہ ميں علماء اسلام کے درميان اختياف ہے۔  ليکن اہل بيت عصمت و طہارت کي روايات کي بنياد پر آپ کي  ولادت بعثت کے پانچويں سال ، جمادي الثاني، بروز جمعہ مکہ معظمہ ميں ھوئي۔

 

بچپن اور تربيت
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا پانچ برس تک اپني والدہ ماجدہ حضرت خديجہ الکبري کے زير سايہ رہيں اور جب بعثت کے دسويں برس خديجہ الکبري عليہا السّلام کا انتقال ہو گيا ماں کي اغوش سے جدائي کے بعد ان کا گہوارہ تربيت صرف باپ کا سايہ رحمت تھا اور پيغمبر اسلام کي اخلاقي تربيت کا آفتاب تھا جس کي شعاعيں براه راست اس بے نظير گوہر کي آب وتاب ميں اضافہ کر رہي تھيں .
جناب سيّدہ سلام اللہ عليہا کو اپنے   بچپن ميں بہت سے  ناگوار  حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال کي عمر ميں  سر سے ماں کا سايہ اٹھ گيا۔ اب باپ کے زير سايہ زندگي شروع ہوئي تو  اسلام کے  دشمنوں کي طرف سے رسول کو دي جانے والي اذيتيں سامنے تھيں ۔ کبھي اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھرون سے لہو لہان ديکھتيں تو کبھي سنتي کے مشرکوں نے بابا کے سر پر کوڑا ڈال ديا۔ کبھي سنتيں کہ دشمن بابا کے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہيں ۔  مگر اس کم سني کے عالم ميں بھي سيّدہ عالم نہ ڈريں نہ سہميں نہ گھبرائيں بلکہ اس ننھي سي عمر ميں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کي مددگار بني رہيں۔
حضرت فاطمہ(س) کي شادي
يہ بات شروع سے ہي سب پر عياں تھي کہ علي(ع) کے علاوہ کوئي دوسرا دختر رسول(ص) کا کفو و ہمتا نھيں ہے ۔ اس کے باوجود بھي بہت سے  ايسے لوگ، جو اپنے آپ کو پيغمبر(ص) کے نزديک سمجھتے تھے اپنے دلوں ميں دختر رسول(ص) سے شادي کي اميد لگائے بيٹھے تھے ۔

مورخين نے لکھا ھے : جب سب لوگوں نے قسمت آزمائي کر لي تو حضرت علي(ع) سے کہنا شروع کر ديا : اے علي(ع) آپ دختر پيغمبر(ص) سے شادي کے لئے نسبت کيوں نہيں ديتے ۔ حضرت علي(ع) فرماتے تھے : ميرے پاس ايسا کچھ بھي نھيں ھے جس کي بنا پر ميں اس راہ ميں قدم بڑھاوں۔ وہ لوگ کہتے تھے : پيغمبر(ص) تم سے کچھ نہيں مانگيں گے۔

آخرکار حضرت علي(ع) نے اس پيغام کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کيا اور ايک دن رسول اکرم(ص) کے بيت الشرف  ميں تشريف لے گئے ليکن شرم و حيا کي وجہ سے آپ اپنا مقصد ظاھر نہيں کر پا رہے تھے۔
مورخين لکھتے ھيں کہ : آپ اسي طرح دو تين مرتبہ رسول اکرم(ص) کے گھر گئے ليکن اپني بات نہ کہہ سکے۔ آخر کار تيسري مرتبہ پيغمبر اکرم(ص) نے پوچھ ہي ليا : اے علي کيا کوئي کام ھے۔(جاري ہے )