• صارفین کی تعداد :
  • 11000
  • 6/25/2016
  • تاريخ :

اسلام قبول کرنے والي ناورے کي ايک خاتون کي ياديں ( حصّہ دوّم )

حجاب

مونيکا ہانگسلم نے اس سوال کے جواب ميں کہ بعض لوگ اس طرح کے شکوک و شبھات کا اظہار کرتے ہيں کہ قرآني تعليمات ميں عورتوں کے موجودہ امور کے بارے ميں کوئي ھدايت نہيں ھے کہا ناروے کے زرائع ابلاغ اسلام کي صحيح  تعليمات اورحقيقي شناخت سے محروم ہيں ۔ وہ اسلام کي حقيقت کو لوگوں کو بتانے سے قاصر ہيں ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ميں اس نتيجے پر پہنچي ہوں کہ  دين اسلام سے ذيادہ کوئي دين عورت کي عظمت اور احترام کا قائل  نہيں ھے اسلام عورت کي آزادي اور اکرام پر خصوصي توجہ ديتا ھے ۔
مغرب کي نظر ميں عورت کي آزادي کا يہ مطلب ھے کہ وہ کپڑے اتار کر يا نيم برہنہ ہو کر سڑکوں پر گھومے پھرے آزادي کا حقيقي مفہوم يہ نہيں ھے ميرا يہ عقيدہ ھے کہ اسلام نے عورت کو مکمل آزادي عطا کي ھے اور ميں نہ صرف يہ کہ اسلامي پردے کو عورت کي توھين نہيں سمجھتي بلکہ حجاب اور پردے کو عورت کي سہولت اور آساني کے لي۔ ضروري سمجھتي ہوں۔
مونيکا اپني روز مرہ کي مصروفيات کي تفصيلات بتاتے ہوے کہتي ہيں ميں آجکل ناروے کي بعض مسلمان خواتين کے ساتھ مل کر اسلامي تعليمات کي تعليم و تربيت کا پروگرام چلا رہي ہوں ۔ ناروے کے مسلمان اسلام کي وجہ سے گونا گوں مشکلات کا شکار ہيں ۔ يہاں کے مسلمان بچے مسلمان اساتذہ کي عدم موجودگي کي وجہ سے اسلامي تعليمات سے دور ہيں لہذا مسلمان آبادي ميں ايک مسجد کي تعمير کا پروگرام بنايا گيا ليکن وسائل کي کمي کي وجہ  سے يہ منصوبہ ابھي مکمل نہيں ہوا ھے۔ مونيکا مدينہ منورہ اور مکہ مکرمہ کي زيارت کے بارے ميں کہتي ہيں ميں جب مکہ مکرمہ پہنچي تو تو ميرے اوپر ايک عجيب سي کيفيت طاري ہو گئي اور مسجد الحرام کي زيارت کے وقت تو مجھے ايسے محسوس ہواجيسے ميں خدا کے بہت ہي قريب آ گئي ہوں  ميري آرزو ھے کہ يہ زيارت مجھے بار بار نصيب ہو اور اسلام پوري دنيا ميں پھيل جا ۔ مونيکا ايک شادي شدہ خاتون ہيں اور اس کے تين بچے ہيں جو قرآن پاک کو صحيح عربي لہجے ميں تلاوت کرتے ہيں يہ پورا خاندان اسلام کے سا  ميں خدا پر ايمان رکھتے ہو مطمئن زندگي گزار رہا ہے ۔

ان دو مغربي خواتين کے اسلام کے نظريہ حقوق نسواں کے حوالے سے آرا ديکھ کر اور امام خميني جيسے عظيم شخصيت نے انقلاب اسلامي برپا کرنے کے بعد بيس جمادي الثاني يوم ظہور پرنور خاتون جنت سيدہ النسا العالمين کو عالمي يوم خواتين قرار دے کر ثابت کر ديا کہ اسلام ذندہ دين اور تمام مسائل کا حل دينے والا مکمل ضابطئہ حيات قرار دينے کے لئے کيا پاکستان سميت پوري اسلامي دنيا کي ذمہ داري نہيں بنتي کہ وم مغرب کي اندھي تقليد آٹھ مارچ يوم خواتين منانے کي بجائےبيس جمادي الثاني يوم ظہور پرنور خاتون جنت سيدہ النسا العالمين کو عالمي يوم خواتين قرار دے کر اسلام کي آفاقيت کو ذندہ کر ديں۔