• صارفین کی تعداد :
  • 5975
  • 6/18/2016
  • تاريخ :

ماہ رمضان المبارک خطبہ شعبانيہ کے آئينہ ميں (  حصّہ ششم )

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ


اس خطبہ ميں بھي رسول اعظم نے حضر ت علي عليہ السلام کو اپنا ہم رتبہ اور ہم مرتبہ قرار ديتے ہوئے امام علي عليہ السلام کو مخاطب قرار دے کر فرمايا: يا علي (ع)! من قتلک فقد قتلني و من ابغضک فقد ابغضني و من سبک فقد سبني لانک مني کنفسي، روحک من روحي و طينتک من طينتي. اے علي (ع)! جس نے تمہيں قتل کيا اس نے مجھے قتل کيا، جس نے تم سے عداوت کي اس نے مجھ سے عداوت کي، جس نے تمہيں برا بھلا کہا اس نے مجھے برا بھلا کہا؛ اس لئے کہ تم ميري جان کے مانند ہو ، تمہاري روح ميري روح ميں سے ہے اور تمہاري طينت ميري طينت ميں سے ہے ۔جس طرح ولايت نبي آپ (ص) کي نبوت و رسالت ميں ظاہر ہوتي ہے اور تمام لوگوں پر آپ کے فرامين پر عمل کرنا واجب ہے اسي طرح اوصيائے نبي (ص) کي ولايت ، ان حضرات کي امامت ميں ظاہر ہوتي ہے اور سب پر واجب ہے کہ ان کي امامت پر ايمان لائيں اور ان کے حکم کي اطاعت کريں رسول خدا نے حضرت علي عليہ السلام سے فرمايا:
ان اللہ تبارک و تعالي... و اختارني للنبو و اختارک للامام فمن انکر امامتک فقد انکر نبوتي. اللہ تبارک و تعالي نے مجھے نبوت کے لئے اور تمہيں امامت کے لئے منتخب کيا پس جس نے بھي تمہاري امامت کا انکار کيا اس نے ميري نبوت کا انکار کيا ہے اس کے بعد ارشا د فرمايا: يا علي (ع)! انت وصيي و ابو ولدي و زوج ابنتي و خليفتي علي امتي في حياتي و بعد موتي ، امرک امري و نہيک نہيي. اے علي (ع)! تم ہي ميرے وصي ، ميرے بچوں حسنين عليہما السلام کے والد اور ميري بيٹي کے شوہر ہو  ميري امت کے درميان ميري زندگي ميں اور ميري وفات کے بعد ميرے جانشين ہو  تمہارا حکم ميرا حکم اور تمہاري نہي ميري نہي ہے ۔ مرسل اعظم نے خطبہ شعبانيہ کے آخري حصہ ميں اس طرح فرماتے ہيں:
اقسم الذي بعثني بالنبو و جعلني خير البري، انک لحج? اللہ علي خلقہ و امينہ علي سرہ و خليفتہ علي عبادہ. قسم اس ذات پاک کي جس نے مجھے نبي بنايا اور مخلوقات ميں سب سے افضل قرار ديا  بے شک تم خلق خدا پر اس کي حجت ہو ، سر الہي کے راز دار اور بندگان خدا پر خليفہ اللہ ہو( ختم شد )