• صارفین کی تعداد :
  • 2568
  • 4/26/2016
  • تاريخ :

آيت الله العظمى سید شهاب الدین مرعشى نجفى ( حصّہ دوّم )

ولی  کیا ہے ؟

 

آیت الله مرعشی نجفی نے نجف، کربلا، کاظمین، سامرا، تهران اور قم میں سو سے زیاده اساتید کے سامنے زانوئے ادب ته کئے اور اُن کے علم و تقوی سے فیض حاصل کیا۔ موصوف تعلیم کے ابتدائی مرحله سے هی بلند همت، ذوق و شوق، تقوی، ذکاوت اور هوشیاری نیز دیگر اخلاقی فضائل میں مشهور تھے۔
موصوف نے متعدد شیعه مراجع تقلید سے «اجازه اجتهاد» حاصل کیا، جن میں سے بعض کے اسمائے گرامی اِس طرح هیں:
1 .آيه الله العظمى آقا ضياء عراقى ( متوفى 1361 هجری قمری)
2 .آيه الله العظمى سيد ابوالحسن اصفهانى ( متوفى 1365 هجری قمری )
3 .آيه الله العظمى شيخ عبدالكريم حايرى يزدى ( متوفى 1355 هجری قمری)
آیت الله مرعشی نے سن 1388 هجری قمری میں اپنے والد گرامی کی وفات کے بعد علوم دینی حاصل کرنے کے لئے کاظمین، سامرا اور کربلا کا سفر کیا اور برسوں تک وهاں کے حوزات علمیه میں برجسته اور جید اساتید سے فیض حاصل کیا اور آخرکار سن 1342 هجری قمری میں حضرت امام رضا علیه السلام کے روضه مقدس کی زیارت کے لئے ایران آئے۔
حضرت اما م رضا علیه السلام کے مرقد مطهر کی زیارت کے بعد تهران گئے اور حوزه علمیه تهران میں آیت الله شیخ عبد النبی نوری (متوفی 1344 هجری قمری)، آیت الله آقا حسین نجم آبادی (متوفی 1347 هجری قمری)، آیت الله مرزا طاهر تنکابنی (متوفی 1360هجری قمری)، آیت الله مراز مهدی آشتیانی (1372هجری قمری) وغیره سے علم فقه و اصول اور فلسفه و کلام کی تعلیم حاصل کی۔
دوسرے سال حضرت معصومه قم (سلام الله علیها) کے مرقد مطهر کی زیارت کے لئے آئے۔ لیکن حضرت آیت الله العظمی شیخ عبد الکریم حائری کے حکم کی بنا پر اسی شهر میں سکونت اختیار کرلی۔ موصوف نے یهاں بهی آیت الله حائری اور حوزه علمیه قم کے دیگر اساتید کے دروس میں شرکت کی اور ان کے علم سے فیض حاصل کیا۔ ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

اھل معنويت و معرفت

انيس المختار بن الحسن بن عبدون بن سعدون بن بطلان