• صارفین کی تعداد :
  • 4485
  • 3/31/2016
  • تاريخ :

بغداد میں سعودی سفیر تخریب کار

بغداد میں سعودی سفیر تخریب کار

بغداد میں سعودی عرب کے سفیر دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے کےبجائے تخریبی کردار ادا کررہے ہیں۔

بغداد میں سعودی عرب کے سفیر ثامر السبھان نے ایک بار پھر مداخلت پسندانہ بیانات دے کرصوبہ الانبار کے شہر فلوجہ کے حالات کو عراق کے بعض مسائل کا منطقی نتیجہ قرارد دیا ہے۔ بغداد میں سعودی عرب کے سفیر نے ہفتے کے دن اپنے ٹوئٹر پر یہ دعوی کیا تھا کہ فلوجہ کے حالات ان افراد کے اقدامات کا نتیجہ ہیں جو اپنے ذاتی مفادات، تفرقہ انگیزی اور جھڑپوں کے سہارے دوسروں کو کنارے لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عراق کی پارلیمنٹ اور نیشنل الائینس کے رکن فردوس العوادی نے کہا ہے کہ بغداد میں سعودی عرب کے سفیر نے ساری ریڈلائینیں پار کرلی ہیں اور حکومت عراق کو چاہیے کہ اسے ناپسندیدہ عنصر قرار دے کر ملک سے نکال باہر کرے۔ ادھر عراقی پارلیمنٹ میں بدر دھڑے کے رکن قاسم الاعرجی نے دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف فوج کے اقدامات کے بعد شہر فلوجہ کی صورتحال کے بارے میں سعودی سفیر کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں سعودی عرب کے سفیر کی موجودگی کا ھدف فتنہ انگیزی ہے اور انہیں کوئی سفارتی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے۔

واضح رہے اس سے قبل بھی بغداد میں سعودی عرب کے سفیر نے مداخلت پسندانہ بیان دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ کردوں اور الانبار کے باشندوں کی جانب سے عوامی رضا کار فورسز کی مخالفت ان کے بقول عراق میں عوامی رضا کار فورسس کی عدم مقبولیت کی نشانی ہے۔

عراق میں سعودی عرب کے سفیر کے موقف جنہیں عراق آئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں ان کی ذمہ داریوں سے تضاد رکھتے ہیں۔ان کی سرگرمیاں اور موقف عراق اور سعودی عرب کے مفادات کے دائرے میں نہیں ہیں اور ایک تخریب کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔

ہر ملک میں سفیر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مشترکہ مفادات اور تعاون میں توسیع لانے کی کوشش کرے لیکن بغداد میں سعودی عرب کے سفیر کی کارکردگی قابل دفاع نہیں ہے اور انہوں نے سفارتی سرگرمیاں انجام دینے کے بجائے منفی اھداف پر مبنی سیاسی موقف اپنارکھے ہیں اور عراق کے قومی مفادات کو پامال کرکے عمل کررہے ہیں۔

عراق میں پچیس برسوں بعد سعودی عرب کا سفارتخانہ کھلا ہے اور ثامر السبھان نے دسمبر دوہزار پندرہ سے سعودی سفیر کی حیثیت سے اپنی سرگرمیاں شروع کی ہیں اور جیسا کہ تصور کیا جاتا تھا ان کی سرگرمیاں عراقی عوام کے مفادات سے تضاد رکھتی ہیں اور ان کا حالیہ موقف بغداد ریاض کے تعلقات میں مضبوطی لانےکے بجائے عراقی عوام کی برہمی کا سبب بنا ہے۔

عراق او سعودی عرب کے تعلقات خونخوار سابق ڈکٹیٹر صدام کے زمانے میں فراز و نشیب کا شکار تھے اور دونوں ملکوں کو ممکنہ طور پر ایک دوسرے کا دشمن سمجھا جاتا تھالیکن دو ہزار تین کے بعد جب عراق میں حکومت بدلی تو بغداد اور ریاض کے لئے یہ موقع فراہم ہوا کہ وہ اپنے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنائیں لیکن سعودی عرب نے یہ نیا موقع نظر انداز کردیا اور سعودی سفیر کا مشن دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کےبجائے اس راہ میں ایک سنگین روکاوٹ ثابت ہوا۔ عراق کے ساتھ تعمیری سفارتی تعلقات اور سعودی عرب کی پالیسیوں کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ سعودی عرب عراق کو فرقہ وارانہ نگاہ سے دیکھنا چھوڑ دے۔ عراق کی آزادی اور قومی اقتدار اور اس کی ارضی سالمیت کا احترام وہ اصول ہیں جو مختلف ملکوں منجملہ سعودی عرب کے ساتھ بغداد کے اشتراک عمل کی بنیاد ہیں۔