• صارفین کی تعداد :
  • 307
  • 3/30/2016
  • تاريخ :

میڈیا میں اردو زبان کا غلط استعمال (تیسرا حصہ)

میڈیا میں اردو زبان کا غلط استعمال (تیسرا حصہ)


 پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا معاشرہ زیادہ انگریزی زدہ ہے، مگر بھارتی ہندی چینلوں پر کثرت سے سنسکرت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ انگریزی اور بالخصوص اردو کے الفاظ کے استعمال سے اجتناب برتیں۔
اس کے برعکس پاکستانی اردو چینلوں پر آدھی اردو اور آدھی انگریزی بولنے کا رواج ہے۔ تفریحی چینلوں پر جو ڈرامے نشر کیے جاتے ہیں، ان میں تو کہیں کہیں کردار کے لحاظ سے اچھی اردو سننے کو مل جاتی ہے، مگر خبروں کے چینلوں پر گفتگو کے دوران آدھی اردو اور آدھی انگریزی کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔
کچھ انگریزی کے الفاظ ایسے بھی ہیں جو خبروں کے چینلوں پر کثرت سے اردو میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسےcategorically ،heading ، having said that ،short break ،political turmoil ،law and order ،parliament ،legislation یا legislator وغیرہ۔
معروف شاعر اور ماہرِ اردو لسانیات ساحر لکھنوی کے بقول 'بعض الفاظ اپنی اصل زبان سے دوسری زبانوں تک پہنچ کر اس کا حصہ بن جاتے ہیں، ہم اسے الفاظ کی ہجرت کہتے ہیں۔' اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایک عمرانی عمل (social process) ہے جو از خود وقوع پذیر ہوتا ہے، مگر زبردستی ایک زبان میں دوسری زبان کے الفاظ استعمال کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے بلکہ سامعین کے لیے سمع خراشی کا بھی سبب بنتا ہے۔

اردو میں انگریزی کے الفاظ کا استعمال اس وقت زیادہ ضروری محسوس ہوتا ہے جب انگریزی لفظ کا کوئی مناسب اور جامع مترادف موجود نہ ہو۔ لیکن انگریزی لفظ categorically کا مترادف اردو میں 'دو ٹوک' ہے، جو زیادہ جامع اور زوردار لفظ ہے، مگر ہمارے چینلوں کے نمائندگان انگریزی الفاظ استعمال کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ شاید وہ انگریزی زبان سے مرعوب سامعین و ناظرین پر اپنا علمی رعب بٹھانا چاہتے ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں نئی نسل کے لیے اس معاشرے میں رائج زبان سیکھنے کے بہتر مواقع خاندان، اسکول اور ان کے بعد ٹی وی چینلوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے خاندان اور تعلیمی ادارے کوئی واضح کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں، جبکہ چینلوں نے تو نئی نسل کو اچھی اردو سننے کے مواقع دینے کے بجائے زبان کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ یقیناً یہ دانستہ عمل نہیں ہے، بلکہ علم و ادب سے دوری کا نتیجہ ہے۔
اس قومی المیے کے سدھار کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کے مالکان کا بھی یہ سماجی فریضہ ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایسے افراد کی خدمات حاصل کریں جو اردو زبان پر عبور رکھتے ہوں، تاکہ کم ازکم ان کے نمائندگان کی زبان کی اصلاح ہو سکے۔
پیمرا کو چاہیے کہ وہ تمام چینلوں کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اور عوامی دلچسپی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اردو کے فروغ کے لیے مہینے میں کم از کم ایک یا دو پروگرام لازمی نشر کریں، تاکہ نئی نسل میں معیاری اردو سننے اور سمجھنے کا ذوق پیدا ہوسکے۔
ختم ہوا۔