• صارفین کی تعداد :
  • 426
  • 3/30/2016
  • تاريخ :

میڈیا میں اردو زبان کا غلط استعمال (دوسرا حصہ)

میڈیا میں اردو زبان کا غلط استعمال (دوسرا حصہ)


لیکن انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا کی شاید وہ واحد قوم ہے جو اپنی قومی زبان کے اصول و قواعد یعنی گرامر ہی تبدیل کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے چند جملے بطورِ مثال پیش خدمت ہیں، جیسے 'آپ کیا کرتے ہو'، 'آپ جاؤ گے'، 'آپ چائے پیو گے' یعنی ایک ہی جملے میں تعظیم بھی ہے اور تذلیل بھی۔ اسے اصطلاح میں شترگربہ کہتے ہیں۔
لڑکیوں کے لیے لفظ 'بیٹی' کی جگہ 'بیٹا' استعمال کرنا غلط العام تصور کیا جاتا ہے۔ بیٹیوں یا لڑکیوں کے لیے ان جملوں کا استعمال کہ 'بیٹا آپ کہاں جارہے ہو' یا 'آپ کیسے ہو' وغیرہ نہ صرف قواعد کی رُو سے غلط ہیں بلکہ ناقابلِ قبول بھی ہیں۔
اردو قواعد کی غلطیاں اتنی عام ہوچکی ہیں کہ لفظ 'عوام' کی جنس ہی تبدیل کردی گئی ہے، یعنی اس انتہائی عام لفظ کو مذکر سے مونث بنا دیا گیا ہے۔ سیاستدان اور بالخصوص الیکٹرونک میڈیا کے نمائندگان اکثر و بیشتر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ 'عوام بیچاری مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئی ہے'، 'عوام تو بے اختیار ہوتی ہے'، وغیرہ۔ قواعد کے اعتبار سے یہ غلطیاں سنگین تصور کی جاتی ہیں۔
کچھ غیر معیاری الفاظ عام بول چال میں استعمال ہوتے ہیں، ان الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ جیسے لفظ 'گڑبڑ' کی جگہ 'پنگے' کو استعمال کرنا، اسی طرح 'کہا' کے بجائے 'بولا'، 'مجھے' کی جگہ ' میرے کو'، 'کیا 'کی جگہ 'کرا' وغیرہ۔ ان غیر معیاری الفاظ کا استعمال الیکٹرونک میڈیا پر صحافی کثرت سے کرتے ہیں۔ اس حوالے سے صحافیوں پر زیادہ تنقید کا سبب ان کی سماجی اور پیشہ ورانہ حیثیت ہے۔
چاہے پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک، صحافت الفاظ کو مستحسن انداز میں برتنے کا نام ہے۔ خبروں اور مباحثوں پر مبنی مختلف پروگراموں میں جلوہ افروز ہونے والے میزبانوں (جنہیں دورِ حاضر میں اینکرپرسن کہا جاتا ہے) کی گفتگو سنی جائے یا خبر پڑھنے والوں کو سنا جائے، تو بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ زیادہ تر افراد اردو زبان کے بنیادی اصولوں سے نہ صرف ناواقف ہیں بلکہ ذخیرۂ الفاظ کی قلت کا بھی شکار ہیں۔ موزوں اور مناسب الفاظ کے انتخاب کا جوہر ہر صحافی میں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب الفاظ کا درست تلفظ بالخصوص الیکٹرونک شعبۂ خبر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اردو میں لکھی جانے والی اچھی کتب کا مطالعہ کسی بھی فرد کو زبان کے بنیادی اسرار و رموز سے آشنا کرتا ہے، مگر کتب بینی کی ثقافت ہمارے معاشرے سے ناپید ہوتی جارہی ہے، اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بھی یقیناً اس تنزلی کا شکار ہیں۔
ہمیں چینلوں پر اکثر میزبان طویل سوالات کرتے نظر آتے ہیں جو پیشہ ورانہ مہارت کے خلاف ہے، لیکن اس کی وجوہ میں ذخیرۂ الفاظ کی کمی ہے اور یہ کمی کثرتِ مطالعہ سے دور ہوتی ہے۔
معروف اردو تاریخ دان ڈاکٹر سلیم اختر نے لفظ کی قدروقیمت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی کتاب 'اردوادب کی مختصرترین تاریخ' میں لکھا ہے کہ 'لفظ کی اپنی انفرادیت ہوتی ہے، لہٰذا آدمی کی مانند اس کا احترام بھی لازم ہے۔ لیکن خود غرضی کی جس فضا میں ہم سانس لے رہے ہیں اس کے باعث انصاف، اداروں اور قدروں کے ساتھ ساتھ لفظ بھی بے اعتبار ہوا، پہلے سیاستدانوں کے ہاتھوں، پھر مُلاؤں کے ہاتھوں، پھر صحافیوں اور ادیبوں کے ہاتھوں۔'
جاری ہے۔۔۔