• صارفین کی تعداد :
  • 415
  • 3/30/2016
  • تاريخ :

میڈیا میں اردو زبان کا غلط استعمال (پہلا حصہ)

میڈیا میں اردو زبان کا غلط استعمال (پہلا حصہ)


یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان ہونے کے باوجود ملک میں وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جو ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس زبانِ غیر ہونے کے باوجود انگریزی ملک میں راج کررہی ہے۔
چلیں یہاں تک تو پھر بھی قابلِ برداشت ہے۔ لیکن قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ پاکستان میں روز بروز ترقی کرنے والا الیکٹرونک میڈیا اردو زبان کی مزید زبوں حالی کا سبب بن رہا ہے۔ زبان کے قواعد و ضوابط کے اعتبار سے اردو کا غلط استعمال الیکٹرونک میڈیا پر عام ہے جو یقیناً اہلِ زبان اور صاحبانِ علم کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے کیونکہ غلط یا غیر معیاری زبان کا فروغ پہلے ہی سے ملک میں عدم توجہ کا شکار اردو کی مزید بربادی کا باعث بن رہا ہے، حالانکہ یہی تفریحی اور خبروں کے چینل اردو زبان کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
غلط اردو کا استعمال ٹی وی ڈراموں، اشتہارات، سیاسی و معاشرتی مباحثوں، خبروں، اور صبح نشر ہونے والے مارننگ شو وغیرہ میں عام ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں ایک انتہائی غیر معیاری اور غلط زبان وجود میں آرہی ہے۔
ٹی وی چینلوں پر سیاسی اور سماجی مسائل پر بے باک اور بے لاگ تبصرہ کرنے والے اور خبریں پڑھنے والے خواتین و حضرات کی اردو سے شرمناک حد تک ناواقفیت بھی زبان و لسان کی اس زبوں حالی کی اہم وجوہ میں سے ایک ہے، لیکن اس اعتبار سے سرکاری ٹی وی نے اپنے معیار کو تا حال بلند کر رکھا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر باقاعدہ اردو شناس افراد کو ملازم رکھا جاتا رہا ہے، تاکہ زبان کا صحیح استعمال ہوسکے۔ میزبانوں کے انتخاب میں سرکاری ٹی وی کا معیار بالخصوص ماضی میں اتنا بلند ہوا کرتا تھا کہ قریش پور،عبیداللہ بیگ، ضیاء محی الدین، طارق عزیز، مستنصر حسین تارڑ، انور مقصود، لئیق احمد، اور فراست رضوی جیسے شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور صاحبانِ مطالعہ افراد کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔
لیکن دورِ حاضر میں نجی چینلوں پر معاملہ یکسر مختلف نظر آتا ہے۔ یہاں زبان انتہائی مظلوم نظر آتی ہے۔ تذکیر و تانیث، تلفظ اور بنیادی قواعد کی غلطیاں عام ہوچکی ہیں۔
تلفظ کے بارے میں تو صاحبانِ زبان و لسان ذرا رعایت سے کام لیتے ہیں، کیونکہ بعض افراد جن کی مادری زبان اردو کے علاوہ کوئی اور ہو تو وہ تلفظ میں تھوڑی بہت غلطیاں کرتے ہیں جو کسی حد تک مخارج کی مجبوری ہوا کرتی ہیں۔ جیسے پنجابی حضرات 'ق' کو 'ک'، اور فارسی بان 'ق' کو 'غ' پڑھتے ہیں، گجراتی بولنے والے 'س' کو 'ش' اور 'ش' کو 'س' تلفظ کرتے ہیں، بھارت میں سنسکرت بولنے والوں میں 'ج' کو 'ز' یا 'ذ' تلفظ کرنے کا عام رجحان ہے۔
جاری ہے۔۔۔