• صارفین کی تعداد :
  • 4250
  • 3/8/2016
  • تاريخ :

دنیا کا ایک قدیم ترین پل

دنیا کا ایک قدیم ترین پل

ایران ایک تاریخی ملک ہے جہاں دنیا کی قدیم ترین ثقافت کے ساتھ قدیم ترین مقامات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایران کے مختلف علاقوں میں بہت سے تاریخی پل بھی ملتے ہیں جو اس علاقے میں آمد و رفت کی سہولیات کو زمانہ قدیم میں بہتر بنانے کی عکاسی کرتے ہیں ۔ انہیں پلوں میں سے ایک قدیم ترین پل ہے جو ایران کے جنوب مغربی شہر شوستر اور دزفول کے درمیان جدید پل کے قریب واقع ہے ۔ یہ پل " پل شادروان شوشتر یا بند قیصر" کے نام سے معروف ہے ۔ اس کی قدمت کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس پل کو ساسانی دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا ۔
یہ پل-بند کہ جس کے بارے میں یہ بھی معروف ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین پل ہے ۔ اس پل کے  44  بڑے دہانے جبکہ 43 چھوٹے دہانے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ  یہ پل بھی موسمی تبدیلیوں اور قدمت کی بدولت خراب ہوتا گیا اور اس وقت اس پل کے 9 شمالی دہانے جبکہ 28 جنوبی دھانے باقی بچے ہیں ۔ اس پل کی لمبائی 500  میٹر ہے جو کہ اس رودخانے کے عرض سے تھوڑی ہی زیادہ ہے  جس پر یہ پل واقع ہے ۔
اس بند پر دو قوس محدب ہیں جو پانی کے بہاو کی طرف ہیں اور مشرق کی طرف ایک قوس مقعر ہے جو پانی کے بہاو کے برعکس ہے ۔یہ زاویے اس بند کو ایک الگ سا حسن بخشتے ہیں ۔
اس پل کی تعمیر میں پتھر اور لوہے کا استعمال کیا گیا اور اس کی تعمیر میں تین سال کا عرصہ لگا تھا ۔ اس پل کی تعمیر میں سنگ لاشہ اور ملات ساروج کے ساتھ مصالحے کے طور پر مٹی کا استعمال کیا گیا ۔ پل کی بنیادوں کو تراشے ہوۓ پتھروں سے مضبوط بنایا گیا اور بعد میں لوہے کی مدد سے اسے مضبوطی دی گئ ۔ شادروان کے معنی فرش یعنی زمین کے بھی ہیں اور چونکہ اس پل کی بنیاد کو تراشے ہوۓ پتھروں سے مضبوط بنایا گیا تھا اسی لیۓ یہ شادروان کے نام سے معروف ہو گیا ۔اس پل کی تعمیر کا ایک مقصد پانی کی سطح کو بلند کرنا تھا تاکہ ارد گرد کی زمینوں کو پانی کی دستیابی ممکن بنائی جاۓ ۔
مشرقی روایات کے موجب شاپور اول ، ساسانی بادشاہ نے  روم کے بعض افراد کی گرفتاری کے بعد انہیں پل کی تعمیر پر مجبور کیا اور قدیم زمانے میں اس کی لمبائی 1500 قدم بتائی گئی تھی اور اس وقت بھی یہ پل کارون کے پانی کو کھیتی باڑی کے لیۓ استعمال کرنے کے لیے مفید ہے ۔ 
ایرانی اس دور میں رومیوں کی فن مہارت کو بہت اہمیت دیتے تھے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ پل بھی رومی انجینئروں نے ہی تعمیر کیا ۔ یہ پل ایران کے دوسرے 15 مقامات کے ساتھ یونیسکو کی بین الاقوامی ورثے کی فہرست میں درج ہے ۔

 


متعلقہ تحریریں:

دزفول میں  تاریخی  جگہیں
ايران کے قديم ترين شھر کا سفر