• صارفین کی تعداد :
  • 4817
  • 1/20/2016
  • تاريخ :

پاکستان کی ثالثی کے لیۓ کوششیں

پاکستان کی ثالثی کے لیۓ کوششیں

پاکستان کے اعلی رتبہ وفد کے دورہ تہران کا مقصد ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی کم کرانا ہے-

پاکستانی وزیر اعظم، دورہ تہران سے پہلے ریاض گئے تھے اور سعودی حکام سے ملاقات اور گفتگو کی تھی- سعودی عرب اور ایران کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات اور باہمی تعاون ہے- پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرا کے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے ساتھ ہی دونوں ملکوں میں اپنے مفادات کو برقرار رکھے-

ایران کے نائب وزیر خارجہ ابراہیم رحیم پور نے پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ تہران کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کسی ملک کے ایسے پہلے اعلی عہدیدار ہیں جو جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بعد ایران کا دورہ کر رہے ہیں- رحیم پور کے بقول پاکستانی وزیراعظم اور ان کے ہمراہ وفد کا یہ دورہ، ایک روزہ ہے-

باہمی احترام ، تعمیری اور جیت - جیت پر مبنی گفتگو نیز مسائل کے حل کے لئے عاقلانہ سفارتکاری پر اصرار، جامع مشترکہ ایکشن پلان پر منتج ہوئی ہے اور علاقے بالخصوص پڑوسی ممالک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے تعلقات میں یہ روش عملی طور پر کامیاب رہی ہے- پڑوسیوں پر خاص توجہ اور اچھا پڑوسی ہونے کے اصولوں کی پابندی، پڑوسیوں کے ساتھ ایران کے اشتراک عمل کی بنیاد ہے- ایران نے دوسروں خاص طور پر پڑوسیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنے میں ہمیشہ ہی سفارتکاری، مفاہمت اور مشترکہ تعاون پر تاکید کی ہے اور اس نے اسی اصول کی روشنی میں علاقے میں پائدار امن اور تعلقات کو فروغ دیا ہے-

ایران ، عاقلانہ سفارتکاری کو علاقے میں امن و استحکام کا ضامن سمجھتا ہے اور ہرگز علاقے میں کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے-

جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد نے کشیدگی پیدا کرنے والی کسی بھی روش پر سفارتکاری کی افادیت کو ثابت کرنے کے ساتھ ہی واضح کردیا ہے کہ ایران ، ایک امن پسند ملک ہے اور کسی بھی ملک خاص طور پر پڑوسیوں کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا-

پاکستان اور سعودی عرب دونوں ایران کے پڑوسی ملک ہیں اور عالم اسلام میں دونوں ہی خاص اہمیت کے حامل ہیں-

ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے اسٹریٹیجک تعلقات ہیں اور دونوں مختلف میدانوں بالخصوص سیکورٹی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں- ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون و تعلقات دونوں ملکوں اور آخرکار دونوں ملکوں کے عوام اور امت مسلمہ کے مفاد کی تکمیل کرتے ہیں- ملکوں اور قوموں کے مفادات اسی وقت پورے ہوسکتے ہیں جب علاقے میں مضبوط امن و سکون قائم ہو-

ایران ، علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے اور بنیادی طور پر ایران کے خارجہ تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کا واضح ثبوت و مصداق جامع مشترکہ ایکشن پلان اور اس کا کامیابی سے ہمکنار ہونا ہے- اس کے ساتھ ہی خلیج فارس کے علاقے میں سعودی عرب کی کشیدگی پیدا کرنے کی پالیسی اور بحران پیدا کرنے کی اس پالیسی میں دوسروں کو شامل کرنے اور ہمنوا بنانے کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا صبر و تحمل، تہران کی عاقلانہ سفارتکاری کی افادیت کو ثابت کرتا ہے کہ جو ہرگز کشیدگی نہیں پیدا کرنا چاہتا-

اسی تناظر میں تہران ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستانی وزیر اعظم اور چین کے صدر سمیت دیگر ممالک کی ثالثی اور کوششوں کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے- ریاض اور تہران میں پاکستانی وزیر اعظم کے صلاح و مشورے کے بعد چین کے صدر بھی اسی مقصد کے تحت ریاض اور تہران میں سعودی عرب اور ایران کے حکام سے ملاقات اور گفتگو کریں گے-

 


متعلقہ تحریریں:

یمن پر سعودی جارحیت بدستور جاری

ایران کے ایٹمی تنازعے کا کامیاب حل