• صارفین کی تعداد :
  • 5516
  • 7/4/2015
  • تاريخ :

رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ (دوسرا حصہ)

رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ (دوسرا حصہ)

اس عیش اور آرام کی تلاش میں انسان خدا و آخرت کو بھول جاتا ہے۔وہ فانی دنیا کو اپنا مقصد بناتا اور ہر اخلاقی قدر کو فراموش کردیتا ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نوع انسان کا شکاری بن جاتا ہے۔ پھر ظلم اور گمراہی کی وہ ساری اقسام وجود میں آتی ہیں جن سے بحر و بر میں فساد پھیل جاتا ہے۔انسانوں کی جان، مال، عزت و آبرو انہی جیسے انسانوں کے ہاتھوں پامال ہوتی ہے۔ انسان کا اخلاقی وجود اس کی حیوانی خواہشات کے سامنے ڈھیر ہوجاتا ہے۔
    اس صورتحال کا واحد حل وہ قرآنی ہدایت ہے جو پوری قوت کے ساتھ قیامت کے ہولنا ک زلزلے سے انسانوں کو ڈراتی ہے۔وہ اس روز سے انسانوں کو خبردار کرتی ہے جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی اور حسن وزینت کے تمام آثار مٹا کر زمین ایک چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ وہ دن کہ جب لوگ اپنے سوا ہر چیز کو بھول جائیں گے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ. يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ. (الحج 22:1-2)
اے لوگوں !اپنے رب سے ڈرو۔ بے شک قیامت کی ہلچل بڑی ہی ہولناک چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھوگے،اس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھوگے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی بڑی ہولناک چیز۔
جو لوگ قرآن کی اس پکار پر توجہ دیتے ہیں اور آخرت کی کامیابی کو اپنی منزل بنالیتے ہیں قرآن ان کے سامنے ایک واضح نصب العین رکھتا ہے۔ فرمایا۔
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى. (الاعلیٰ87:14)
بے شک فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی۔
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا. فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا. قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا. وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا. (الشمس91:6-10)
اور نفس گواہی دیتا ہے، اور جیسا اسے سنوارا۔ پھر اس کی نیکی اور بدی اسے سجھا دی کہ فلاح پا گیا وہ، جس نے اس کو پاک کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے آلودہ کیا۔
یہ آیات کھول کر بتاتی ہیں کہ آخرت کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنا تزکیہ کرتا ہے یا نہیں۔ یہ تزکیہ رہبانیت جیسی کوئی چیز نہیں بلکہ ایمان و اخلاق کو خراب کرنے والی  آلائشوں سے خود کو بچانے کا عمل ہے۔ان آیات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ نفس انسانی میں خیر و شر کا پورا شعور شروع دن ہی سے موجود ہے اور اسی علم کی بنیاد پر انسان یہ جانتا ہے کہ اسے اپنے آپ کو کن آلائشوں سے بچانا اور کن چیزوں کو اختیار کرنا ہے۔
    یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں انسان اخلاق سے عاری نہیں بلکہ فطرت کا عطا کردہ پاکیزہ لباس پہن کر آتا ہے۔ اس لباسِ فطرت کے دامن میں شرک کا کوئی داغ اور الحاد کا کوئی دھبہ تک نہیں ہوتا۔ اس پر ظلم کا میل اور ہوس کی گندگی نہیں لگی ہوتی۔ مگر دنیا میں موجود شیطانی ترغیبات، حیوانی خواہشات اور ماحول کے اثرات انسان کو گمراہی کے راستوں پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ فطرت میں موجود خیر و شر کے تصورات کو بھول کر خواہش نفس کی پیروی اختیار کرتا ہے۔ جیسے جیسے وہ اس راہ پر آگے بڑھتا ہے، یہ گرد آلود راستہ دامنِ دل اور لباسِ فطرت کو غلیظ سے غلیظ تر کرتا چلاجاتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔


ماہ رمضان کی فضیلت

سورہ ياسين کا اثر انسان کي زندگي پر