• صارفین کی تعداد :
  • 7306
  • 6/8/2015
  • تاريخ :

یمن پر سعودی جارحیت بدستور جاری ( حصّہ دوّم )

یمن پر سعودی جارحیت بدستور جاری ( حصّہ دوّم )

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان نے امریکی وفد کے ساتھ ملاقات کی تردید کی ہے-
لبنان کے المیادین ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انصار اللہ کے ترجمان ضیف الشامی نے کہا کہ تحریک انصاراللہ کے نمائںدے عمان کی حکومت کی دعوت پر مسقط گئے ہیں تاہم انھوں نے امریکی وفد کے ساتھ ملاقات نہیں کی ہے- ضیف الشامی نے جنیوا کانفرنس کے بارے میں بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ یمن کی تمام سیاسی جماعتیں اس کانفرنس میں شرکت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ یمن سے فرار ہو جانے والے مستعفی صدر عبد ربه منصور ہادی کو بھی ایک سیاسی فریق کی حیثیت سے اس کانفرنس میں شرکت کا حق حاصل ہے- واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام رواں مہینے کے اواخر تک جنیوا میں یمن کی مختلف سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلائی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل سعودی عرب اور عبد ربه منصور ہادی کی جانب سے پیشگی شرائط رکھے جانے کی بنا پر یہ کانفرنس ملتوی ہو گئی تھی-
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یمن میں جنگ سے متاثرہ پچیس لاکھ سے زیادہ افراد کی مدد کے لئے ماہانہ 43 ملین ڈالر مدد کی ضرورت ہے-
ارنا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ سے وابستہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان الیزابتھ بائرز نے کہا ہے کہ اس ادارے کو رواں ماہ کے اواخر تک جنگ یمن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی مدد کے لئے مزید مالی مدد کی ضرورت پڑے گی- ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان نے مزید کہا کہ یمن میں جنگ سے متاثرہ پچیس لاکھ سے زیادہ افراد کی مدد کے لئے ماہانہ 43 ملین ڈالر مدد کی ضرورت ہے- واضح رہے کہ اس وقت یمن کے ایک کروڑ پچیس لاکھ افراد اشیائے خورد و نوش سے بھی محروم ہیں جس کی وجہ سے ان کے لئے زندہ رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے- یمن پر سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کے باعث کم از کم بیس لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں- یمن مشرق وسطی کا ایک غریب ترین ملک ہے- یمن خوراک کی نوے فیصد ضروریات دوسرے ممالک سے پوری کرتا ہے اور سعودی عرب کے حملوں کی بنا پر اس ملک میں امدادی سامان بھیجنا بہت مشکل ہو چکا ہے-

 

بشکریہ آئی آر آئی بی

متعلقہ تحریریں:

امریکی حمایت یافتہ داعش گروہ

یمن کی سلامتی کو ایران کی سلامتی سمجھتے ہیں