• صارفین کی تعداد :
  • 1659
  • 5/5/2015
  • تاريخ :

یمن کےخلاف آل سعود کی جنگ

یمن کےخلاف آل سعود کی جنگ

سعودی عرب نے امریکی مدد سے مظلوم یمنی عوام پر حملہ کر رکھا ہے ۔ امریکہ اور سعودی عرب یقینی طور پر باطل محاذ کے علمبردار ہیں اور یمن کے خلاف جنگ میں باطل محاذ کی شکست اور ناکامی یقینی ہے۔اسکائی نیوز کے مطابق  امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیرکا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر حملہ سے پہلے بڑے شیطان امریکہ اور علاقہ میں اس کے ساتھیوں کے ساتھ مشورے کیا اور اس کے بعد حملہ کیا ہے اور بڑے شیطان اور اس کے ساتھیوں کی چھوٹے شیطان سعودی عرب  کو بھر پور حمایت حاصل ہے۔ سعودی عرب نے جنگ چھیڑ تو دی ہے لیکن وہ اسے ختم نہیں کرپائے گا اگر سعودی عرب پوری پاکستانی فوج کو بھی اپنی حمایت کے لئے بلا لے تب بھی اسے یمن کے خلاف جنگ میں شکست نصیب ہوگی۔ اور پاکستانی فوج کو اس جنگ میں شرکت کرنے سے بہت بڑا نقصان پہنچے گا جس کی بنا پر پاکستان کو تباہ کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کی کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھی اسے پاکستان کے لئے تباہ کن اقدام قراردیا ہے۔ یہ جنگ ظالم اور مظلوم کے درمیان ہے اس میں پاکستان کو شامل نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن کیا کیا جائے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے سعودی شہزادوں سے اتنے تحفہ حاصل کئے ہیں جن کے بدلے میں نواز شریف کو سعودی شہزادوں کی حفاظت اور بقا کے لئے پاکستان کے سیکڑوں اور ہزاروں فوجیوں کی جان کی قربانی دینا پڑے گی ۔ سعودی عرب کے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفہ کا راز اب کھل گیا ہے کہ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو اس حساس موقع کے لئے پہلے ہی کثیر رقم فراہم کردی تھی ۔ پاکستان اور پاکستان جیسے دوسرے ممالک سعودی عرب کے جرائم پیشہ شہزادوں کو اللہ تعالی کے قہر و غضب سے ہر گز نہیں بچا پائیں گے اور سعودی شہزادوں اور ان کے حامیوں کی اس ظالمانہ جنگ میں شکست یقینی ہے کیونکہ اللہ تعالی ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ ہے۔ یمن پر آل سعود نے حملے جاری رکھنے کےساتھ ساتھ اپنے ان حملوں کا جواز پیش کرنے  کے لئے ایک ٹی وی چینل بنایا ہے جس میں ایران کے العالم ٹی وی کی تصویریں نشر کی جارہی ہے۔ اس سے قبل بھی آل سعود نے العالم ٹی وی چینل کے یوٹیوب اور ٹوئيٹر اکاونٹ ہیک کردئے تھے اور ان پر یمن میں انصاراللہ کے لیڈروں کی شہادت کے بارے میں جھوٹی اور بے بنیاد خبریں نشر کی تھیں۔ ( جاری ہے )

 


متعلقہ  تحریریں:

یمن کی سلامتی کو ایران کی سلامتی سمجھتے ہیں

عراقی معاملات میں امریکی خیانت