• صارفین کی تعداد :
  • 3119
  • 2/20/2015
  • تاريخ :

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ ہشتم)

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ ہشتم)

پروین ان تحفظات کی بنا پر ، جن کے بارے میں وہ مفصل طور پر بیان نہیں کر سکتیں، اس سلسلے میں صنعت مناظرہ سے بہت زیادہ استفادہ کیا اور اشیا کی تجسیم کرتے ہوئے حرفوں میں بیان کیا ہے اور کسی میں کب ہی ایسی جرأت کہ ایسا اظہار خیال کرے۔ انھوں نے لہسن اورپیاز، تکلہ اور سینے پروئے کو تقویت بخشتی تا کہ وہ آزادانہ طور پر ظلم کے خلاف جنگجوئی کے جملات کو ان کی زبان میں ادا کرتے ہوئے اپنے مخاطب تک پہنچا سکیں۔ آپ کے دیوان میں ۲۴ میں سے ۶۵ کتابیں مناظرے کی صورت میں ملتی ہیں۔ آپ کے اشعار فقر اور لوگوں کی کمزوری کی تشریح کرنے کی بجائے لوگوں کو علم و ھنر سیکھنے کا شوق دلاتے ہیں۔ لوگوں کو حرف نجات دلانا بالخصوص عورتوں کو کمزوری اور ظلم و ستم سے بچانے کے لیے علم و معرفت کا حاصل کرنا۔ ان کے نزدیک ضروری ہے۔ اس لیے کہ ایرانی عورت ترقی کرتے ہوئے اپنی آزادی حاصل کر سکے اور پروین شروع میں لازمی سمجھتی ہیں کہ عورتیں علم و دانش کی تحصیل میں مشغول ہوں۔ ایران میں رضا شاہ کی ڈکٹیٹر شپ کے زمانے میں عورتوں کو مجبور کیا گیا کہ ترک حجاب کریں اور یورپی عورتوں کی تقلید کرتے ہوئے یورپی لباس زیب تن کریں۔ رضا شاہ اس کام کے سلسلے میں دلیل دیتے تھے کہ اس سے یورپین لباس کے استعمال سے عورتوں کی ترقی ہوگی اور زیادہ اہمیت کی حامل ہوں گی۔ جبکہ پروین اور دوسرے روشن فکر اس بات کے مخالف تھے اور ان کا کہنا یہ تھا کہ ترقی کرنے کی اصل دلیل وہ یہ نہیں جو بیان کی جا رہی ہے بلکہ کچھ اور ہے۔ ’’زن در ایران‘‘ (ایران میں عورت) پروین کے اعلیٰ سوچ کے نتیجے میں ہم ایرانی عورت کو تلاش کر سکتے ہیں:
زن در ایران ، پیش از این گویی کہ ایرانی نبود
پیسہ اش ، جز تیرہ روزی و پریشانی نبود
زندگی و مرگش اندر کنج عزلت می گذشت
زن چہ پود آن روزھا ، گرز آن کہ زندانی نبود

کس چوزن اندر سیاہی فرنھا منز لنکڑ
کس چوزن در معبد سالوس ، قربانی نبود
پروین نہ صرف ایرانی عوتوں کی بدحالی سے آگاہ تھیں بلکہ ان کے مستقبل کے بارے میں بھی پیش گوئی کر سکتی تھیں۔ اسی لیے وہ عورتوں کی اندھی تقلید کی مخالفت کرتے ہوئے کہتی ہیں:
بھر زن تقلید تیہ فتنہ و چاہ بلاست
زیرک آن زن ، کو رھش این راہ ظلمانی نبود
آب و رنگ از علم می باسیت ، شرط برتری
باز مرد بادہ و لعل بدخشانی نبود
ڈاکٹر سیروس شیما کے مطابق: ’’اعتصامی کی رائے میں عورتوں کی آزادی سے مراد حصولِ تعلیم کی آزاد ی ہے اگرچہ انھوں نے ایک امریکی سکول میں تعلیم پائی تھی لیکن اس کے باوجود وہ اپنی سماجی اقدار سے بخوبی آگاہی تھیں۔‘‘
از زرو زیور یہ سود آنجا کہ نادان است زن
زیور و زر ، پردہ پوش عیب نادانی نبود
پروین اعتصامی کی ابتدائی نظموں ہی سے ظاہر ہے کہ وہ دوسروں کی تقلید اور علم و دانش سے دودی کو عوام الناس کی بدنصیبی کا باعث سمجھتی تھیں۔ ہمیں سیکھنا بھی چاہیے اور جاننا بھی چاہیے کہ خوش نصیبی کا حصول کہنے ممکن ہے۔ حقیقت پسندی کے قواعد و ضوابط کا خالق شانفلوری ۱۸۴۳ء میں حقیقت پسندی کے ہدف کو یوں بیان کرتا ہے۔ ’’جاننا کچھ انجام دینے کے لیے، یہی میرا عقیدہ ہے۔ سماجی آداب اور اخلاق سے آگاہی ضروری ہے۔‘‘
پروین نے بھی اسی آرزو کو پانے کے لیے معرفت کا راستہ اختیار کیا۔
علم ، پیوند رواں توھمی چوبد
توھمی پارہ کنی رشتہ ی پیمائش

از کمال و ھنر جان ، توشوی کامل
عیب و نقص تو شعر دیسی و نقصانش

جھل چو شب پرہ و علم چو خورشید است
نکند ھیچ چز این نور ، گریز اش

حقیقت پسندی کا زمانہ انسانی ذہن کی حساسیت اور رومانویت کے تخیل کی طاقت کا زمانہ ہے۔ جب شاعر تخیل سے دور ہو جاتا ہے اور عقل کے راستے پر قدم رکھتا ہے اور روشن فکری کی طاقت سے بدعتوں کا سامنا کرتا اور اندھیر تقلید سے گریز کرتا ہے۔ نطشے نے اپنے عہد کو لامحدود ارادے سے حقیقت تک پہنچنے کا نام دیا ہے۔ (۷) اسی بنا پر پروین بھی دلسوری کے ساتھ انسانیت کی نجات کا راستہ علم و عقل کی وساطت ہی سے دیکھتی ہیں۔ اس عہد میں عقل سے استفادہ اہمیت اختیار کر جاتگا ہے۔ یہاں تک کہ علامہ اقبال نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔
قوت افرنگ از علم و فن است
از ھمین آتش چراغش روشن است
علم و فن را ای جوان ، شو خو ، شنگ
مغزمی باید نہ ملبوس فرنگ

(جاری ہے)


متعلقہ تحریریں:

پروین اعتصامی ایک عظیم شاعرہ

پروین اعتصامی کی شاعرانہ صلاحتیں